میرا نام ثنا ہے۔ میں ضلع نارووال کے ایک چھوٹے سے خوبصورت گاؤں چندر کے راجپوتاں کی رہنے والی ہوں۔ اس وقت میری عمر 22 سال ہے اور الحمدللہ میں اپنے ماں باپ کی پہلی اولاد ہوں۔اور اپنے والدین کی پہلی اولاد ہونا میرے لیے فخر کی بات بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔
میرے ابو جی کا نام محمد اجمل ہے۔ وہ ایک کسان اور مزدور ہیں۔ میں نے بچپن سے اپنے بابا کو محنت کرتے ہوئے دیکھا ہے، دھوپ میں، سردی میں، ہر موسم میں وہ ہمارے لیے محنت کرتے رہے۔ انہوں نے کبھی اپنی تھکن کو ہمارے سامنے ظاہر نہیں ہونے دیا۔ میری امی جی کا نام صائمہ اجمل ہے، جو ایک گھریلو خاتون ہیں۔ میری امی جی ہماری دنیا ہیں، جنہوں نے ہمیں محبت، صبر اور دعاؤں کے ساتھ پالا ہے۔ میرے والدین کی دعائیں ہی ہیں جن کی وجہ سے آج میں یہاں کھڑی ہوں۔
میرے گھر میں مجھ سے چھوٹے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ محمد فیضان علی، ملائکہ رانی، ماہا شہزادی اور محمد سبحان اجمل۔ یہ سب میری جان ہیں۔ میں بڑی ہوں، اس لیے کبھی ماں کی طرح ڈانٹ بھی دیتی ہوں اور کبھی دوست کی طرح ان کے ساتھ ہنس بھی لیتی ہوں۔
اس کے علاوہ میرے ایک بڑے بھیا ہیں، محمد بلال، جو میرے بڑے ابو جی کے بیٹے ہیں۔ لیکن میں انہیں کبھی تایا زاد نہیں سمجھتی۔ میرا بچپن انہی کی گود میں کھیل کر گزرا ہے۔ میں انہیں اپنے سگے بھائیوں سے بھی زیادہ مانتی ہوں اور وہ مجھے اپنی اولاد کی طرح سمجھتے ہیں۔ وہ مجھے پیار سے "پُتر" کہتے ہیں اور جب وہ یہ لفظ کہتے ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ دنیا کی ساری محبت اس ایک لفظ میں سمٹ گئی ہے۔ الحمدللہ میں اپنے ہیرے جیسے بھتیجے کی پسندیدہ پھوپھو ہوں اور پھپھو ہونا میرے لیے سب سے خوبصورت رشتہ ہے۔
اب میں اپنے گھر کی ان دو ہستیوں کا ذکر کرنا چاہتی ہوں جو آج ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر میرے دل میں ہمیشہ زندہ ہیں۔
میرے بڑے ابو جی، میں ان کی لاڈلی تھی۔ ان کا پیار، ان کی شفقت، ان کی دعائیں، میں کبھی نہیں بھول سکتی۔ انہیں ہمیں چھوڑے ہوئے اس وقت 4 ماہ ہو گئے ہیں۔ ان کے جانے کے بعد گھر میں ایک خلا سا آ گیا ہے، جو کبھی نہیں بھرے گا۔
اور اب میرے ابو جی اپنی دو بہنوں کا سب کچھ ہیں۔ ان کا میکہ، ان کا بھائی، ان کا سہارا، سب کچھ میرے ابو جی ہی ہیں۔ بڑے ابو جی کے جانے کے بعد اب میرے ابو جی ہی ہیں جو اپنی بہنوں کے لیے کھڑے ہیں۔ ان کی خوشی میں بھی، ان کے غم میں بھی۔ ہر دکھ سکھ میں میرے ابو جی ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ مجھے اپنے ابو جی پر بہت فخر ہے کہ وہ صرف ہمارے ہی نہیں، اپنی بہنوں کے بھی سب سے بڑے سہارے ہیں۔ اللہ پاک میرے ابو جی کو لمبی زندگی اور صحت دے، آمین۔
اور میری شفیق دادی جان، جو بہت پرہیزگار اور بیوہ خاتون تھیں۔ ان کی دعاؤں میں بہت اثر تھا۔ وہ ہمیں ہمیشہ اچھی باتیں سکھاتی تھیں، نماز کا، صبر کا، اور بڑوں کی عزت کا درس دیتی تھیں۔ انہیں ہمیں چھوڑے ہوئے 5 سال ہو چکے ہیں لیکن آج بھی جب میں کوئی اچھا کام کرتی ہوں، تو مجھے لگتا ہے کہ ان کی دعا میرے ساتھ ہے۔ اللہ پاک ان کی قبر کو نور سے بھر دے، آمین۔
اگر میں اپنی تعلیم کی بات کروں تو میری ایف ایس سی مکمل ہے۔ میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی، یہ میرا بچپن کا خواب تھا۔ میں نے بہت محنت کی تھی، الحمدللہ میں نے میٹرک میں اپنے سکول میں ٹاپ کیا تھا۔ الحمداللہ مجھے PEEF والوں کی طرف سے پنجاب بینک سے سکالر شپ بھی مل چکی ہے۔ مجھے لگتا تھا کہ میری زندگی ایک سیدھی لائن پر چلے گی لیکن پھر زندگی نے ایک موڑ لیا۔ میرا ایک حادثہ ہوا، جس کے بعد مجھے اپنی تعلیم چھوڑنی پڑی۔ وہ وقت میری زندگی کا سب سے مشکل وقت تھا کیونکہ خواب ٹوٹنا بہت تکلیف دیتا ہے۔ میں نے بی ایس بائیو ٹیکنالوجی میں داخلہ لیا تھا مگر وہ بھی چھوڑ دیا۔
لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔ اس کے بعد میں نے عربی کورس کیا اور قرآن پاک کی کچھ سورتوں کی تفسیر کے سرٹیفکیٹ حاصل کیے۔ مجھے لگا کہ اگر دنیا کی تعلیم رک بھی گئی تو دین کی تعلیم ہی انسان کو اصل روشنی دیتی ہے۔ اور آج میں پیشے کے اعتبار سے ایک استاد ہوں۔ بچوں کو پڑھانا، انہیں سمجھانا، مجھے بہت سکون دیتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ شاید اللہ نے مجھے ڈاکٹر اس لیے نہیں بنایا کہ مجھ سے کسی اور طرح کی خدمت لینی تھی۔
اور پھر میری زندگی میں ادب آیا۔ مجھے بچپن سے ہی کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ میں اپنے ذہن میں ہی کہانیاں سوچتی رہتی تھی۔ اب میں ادبی اعتبار سے میں ایک لکھاری کے پیشے سے منسلک ہوں۔ اس سے جڑے ہوئے مجھے تقریباً 3 ماہ سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ مجھے ادب سے میری خالہ زاد نیلم وقار نے جوڑا۔ میں ہمیشہ ان کی شکر گزار رہوں گی کیونکہ انہوں نے میرے اندر کے لکھاری کو پہچانا، جب مجھے خود بھی نہیں پتا تھا کہ میں لکھ سکتی ہوں۔
اس وقت میں آنگنِ ماہ نور، فکرِ ظفر، بزمِ نکہت مہر، قلم و قرطاس میں ہونے والی ہر سرگرمی میں حصہ لے رہی ہوں۔ یہ سب گروپس میرے لیے صرف گروپس نہیں، یہ میرے ادبی گھر ہیں، جہاں میں نے لکھنا سیکھا، سمجھنا سیکھا۔
الحمدللہ میرے بہت سے قلم، افسانچہ، آب بیتی اور کہانیاں ڈیلی کشمیر نیوز، ایکسپریس نیوز، نوائے خبر جیسے اخبارات کی زینت بن چکی ہیں۔ یہ میرے لیے بہت بڑی خوشی کی بات ہے کہ میرے لفظ اخبار کی زینت بنے۔ میرے پہلے ناول کی دوسری قسط بھی آنگنِ ماہ نور کے ماہانہ میگزین میں لگ چکی ہے۔ اس کے علاوہ آنگنِ ماہ نور کے پہلے میگزین میں میری تحریر بھی شامل ہو چکی ہے۔ جب میں اپنی تحریر کو چھپا ہوا دیکھتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ میری محنت ضائع نہیں گئی۔
اب مجھے باغی رائیٹر فورم کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ میں دل سے باغی کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے مجھے یہ ادبی پلیٹ فارم مہیا کیا، مجھے اپنے ساتھ جوڑا، مجھے عزت دی۔ اور میں امید کرتی ہوں کہ مجھے باقی گروپس کی طرح یہاں سے بھی سیکھنے کو بہت کچھ ملے گا۔ میں یہاں سیکھنے آئی ہوں، خود کو بہتر بنانے آئی ہوں، اور اپنے لفظوں کو اور نکھارنے آئی ہوں۔
میں یہ نہیں کہتی کہ میں بہت بڑی لکھاری ہوں۔ میں بس ایک کوشش کر رہی ہوں۔ ایک ایسی لڑکی جو زندگی کے حادثوں سے گزری، خواب ٹوٹتے دیکھے، اپنوں کو بچھڑتے دیکھا مگر پھر بھی قلم اٹھا کر کھڑی ہو گئی۔ میرے لیے لکھنا صرف شوق نہیں ہے، یہ میرے دل کی آواز ہے، میرے زخموں کا مرہم ہے اور میری دعاؤں کا ایک طریقہ ہے۔
میں چاہتی ہوں کہ میری تحریر سے کسی کے دل کو سکون ملے، کسی کو حوصلہ ملے، کسی کو لگے کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔ اگر میری ایک تحریر سے بھی کسی کا دل ہلکا ہو گیا، تو سمجھوں گی میرا لکھنا کامیاب ہو گیا۔
آخر میں بس یہی کہوں گی، میں ایک عام سی گاؤں کی لڑکی ہوں، جس کے خواب بڑے ہیں، دل میں اپنے ماں باپ کی محبت ہے، ہاتھ میں قلم ہے اور زبان پر دعا ہے کہ اللہ مجھے اس قابل بنائے کہ میں اپنے والدین کا فخر بن سکوں، اور میرے بڑے ابو جی اور دادی جان کی روح کو میری کامیابی سے خوشی ملے۔
یہی میرا تعارف ہے۔ بہت بہت شکریہ!
مزید پڑھیں






