منگل، 3 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف، محمد شاکر

نقطہ نظر

میرا نام محمد شاکر ہے، جبکہ علمی و ادبی حلقوں میں "ملک محمد شاکر بہاولپوری" کے نام سے پہچانا جاتا ہوں۔ میرا آبائی تعلق پنجاب کے مردم خیز خطے بہاولپور کی تاریخی تحصیل احمد پور شرقیہ کے ایک قصباتی ماحول سے ہے، البتہ گزشتہ تین برسوں سے میں صنعتی و ادبی حوالے سے معروف شہر سیالکوٹ میں مقیم ہوں۔ایک محقق اورمصنف کی حیثیت سے مجھے مختلف جامعات کے بی ایس، ایم فل اور ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) کی سطح کے متعدد علمی مقالات، ڈگری تھیسز اور ریسرچ پروجیکٹس کی تسوید و تکمیل کی سعادت حاصل ہو چکی ہے۔


شاکر آن لائن اسلامک ریسرچ سینٹر کا قیام

اعلیٰ تعلیم کے محققین کو جدید تقاضوں کے مطابق سہولیات بہم پہنچانے کے لیے میں نے 31 مارچ 2024ء کو "شاکر آن لائن اسلامک ریسرچ سینٹر" کے نام سے ایک فکری و ڈیجیٹل ادارے کی بنیاد رکھی۔ اس تحقیقی پلیٹ فارم کے قیام کا بنیادی نصب العین علومِ اسلامیہ اور متعلقہ سماجی شعبوں میں خالصتاً معیاری، غیر جانبدارانہ اور مستند تحقیق کو فروغ دینا ہے۔ یہ مرکز اسکالرز کو موضوع کے موزوں انتخاب، باقاعدہ فکری و تکنیکی خاکے (Synopsis) کی تشکیل، مواد کے منطقی اسلوب، ابواب بندی، جدید مائیکرو اسٹرکچر اور بین الاقوامی معیار کے مطابق حوالہ نگاری (Citations & Referencing) سے لے کر فائنل زبانی امتحان (Viva Voce) اور ڈگری ڈیفنس تک قدم بہ قدم مشاورتی معاونت کرتا ہے۔ مزید برآں، محققین کے راستے کی علمی اور ماخذی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے نادر مخطوطات، بنیادی مصادر اور جدید بین الاقوامی مقالات مستند ڈیجیٹل ذخائر اور عالمی لائبریریوں سے حاصل کر کے پی ڈی ایف (PDF) فارمیٹ میں بلامعاوضہ فراہم کیے جاتے ہیں، تاکہ محققین وسائل کی کمی کے باعث فکری جمود کا شکار نہ ہوں۔


ادبی وتنظیمی سرگرمیاں

تحقیقی کاموں کے متوازی میرا تخلیقی و ادبی رشتہ بھی نہایت گہرا اور وسیع ہے۔ تقریباً 2025ء سے میں تاریخی و فکری جریدے ماہ نامہ "تنظیم الاسلام" کے لیے باقاعدگی سے مضامین لکھ رہا ہوں، جبکہ معروف اشاعتی ادارے "ہماری ڈائجسٹ ڈیجیٹل میگزین" میں میرے متعدد معاشرتی افسانے، فکری کالم اور تجزیاتی مضامین قارئین کی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔ تخلیقی تعاون کے دائرے میں مجھے محترمہ ماہ نور کنول کی نثری کتاب "وہ ہجرت جو بھلائی نہ گئی" میں بطور معاونِ خصوصی خدمات انجام دینے کا شرف بھی حاصل ہوا۔

ادبی صحافت کو منظم بنیادوں پر استوار کرنے کی غرض سے ستمبر 2026ء میں محترمہ ماہ نور کنول کی سرپرستی اور زیرِ ادارت معتبر ماہ نامے "آنگنِ ماہ نور" کا باقاعدہ آغاز کیا گیا، جس میں مجھے معاون مدیر کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ اس پلیٹ فارم کے قیام کا بنیادی مقصد سینئر اساتذہ کے ساتھ ساتھ نوآموز تخلیق کاروں کو فکری و ادبی اظہار کے بامقصد مواقع فراہم کرنا اور اردو زبان کے وقار کو بحال رکھنا ہے۔ آنگن ماہ نور کے تحت منعقد ہونے والے کل پاکستان شعری مقابلوں کی سربراہی اور نگران کی حیثیت بھی میرے سپرد ہے، علاوہ ازیں مختلف ادبی مباحثوں اور مشاعروں میں بطور منصف (جج) فرائض انجام دیتا ہوں۔ ان سرگرمیوں کا بنیادی ہدف نئی نسل کے ادبی ذوق کی تطہیر، مثبت فکری سمت کا تعین اور صحت مند شعری اقدار کو پروان چڑھانا ہے۔


