منگل، 3 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف،شازیہ یاسین

نقطہ نظر

میرا نام شازیہ یاسین ہے۔ میرا تعلق صوبہ سندھ کے خوب صورت اور تاریخی شہر سکھر کی تحصیل پنو عاقل سے ہے۔ ابتدائی تعلیم کراچی بحریہ سکول و کالج سے حاصل کی۔ اس کے بعد والد محترم نیوی سے ریٹائر ہوئے تو ہم اپنے آبائی شہر واپس آ گئے۔ یہاں آ کر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ کتابیں پڑھنے کا شوق شروع سے ہی تھا لیکن کبھی لکھنے کی طرف توجہ نہیں دی تھی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد منسٹری آف ڈیفینس پاکستان کے شعبہ تدریس میں شمولیت اختیار کی۔ وہاں میری تقاریر اور لب و لہجے کو سننے کے بعد کسی نے اس طرف توجہ دلائی کہ لکھا جائے کیونکہ بقول ان کے جو اتنا اچھا اور پر اعتماد طریقہ سے بول سکتا ہے وہ لکھ بھی سکتا ہے تو بس چھوٹی سی کوشش کی اور اور پذیرائی حاصل کی۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری و ساری ہے۔ میں مختلف اخبارات اور میگزین میں باقاعدگی سے لکھتی ہوں۔ بہت سے ادبی گروپس کا بھی حصہ ہوں چونکہ آرمی پرسن ہونے کی وجہ سے وقت کم ملتا ہے لیکن پھر بھی اس شوق کے لیے وقت نکال لیتی ہوں۔ اپنے ادارے کے اخبار ایجوکیشن نیوز کی واحد خاتون لکھاری ہوں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے ایف جی ہائر سیکنڈری اسکول، پنو عاقل کینٹ میں تدریسی فرائض انجام دے رہی ہوں۔ ایم اے اردو اور ایم اے ایجوکیشن کی حامل ہوں اور تقریباً ایک دہائی سے اخبارات و رسائل کے لیے کالم اور مضامین تحریر کر رہی ہوں۔ مختلف ادبی و صحافتی اداروں سے وابستہ رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہوں اور ادبی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کرتی ہیں۔ ادبی مقابلہ جات میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے کے ساتھ متعدد اعزازات اپنے نام کر چکی ہوں جبکہ شعبۂ تدریس میں بھی اپنے ادارے کی بہترین استاد کا اعزاز حاصل کر چکی ہوں۔ تعلیم اور ادب سے میری گہری وابستگی میری شخصیت کا وہ خوب صورت امتزاج ہے جہاں علم فکر کو وسعت دیتا ہے اور قلم احساس کو اظہار عطا کرتا ہے۔ قلم و قرطاس سے میرا یہ سفر مسلسل جاری ہے۔ دس سے زائد انتھالوجی کتاب میں لکھ چکی ہوں۔ اس کے علاوہ پڑوسی ملک کی کتب میں بھی میری تحاریر شامل ہیں۔ تین انتھالوجی کتب ابھی زیر طبع ہے۔ میری اپنی کتاب مکمل ہو چکی ہے۔ الحمدللہ اور منظر عام پر آ کر پزیرائی بھی حاصل کر رہی ہے۔ ’’رازِ زیست‘‘ میری پہلی کتاب ہے امید ہے کہ میری یہ ادنی سی کاوش اہل ادب اور مطالعہ کی آبیاری کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔ علم و شعور کے چراغ روشن کرنے میں اپنا حصہ ڈال سکے گی۔ اس کتاب کے اوراق سے نکلنے والے احساسات، خیالات اور جذبات قاری کے دل و دماغ کو منور کریں گے۔ میری دوسری کتاب بھی زیرِ طبع ہے۔ میری ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ حق اور سچ کے لیے لکھوں ہر اس موضوع پر لکھوں جس سے معاشرے اور عام آدمی کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں رونما ہو۔ امید، محبت، اعتماد، خود آگہی، حوصلہ، خود شناسی، رشتے، سب کو لفظوں کا خوبصورت پیراہن پہنا کر آپ کے سامنے پیش کروں۔ ان شاءاللہ یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔

اللہ تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو

پاکستان ہمیشہ زندہ باد