منگل، 3 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف،زینب لغاری

نقطہ نظر


شوقِ تحریر سے ادبی شناخت، خطاطی سے کاروبار اور علم سے خدمت تک کا سفر

میرا نام زینب لغاری ہے اور میرا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے۔ میں ایک لکھاری، شاعرہ، خطاط، دستکار (تخلیقی فنکارہ)، آن لائن معلمہ اور دو بچوں کی ماں ہوں۔ میری زندگی مختلف دلچسپیوں، ذمہ داریوں اور خوابوں کا امتزاج ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میں اپنے گھر، بچوں کی ہوم اسکولنگ اور اپنی تخلیقی و علمی سرگرمیوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کر رہی ہوں۔

تعلیمی سفر اور تدریسی تجربہ

میری ابتدائی تعلیم میٹرک (سائنس گروپ) تک ہے۔ میٹرک کے بعد میں نے مدرسہ عائشہ صدیقہ للبنات، اسلام آباد سے تین سالہ عالمہ کورس مکمل کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان واپس آ کر تقریباً دو ماہ تک اپنے گھر کی خواتین، جن میں میری والدہ، خالائیں اور کزنز شامل تھیں، کو تجوید سکھائی۔ اس کے ساتھ چند بچوں کو قاعدہ بھی پڑھایا۔

بعد ازاں میں نے الہلال روضۃ الاطفال اسکول، ڈیرہ اسماعیل خان میں 2018ء سے 2020ء تک تقریباً دو سال تدریسی خدمات انجام دیں۔ دسمبر 2020ء میں میری شادی ہو گئی، لیکن علم حاصل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی خواہش میرے اندر برقرار رہی۔

شوقِ تحریر سے باقاعدہ ادبی سفر تک

لکھنے کا شوق مجھے زمانۂ طالب علمی ہی سے تھا۔ میں اپنے خیالات، احساسات اور مشاہدات کو ڈائری میں محفوظ کیا کرتی تھی۔ شادی کے بعد 2022ء میں میں نے آن لائن ابراہیم اکیڈمی سے ایک سالہ تخصص فی الدعوۃ والارشاد کورس میں داخلہ لیا۔ اس کورس میں صحافت بھی ایک مضمون تھا، جس کے ذریعے مجھے مضمون نویسی اور تحریر کے بنیادی ہنر سیکھنے کا موقع ملا۔ تاہم گھریلو حالات اور دیگر وجوہات کی بنا پر میں نو ماہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد کورس مکمل نہ کر سکی۔

اس دوران میرے اندر موجود لکھنے کے شوق کو ایک نئی سمت ملی۔ میں نے اپنی ڈائری میں باقاعدگی سے لکھنا شروع کر دیا۔ اپنی آپ بیتی، تجربات، مشاہدات، احساسات اور خیالات کو کبھی نظم، کبھی اشعار، کبھی اقوال، کبھی کالم، کبھی مضمون اور کبھی کہانی کی صورت میں قلم بند کرنے لگی۔

میری کوشش ہوتی تھی کہ میرے لفظ صرف میرے احساسات کا اظہار نہ ہوں، بلکہ پڑھنے والوں کے دل و ذہن تک بھی پہنچیں۔

اخبارات و رسائل میں اشاعت کا آغاز

اپنی تحریروں کو قارئین تک پہنچانے کے لیے میں نے آن لائن تلاش کے ذریعے سدید اخبار کا رابطہ حاصل کیا اور اپنی تحریریں اشاعت کے لیے بھیجنا شروع کر دیں۔ وہاں سے مجھے خواتین لکھاریوں کے ایک گروپ میں شامل کیا گیا، جہاں میری تحریریں شائع ہونے لگیں اور مجھے ان کی اشاعت کے تراشے بھی موصول ہوتے رہے۔

اسی دوران ایک ادبی ساتھی نے میری تحریروں کو پسند کیا اور مجھے اپنی کتابی انتھالوجی میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ یوں 2024ء میں میری پہلی تحریر، ایک مضمون، کتابی صورت میں ’’دستِ دعا‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ یہ میرے لیے ایک اہم سنگِ میل تھا، جس نے میرے اعتماد میں اضافہ کیا اور مجھے ادبی دنیا میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔

اس کے بعد مجھے مزید ادبی گروپس میں شامل ہونے کے مواقع ملے۔ خصوصاً رشد و ہدایت میگزین کے ادبی حلقے میں روزانہ مختلف موضوعات پر لکھنے کی مشق نے میری صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مختلف موضوعات پر مسلسل لکھنے سے مجھے اپنی تحریری استعداد بڑھانے اور مختلف اصناف میں طبع آزمائی کرنے کا موقع ملا۔ رفتہ رفتہ میرا رابطہ مزید اخبارات، رسائل اور ادبی پلیٹ فارمز سے قائم ہوتا گیا اور میری تحریریں شائع ہونے لگیں۔

