مجھے جاننے والوں میں سے زیادہ تر لوگ مجھے ایک عالمہ اور مبلغہ مصنفہ کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ میرے اس تعارف سے پہلے کی زندگی بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ میں عام طور پر کہیں اپنا تعارف نہیں دیتی۔ اس بار جس ادبی پلیٹ فارم کے لیے لکھ رہی ہوں، وہاں تعارف مانگا گیا اور آج اسے بھیجنے کا آخری دن ہے۔ میں سوچتی رہی کہ اپنے بارے میں کیا لکھوں؟ میرے پاس کوئی عصری ڈگری نہیں۔ مجھے اسکول جانے کا موقع بھی کبھی نہیں ملا۔ پھر خیال آیا کہ اپنا سفر ہی سنا دوں۔ ممکن ہے اس کی کوئی بات کسی ایسے دل میں اتر جائے جہاں پڑھنے کی خواہش ہو اور شروع کرنے کی ہمت ابھی جمع نہ ہو پائی ہو۔
مجھے یاد نہیں کہ میں نے اردو کا پہلا جملہ کب پڑھا۔ اتنا یاد ہے کہ میں اخبار اٹھا کر اس کے لفظ دیکھتی رہتی تھی۔ ایک لفظ کسی طرح سمجھ میں آتا تو اسے اگلے لفظ سے جوڑنے کی کوشش کرتی۔ دل میں ایک ہی بات ہوتی کہ آخر اس سطر میں لکھا کیا ہے؟ میں کسی کتاب کو دیکھتی تو جی چاہتا کہ اسے کھولوں اور اپنے لیے خود پڑھ سکوں۔ اخبار کے لفظ جوڑتے جوڑتے میں نے چپکے چپکے لکھنا شروع کیا۔ پڑھنے اور لکھنے کے آغاز کی کوئی تاریخ میرے پاس نہیں۔ میری یاد میں بس اخبار ہے اور ایک بچی ہے جس کا دل ایک سطر سمجھ لینے پر خوش ہو جاتا تھا۔
میرے والدین کا تعلق ضلع رحیم یار خان کے ایک گاؤں سے ہے۔ میری پیدائش کراچی میں ہوئی اور میں چھ بھائیوں کے بعد پیدا ہوئی۔ ہمارے خاندان میں اُس وقت لڑکیوں کو اسکول بھیجنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ گھر کی بچی قرآن پڑھ لے تو اسے بہت سمجھا جاتا۔ اُس وقت ہمارے خاندان میں کوئی حافظِ قرآن یا عالم بھی نہیں تھا۔ میں بھائیوں کے ساتھ ان کی نگرانی میں قرآن پڑھنے مدرسے جاتی تھی۔ تقریباً آٹھ برس کی عمر میں میرا قرآن مکمل ہوا۔ اس عمر میں مدرسے تک جو رسائی مجھے ملی، وہ میرے لیے بڑی نعمت تھی۔ کتاب کی طلب البتہ قرآن مکمل ہونے کے ساتھ ختم نہ ہوئی۔ میں پڑھنا چاہتی تھی اور اتنا پڑھنا چاہتی تھی کہ اپنے سامنے کھلی کتاب کے لیے کسی اور کی محتاج نہ رہوں۔
امی کو بہت شوق تھا کہ میں سلائی، کڑھائی اور گھر کے دوسرے ہنر سیکھوں۔ وہ اپنی بیٹی کو ہنرمند دیکھنا چاہتی تھیں اور جس ماحول میں انہوں نے زندگی گزاری تھی، وہاں لڑکی کی قابلیت انہی ہنروں سے پہچانی جاتی تھی۔ میں آج ان کی اس خواہش میں ان کی محبت دیکھتی ہوں۔ اُس وقت میرے دل میں یہ بات بھی ہوتی کہ کاش کوئی مجھ سے پوچھے کہ میں کیا سیکھنا چاہتی ہوں۔ اگر کوئی پوچھتا تو میں اسے یہی بتاتی کہ مجھے کتاب پڑھنی ہے۔ بچپن کی اس خواہش کو بیان کرنے کے لیے آج بھی مجھے اس سے بہتر لفظ نہیں ملتے۔