شعری فکرو فن

میرا شعری اثاثہ بیک وقت سنجیدہ، فکری، رومانوی اور مزاحیہ کینوس پر محیط ہے۔ طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے باب میں میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ مزاح پھکڑ پن یا سطحی تمخر کا نام نہیں، بلکہ یہ شائستگی، برجستگی اور گہری فکری لطافت کا خوب صورت ترین پیرایہ ہے۔ میری بعض مزاحیہ شعری تخلیقات کی علمی پذیرائی اس وقت کھل کر سامنے آئی جب بی ایس اردو کی ایک طالبہ نے اپنے باقاعدہ تحقیقی مقالے میں ان اشعار کو بطور نمونہ شامل کیا۔

دوسری جانب، میری رومانوی غزلوں اور نظموں میں حسن و جمال کی سحر انگیزی، سراپا نگاری، آواز و ادا کی دلکشی، اور وصل، ہجر، انتظار، شکوے اور جذبات کی نزاکتوں کو پاکیزہ اور لطیف روپ میں ڈھالنے کی سعی کی گئی ہے۔ میری اولین ترجیح یہ رہی ہے کہ کلام کی ساخت میں کلاسیکی روایت کا رچاؤ، تخیل کی بلندی، لفظی موزونیت اور اظہار کی پاکیزگی برقرار رہے۔ میں شاعری کو کسی حتمی دعوے کے بجائے ایک مسلسل تخلیقی ریاضت اور خود شناسی کا ارتقائی سفر مانتا ہوں۔ م


تصنیفی کاوشیں و ادبی ورثہ

قلم و قرطاس اور تصنیف و تالیف کی وادی میں میرا باضابطہ سفر 2019ء میں شروع ہوا۔ اگرچہ مطالعے اور فکری جستجو کا شوق بچپن سے رگ و پے میں موجود تھا، لیکن 2019ء وہ سنگِ میل تھا جب میں نے اپنے مشاہدات کو شعوری طور پر کتابی سانچے میں ڈھالنا شروع کیا۔ میں قلم کو فقط الفاظ کا الٹ پھیر نہیں بلکہ سماجی، اخلاقی اور تہذیبی امانت گردانتا ہوں جس کے ذریعے فکر کے در وا کیے جاتے ہیں۔ اس فکر کے تحت میری تصنیفی کاوشیں درج ذیل اہم سنگ ہائے میل پر مشتمل ہیں:

ضربِ شاکر بر باطل (2019ء): یہ میری سب سے پہلی کاوش تھی، جس میں سیاسی قوتوں کی بدعنوانیوں، عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم اور دین مخالف فکری رویوں کا بے باک تنقیدی جائزہ لیا گیا۔ چونکہ اس تحریر میں جابرانہ رویوں اور غیر عادلانہ پالیسیوں پر کھل کر لکھا گیا تھا، اس لیے روایتی اشاعتی اداروں نے ممکنہ سیاسی دباؤ اور انتظامی مصلحتوں کے پیشِ نظر اسے شائع کرنے سے معذرت کر لی، جس کی وجہ سے یہ اہم کتاب فی الوقت مطبوعہ شکل اختیار نہ کر سکی۔ تاہم، اس کٹھن مرحلے نے مجھے یہ شعور بخشا کہ قلم کاری کا میدان محض کتابت تک محدود نہیں بلکہ اس راستے میں معاشرتی اور قانونی رکاوٹوں کا پامردی سے سامنا کرنا پڑتا ہے۔

میرے قائد کے مختصر حالاتِ زندگی (2020ء - 2021ء): یہ تقریباً ساٹھ صفحات پر مشتمل ایک معلوماتی اور فکری کتابچہ ہے، جس میں جامع نثری اسلوب کے ساتھ ساتھ بر محل اشعار کا پیوند لگایا گیا ہے۔ اس کتابچے کے ذریعے میرے فکری خدوخال اور شعری ذوق کی پہلی بار عوامی سطح پر پذیرائی ہوئی۔ 2021ء میں جب اس کاوش کو مزید تصحیح کے ساتھ باقاعدہ کتابی شکل دے کر شائع کیا گیا تو قارئین نے اسے شرفِ قبولیت بخشا، جس نے میرے عزم کو نئی جلابخشی۔