ادبی خدمات اور نمایاں کامیابیاں

میری تحریری اصناف میں کالم، مضامین، اقوال، اشعار، منظر نگاری اور مختصر کہانیاں شامل ہیں۔ میں مختلف اخبارات، رسائل اور ادبی پلیٹ فارمز کے لیے لکھتی ہوں۔

ادبی میدان میں مجھے مختلف تنظیموں کے ساتھ خدمات انجام دینے کا موقع بھی ملا۔ میں رشد و ہدایت میگزین میں جنرل سیکرٹری اور مضمون انچارج کی ذمہ داریاں ادا کر چکی ہوں۔ محبانِ قلم انٹرنیشنل میں اقوال انچارج کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہوں۔ اس کے علاوہ سخن آباد رائٹرز فورم اور سٹی 9 نیوز پیپر میں بھی قول انچارج کی ذمہ داریاں نبھا چکی ہوں، جبکہ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز میں ڈیرہ اسماعیل خان سے جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہوں۔

اب تک میری تحریریں آٹھ انتھالوجیز میں شامل ہو چکی ہیں، جن میں ’’دستِ دعا‘‘، ’’دراڑ زندگی سے شگافِ زندگی تک‘‘، ’’کاغذی خواب‘‘، ’’نقشِ سخن‘‘، ’’ارضِ مقدس‘‘ اور ’’رشد و ہدایت کے راہی‘‘ نمایاں ہیں۔

مختلف آن لائن ادبی گروپس میں شرکت کے دوران مجھے کئی مقابلوں میں حصہ لینے اور نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے کا موقع ملا۔ بیت بازی، اقوال نویسی، مضمون نویسی، کالم نگاری، منظر نگاری اور سو لفظی کہانی جیسے مقابلوں میں کامیابیاں اور اسناد میرے ادبی سفر کا حصہ ہیں۔ ان کامیابیوں نے مجھے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد اور مزید بہتر لکھنے کی تحریک دی۔

پہلی کتاب: ضمیر کی صدائیں

میرے ادبی سفر کا ایک اہم مرحلہ میری پہلی کتاب ’’ضمیر کی صدائیں‘‘ کی اشاعت ہے، جو اقوال کا ایک فکری و روحانی مجموعہ ہے۔ اس کتاب میں میرے خیالات، مشاہدات اور روحانی و فکری احساسات کو اقوال کی صورت میں یکجا کیا گیا ہے۔

یہ کتاب میرے لیے محض تحریروں کا مجموعہ نہیں، بلکہ میرے اندر کی آواز، میرے فکری سفر اور میرے احساسات کی عکاس ہے۔ میری خواہش ہے کہ میرے الفاظ قارئین کو غور و فکر کی دعوت دیں، ان کے دلوں میں خیر کا احساس بیدار کریں اور انہیں اپنی زندگی کا جائزہ لینے کی ترغیب دیں۔

خطاطی اور فنونِ لطیفہ سے وابستگی

تحریر کے علاوہ مجھے فنونِ لطیفہ سے بھی گہری دلچسپی ہے۔ 2023ء میں میں نے آن لائن تین ماہ کا خطاطی کورس کیا، جس میں خطِ ثلث سیکھنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد میں نے کینوس پر قرآنی آیات اور حسبِ فرمائش ناموں کی خطاطی کرنا شروع کی۔

اپنے اس فن کو عملی شکل دیتے ہوئے میں نے تیار کردہ کینوس فروخت بھی کیے۔ الحمدللہ، میرے کام کو پسند کیا گیا اور مجھے حوصلہ افزا آراء موصول ہوئیں۔ اس تجربے نے مجھے یہ احساس دلایا کہ شوق اگر محنت اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنایا جائے تو وہ صلاحیت کے اظہار کے ساتھ ذریعۂ آمدن بھی بن سکتا ہے۔

گفٹ بزنس کا آغاز

دسمبر 2025ء میں میں نے یوٹیوب اور انسٹاگرام پر مختلف ویڈیوز دیکھ کر بکیٹس اور تحائف تیار کرنے کا کام شروع کیا۔ ابتدا میں یہ ایک نیا تجربہ تھا، لیکن الحمدللہ، آغاز ہی میں اچھا ردِعمل ملا۔ عید کے موقع پر آرڈرز میں خاصا اضافہ ہوا اور جون تک مجھے بڑی تعداد میں آرڈرز تیار کرنے کا موقع ملا۔

کسٹمائزڈ بکیٹس، خوبصورت گجروں اور مختلف تحائف کی تیاری میں میری تخلیقی دلچسپی نے مجھے ایک نئی پہچان دی۔ صارفین کی جانب سے ملنے والی پسندیدگی اور حوصلہ افزا آراء نے میرے اعتماد کو مزید بڑھایا۔