پھر میری زندگی میں ایک ہستی آئیں نور بیز نعیم صاحبہ آئیں۔ مجھے ان کا نماز پڑھنا یاد ہے اور ان کے گھر میں رکھی بہت سی کتابیں بھی۔ انہیں دیکھ کر میرے دل میں یہ سوال اٹھتا کہ اللہ سے ایسا تعلق کیسے بنتا ہے۔ میں ان سے کتاب مانگ کر لاتی، چھپ کر پڑھتی اور کبھی ایک دو دن کے اندر پوری کتاب ختم کر دیتی۔ کئی لفظ سمجھ میں نہیں آتے تھے۔ پھر بھی کتاب شروع سے آخر تک پڑھتی، درمیان سے صفحہ چھوڑنے کو دل نہیں مانتا تھا۔ اس مطالعے نے مجھے اپنے گرد رائج باتوں پر بھی غور کرنے کی عادت دی۔ کئی رسموں اور سنی سنائی باتوں کو ہم دین سمجھتے آئے تھے۔ اب میرے اندر یہ جاننے کی خواہش پیدا ہوئی کہ دین کی اصل تعلیم کیا ہے اور میں اسے اپنی زندگی میں کیسے سمجھوں۔
نور بیز نعیم باجی کی رہنمائی سے مجھے ایک مدرسے میں باقاعدہ پڑھنے کا موقع ملا۔ اپنی مرضی سے کسی اخبار یا کتاب میں لفظ ڈھونڈنے اور درس کے ساتھ لکھتے جانے میں بڑا فرق تھا۔ جب دوسری طالبات لکھتیں تو میں انہیں دیکھ کر لکھنے کی کوشش کرتی۔ مجھے بعض ایسی باتوں میں بھی محنت کرنی پڑتی تھی جن کی مشق دوسری طالبات کو پہلے سے تھی۔ کبھی عربی عبارت سمجھنے کا کام سامنے ہوتا اور کبھی اپنی ہی لکھی ہوئی بات کو دوبارہ پڑھنا مشکل لگتا۔ اس دوران جو کچھ میری سمجھ میں آتا، وہ میرے لیے اگلا سبق پڑھنے کی ہمت بن جاتا۔
گھر اور مدرسے کی فضا میں بڑا فرق تھا۔ گھر میں ٹی وی اور گانوں کا ماحول تھا اور میں مدرسے میں جو پڑھتی تھی، اسے سمجھنے اور اپنے اندر جگہ دینے میں لگی رہتی تھی۔ ابتدا میں پڑھائی کے لیے گھر والوں کا تعاون بہت کم تھا۔ کچھ عرصہ پڑھنا بھی چھپ کر پڑا۔ اس دوران میرا اللہ سے تعلق گہرا ہوا۔ زندگی میں ایسی بہت سی باتیں تھیں جو میں کسی سے کہہ نہیں پاتی تھی۔ کوئی بات دل پر لگتی تو میں اسے اللہ کے سامنے رکھتی اور پھر کبھی اپنی ڈائری کھول لیتی۔ جب کسی سے اپنا حال کہنے کی صورت سمجھ میں نہ آتی، مجھے اتنا معلوم تھا کہ کاغذ پر اسے جیسے محسوس کیا ہے، ویسے لکھ سکتی ہوں۔ ان دنوں میں کسی قاری کے لیے نہیں لکھتی تھی۔ میری ڈائری میں وہ باتیں آتی تھیں جو دن بھر میرے اندر رہ جاتی تھیں۔
میرے پڑھنے پر خاندان کے بعض لوگوں نے کہا کہ یہ لڑکی اپنے ماں باپ اور خاندان کا منہ کالا کرے گی۔ یہ جملہ مجھے آج تک یاد ہے۔ میں اپنے انہی لوگوں کے درمیان رہتی تھی اور انہی کے درمیان مجھے اپنی پڑھائی کے لیے گنجائش چاہیے تھی۔ پھر ایک بھائی نے آہستہ آہستہ میرا ساتھ دینا شروع کیا۔ اس کے بعد ابا نے بھی مجھے پڑھنے کی اجازت دی۔ دونوں نے مجھے لانے لے جانے میں مدد کی۔ جب میں اس وقت کو یاد کرتی ہوں تو مجھے اعتراض کرنے والوں کے ساتھ اپنا ہاتھ تھامنے والے بھی یاد آتے ہیں۔ خاندان کے اندر سے کسی ایک شخص کا ساتھ ملنا میرے لیے کتنی بڑی بات تھی، یہ وہی لڑکی سمجھ سکتی ہے جسے باہر قدم رکھنے کے لیے بھی گھر میں کسی کے بھروسے کی ضرورت ہو۔