بعد ازاں آرڈرز میں کمی آئی تو میں نے اپنے وقت کو مثبت انداز میں استعمال کرنے کے لیے دوسری علمی سرگرمیوں پر توجہ دینا شروع کی۔ میرے لیے یہ بات اہم ہے کہ زندگی میں کسی ایک سرگرمی کی رفتار کم ہو جائے تو انسان اپنی دوسری صلاحیتوں کو بھی موقع دے۔

بچوں کو عربی سکھانے کا سفر

بچوں کی تربیت اور ابتدائی تعلیم کے موضوع پر ویڈیوز دیکھتے ہوئے میری توجہ کم عمری میں عربی زبان سکھانے کی اہمیت کی طرف مبذول ہوئی۔ میں چاہتی تھی کہ میرا بیٹا قرآن فہمی کی بنیاد کے طور پر عربی زبان سے مانوس ہو۔ چنانچہ میں نے اسے ایک آن لائن اکیڈمی کے عربی زبان کے کورس میں داخل کروایا، لیکن اس کورس کی فیس خاصی زیادہ تھی۔

اس موقع پر میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے بیٹے کے ساتھ اپنے بہن بھائیوں اور کزنز کے بچوں کو بھی کم فیس میں عربی پڑھائی جائے، تاکہ بچوں کو سیکھنے کا موقع ملے اور میرے بیٹے کی تعلیم کے اخراجات میں بھی مدد ہو سکے۔

یوں اگست 2026ء میں میں نے بچوں کے لیے آن لائن عربی کورس کا آغاز کیا۔ الحمدللہ، اب پندرہ بچے میرے ساتھ عربی زبان سیکھ رہے ہیں، جبکہ آٹھ بچے قرآنِ کریم ناظرہ پڑھ رہے ہیں۔ میرے لیے یہ محض تدریس نہیں، بلکہ علم کو آگے منتقل کرنے اور بچوں کی دینی و لسانی بنیاد مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے۔

گھر، بچوں کی ہوم اسکولنگ اور اپنے خواب

میں دو بچوں کی ماں ہوں اور اپنے بچوں کی ہوم اسکولنگ بھی خود کروا رہی ہوں۔ میری کوشش ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت، گھر کی ذمہ داریوں اور اپنی علمی و تخلیقی سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھ سکوں۔

میں سمجھتی ہوں کہ خواتین کی زندگی میں ذمہ داریاں ضرور ہوتی ہیں، لیکن ان ذمہ داریوں کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو زندہ رکھنا بھی اہم ہے۔ ہر عورت کے حالات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے ضروری نہیں کہ سب کا سفر ایک جیسا ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان اپنی استطاعت کے مطابق چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا رہے اور اپنے لیے دستیاب وقت کو بامقصد بنانے کی کوشش کرے۔

میں نے اپنی زندگی میں تحریر، خطاطی، دستکاری، کاروبار اور تدریس کے مختلف مراحل سے یہی سیکھا ہے کہ شوق کو زندہ رکھنے کے لیے ہمیشہ بڑے مواقع یا بہت زیادہ وقت درکار نہیں ہوتا۔ کبھی ایک ڈائری، کبھی ایک قلم، کبھی ایک آن لائن کلاس اور کبھی ایک چھوٹی سی تخلیقی کوشش بھی نئے راستے کھول دیتی ہے۔

میرا مقصد اور پیغام

میری تحریروں کا بنیادی رجحان فکری، روحانی اور اصلاحی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ میرے الفاظ انسان کو اپنے باطن میں جھانکنے، اپنے رویوں پر غور کرنے اور زندگی کے حقیقی مقاصد کو سمجھنے کی ترغیب دیں۔ میرے نزدیک قلم محض اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ احساس، شعور اور مثبت تبدیلی کا وسیلہ بھی ہے۔

آج میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنے گھر، بچوں کی ہوم اسکولنگ، ادبی سفر، خطاطی، دستکاری اور آن لائن تدریس کو ساتھ لے کر چل رہی ہوں۔ میری کوشش ہے کہ وقت کو ضائع کرنے کے بجائے اسے سیکھنے، سکھانے، تخلیق کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں صرف کروں۔

میرا یقین ہے کہ زندگی کی مصروفیات کے باوجود انسان اپنے شوق اور صلاحیتوں کے لیے جگہ پیدا کر سکتا ہے۔ سفر چاہے آہستہ ہو، لیکن اگر نیت اچھی، کوشش مسلسل اور توکل اللہ تعالیٰ پر ہو تو چھوٹے چھوٹے قدم بھی بامعنی منزلوں کی طرف لے جا سکتے ہیں۔