ابا کی ہدایت تھی کہ میں مغرب تک گھر آ جاؤں۔ میں صبح نکلتی، قاعدہ اور قرآن پڑھاتی اور مدرسے میں خود بھی پڑھتی۔ اسی تعلیم کے لیے میں نے کئی بار لمبے فاصلے پیدل طے کیے۔ گھر آ کر کچھ دیر سو لیتی اور پھر اٹھ کر رات کو پڑھتی اور لکھتی۔ بہت سی راتیں کتابوں کے ساتھ گزر گئیں۔ دن میں میں کسی کو قاعدے کا حرف پڑھا رہی ہوتی تھی اور رات کو خود کسی عبارت میں اٹکی ہوتی تھی۔ آج میں کسی طالبہ کو ایک ہی سبق کے لیے بار بار کوشش کرتے دیکھتی ہوں تو مجھے اپنا وہ زمانہ یاد آ جاتا ہے۔ جو سبق ایک طالبہ چند منٹ میں پڑھ لیتی ہے، اسی پر دوسری کے کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔
عالمہ کورس میں عربی کی عبارت پڑھنا میرے لیے خاصا مشکل تھا۔ نمبر بھی بہت اچھے نہیں آتے تھے۔ پھر بھی کبھی کوئی عبارت پڑھ لیتی یا پچھلے دن سے کچھ زیادہ سمجھ آ جاتا تو دل خوش ہو جاتا۔ میں اپنے نمبروں کو دیکھ کر دل میں کہتی کہ الحمدللہ، اللہ نے کچھ تو دیا۔ میرا ہاتھ تھاما تو سہی۔ اسکول کی تعلیم کا موقع نہ ملنے سے ابتدا میں جو کمزوری تھی، اس کی تلافی میں وقت لگا۔ اس دوران میں نے اپنے سیکھے ہوئے کی قدر کرنا سیکھی۔ مجھے اپنی تعلیم آگے بڑھانے کی توفیق انہی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے ساتھ ملی۔
الحمدللہ، میں نے عالمہ کورس مکمل کیا اور تخصص فی الدعوۃ والارشاد کیا۔ جہاں مزید سیکھنے کا موقع ملا، میں نے اسے لیا۔ کبھی تین روزہ کورس تھا، کبھی سات روزہ تربیت اور کبھی سال بھر کا ڈپلومہ۔ میں نے صحافت کے کورسز بھی کیے۔ سن ۲۰۱۶ میں حضرت حافظ محمد ابراہیم نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ سے بیعت کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس نسبت کے بعد اپنے دینی سفر میں مجھے اللہ کی مدد اور بھی محسوس ہوئی۔ آج میں معلمہ ہوں اور مدارس سے وابستہ ہوں۔ اپنی تعلیم اور تدریس پر نظر ڈالتی ہوں تو اس میں مجھے اپنی محنت کے ساتھ بڑوں کی دعائیں اور اُن لوگوں کا حصہ بھی دکھائی دیتا ہے جنہوں نے کسی مرحلے پر میرا ہاتھ تھاما۔
ڈائری کے بے ربط جملوں میں ربط کب پیدا ہوا، یہ مجھے آج بھی یاد نہیں۔ یہ ضرور یاد ہے کہ میرا پہلا کالم اخبار «اسلام» میں شائع ہوا۔ جس اخبار کے ورق پر کبھی میں دوسروں کے لکھے ہوئے لفظ جوڑتی تھی، اسی طرح کے ایک ورق پر اب میرا اپنا لکھا ہوا کالم تھا۔ پھر مختلف اخبارات میں میرے کالم شائع ہوتے رہے اور اب مشترکہ ادبی مجموعوں میں بھی میرے مضامین شامل ہو رہے ہیں۔ اس سفر میں پاسبان بزم قلم کا بڑا حصہ ہے۔ وہاں میری چھوٹی چھوٹی کمیاں بتائی گئیں۔ مجھے سمجھایا گیا کہ ایک خیال اگلے جملے تک کیسے پہنچتا ہے اور کہاں کوئی لفظ میری بات کو دھندلا کر دیتا ہے۔ میری ڈائری نے مجھے اپنے لیے لکھنے کی جگہ دی تھی۔ تحریر کی اصلاح سے میں نے سیکھا کہ وہی بات کسی دوسرے کے لیے کیسے لکھی جاتی ہے۔
اب جب میں لکھتی ہوں تو اکثر کوئی بات وہ ہوتی ہے جو میں نے پڑھاتے ہوئے محسوس کی، کوئی وہ جو اپنے گرد دیکھی، اور کوئی وہ جو پڑھ کر میرے دل میں رہ گئی۔ میری خواہش ہے کہ میری تحریروں میں دین، سیرتِ نبوی اور ہماری معاشرتی زندگی کا تعلق نظر آئے۔ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غم پڑھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ ہم ان غموں کو اپنے اندر کتنی جگہ دیتے ہیں۔ اگر ان کا اثر ہمارے رویّے تک پہنچے تو شاید ہم کسی کے دکھ پر رائے دینے سے پہلے اس کی پوری بات سن سکیں۔ شاید گھر میں کسی ایسی بچی کی خواہش بھی سن لیں جو بار بار کچھ کہنا چاہتی ہے اور پھر خاموش ہو جاتی ہے۔ جب اپنی کوئی تحریر اشاعت کے لیے بھیجتی ہوں تو میری امید بس اتنی ہوتی ہے کہ اس میں سے کوئی بات کسی کی زندگی میں کام آ جائے۔
وقت گزرا تو انہی لوگوں میں سے بعض، جنہیں میرے پڑھنے پر کبھی اعتراض تھا، مجھ سے کہنے لگے کہ ہمارے حق میں دعا کیا کرو۔ میں ان کی بات سنتی تو مجھے وہ پہلا جملہ بھی یاد آتا۔ ان دونوں باتوں کے درمیان کتنے برس، کتنے پیدل راستے اور کتنی راتوں کی پڑھائی تھی، اس کا حساب میرے پاس نہیں۔ آج اس تبدیلی کی سب سے بڑی خوشی مجھے اپنے آبائی گاؤں میں دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے خاندان کی بچیاں اسکول جاتی ہیں اور دینی تعلیم بھی حاصل کرتی ہیں۔ ایک زمانے میں جس خواہش کے اظہار پر خاندان میں اعتراض اٹھتا تھا، آج اسی خاندان کی بچیوں کے روزمرہ میں اسکول اور مدرسہ دونوں کے لیے جگہ ہے۔ ایک عورت کی تعلیم گھر سے آگے خاندان اور معاشرے کے رویّے پر کیسے اثر ڈالتی ہے، اس کی ایک صورت میں نے یہاں دیکھی ہے۔
میں چاہتی ہوں کہ بچیوں کو تعلیم کے پورے مواقع ملیں اور وہ اپنی محنت سے آگے بڑھیں۔ تعلیم کی سند اپنی جگہ بڑی قدر رکھتی ہے۔ اگر کسی کے پاس سند حاصل کرنے کا موقع ابھی تک نہیں آیا تو اس کے دل میں سیکھنے کی جو طلب ہے، اس کی بھی قدر ہونی چاہیے۔ کوئی کتاب ہاتھ میں ہے تو اسے کھول کر دیکھیں۔ کوئی سکھانے والا میسر ہے تو اس سے سوال کریں۔ پہلا سبق سمجھنے میں دیر لگے تو اسے دوبارہ پڑھیں۔ کبھی ٹھوکر لگے اور دل بیٹھ جائے تو سنبھل کر وہیں سے دوبارہ اٹھنے کی کوشش کریں۔ میں یہ بات اُس طالبہ کے تجربے سے کہہ رہی ہوں جو کم نمبروں کے باوجود خوش ہوتی تھی کہ کچھ تو سیکھ لیا، اور جسے اگلے دن پھر اسی کتاب کے پاس بیٹھنا تھا۔
میری زندگی میں آج بھی آزمائشیں ہیں۔ میں اب بھی کچھ باتیں لکھ کر بہتر سمجھ پاتی ہوں اور کچھ غم اللہ کے سامنے رکھ کر ہی دل کو قرار ملتا ہے۔ اپنی زندگی کے باقی برسوں میں اتنا چاہتی ہوں کہ جو سیکھا ہے اسے پڑھا سکوں اور جو بات کسی کے دل تک پہنچانے کی توفیق ملے، اسے دیانت کے ساتھ لکھ سکوں۔ آج جب ہمارے گاؤں کی کوئی بچی اپنی کتابیں لے کر اسکول جاتی ہے تو میرے دل سے اس کے لیے ایک خاص دعا نکلتی ہے۔ یا اللہ، اسے پڑھنے کا شوق دے۔ اور جب اسے پڑھنے کا شوق ہو تو اسے اپنی کتاب چھپا کر نہ پڑھنی پڑے۔
مزید پڑھیں