عشقِ مجازی (2023ء): سو صفحات پر محیط اس کتاب میں محبت، فطرت اور انسانی وارداتِ قلبی کے متنوع زاویوں کو فکری و صوفیانہ نظر سے پرکھنے کی کوشش کی گئی۔ اگرچہ وسائل اور مصلحتوں کی بنا پر یہ کتاب باقاعدہ پریس میں چھپ کر منظرِ عام پر نہ آ سکی، تاہم اس کی ڈیجیٹل اشاعت نے جدید قارئین کے دلوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس تجربے نے مجھ پر یہ راز کھولا کہ کسی تحریر کی حقیقی تاثیر کاغذ پر منحصر نہیں بلکہ اس کے مواد کی سچائی پر ہوتی ہے۔

کثرتِ زوجیت کے فوائد (2024ء): ایک سو اسی (180) صفحات پر مشتمل یہ گراں قدر تحقیقی کاوش سماجی و ازدواجی مسائل پر احاطہ کرتی ہے۔ اس کتاب میں تعددِ ازدواج کے شرعی فلسفے، معاشرتی افادیت اور خاندانی استحکام کے موضوع کو بے بنیاد جذباتیت کے بجائے ٹھوس اسلامی تعلیمات، عقلی دلائل اور عمرانی حقائق کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔ اس تصنیف کو محققین اور اہلِ علم کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی ملی، مگر چند ادارتی تقاضوں کے سبب یہ تاحال غیر مطبوعہ مسودے کی صورت میں محفوظ ہے۔


درسی و نصابی کتب

سال 2025ء میری فکری و علمی زندگی میں ایک نیا موڑ لایا، جب معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر عظمیٰ شہزادی صاحبہ نے میری علمی استعداد پر اعتماد کرتے ہوئے مجھے اعلیٰ تعلیمی سطح (بی ایس اور اے ڈی پی) کے طلبہ کے لیے نصابی کتب تحریر کرنے کی ترغیب دی۔ نصابی تحریر عمومی ادب سے یکسر مختلف تقاضے مانگتی ہے، کیونکہ اس میں یونیورسٹی کے منظور شدہ سلیبس، تعلیمی اداروں کی ضروریات، ابلاغ کی سادگی اور طلبہ کی ذہنی استعداد کا ہمہ وقت خیال رکھنا لازم ہوتا ہے۔اس سلسلے کے تحت منصۂ شہود پر آنے والی نصابی کتب کی تفصیل درج ذیل ہے:

تاریخ اور اصولِ تفسیر: چار سو (400) صفحات پر محیط یہ گراں قدر تالیف فہمِ قرآن، تفسیر کے ارتقائی مناہج، مفسرین کے تاریخی طبقات اور تفسیر بالماثور و تفسیر بالرائے کے بنیادی مباحث کا احاطہ کرتی ہے۔ اگرچہ یہ کتاب تاحال اشاعت کے مراحل میں ہے، لیکن اس کا مسودہ متعلقہ حلقوں میں نصابی ضرورتوں کو پورا کرنے کا مکمل پیش خیمہ ہے۔

اسلامی معاشیات (فروری 2026ء): چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ تصنیف اسلامی معیشت کے زریں اصولوں، بیت المال کے نظام، بینکاری، سود کی ممانعت اور جدید مالیاتی مسائل پر محیط ہے۔ یہ کتاب پنجاب یونیورسٹی سے ملحقہ درجنوں کالجوں میں بی ایس کی سطح پر پڑھائی جاتی ہے۔ میرے لیے بے انتہا قلبی مسرت اور تشکر کا مقام یہ ہے کہ یہ کتاب میرے اپنے مادرِ علمی، گورنمنٹ ایس ای کالج بہاولپور میں بھی پڑھائی جاتی ہے، جہاں کبھی میں خود بحیثیت ایک ادنیٰ طالب علم زانوئے تلمذ طے کرتا تھا۔ علاوہ ازیں لاہور اور شیخوپورہ کے سرکردہ کالجوں میں بھی پڑھائی جاتی ہے۔

خلافتِ بنو امیہ اور خلافتِ بنو عباس (جولائی 2026ء): اسلامی تاریخ کے عظیم اور طویل ادوار، ان کے انتظامی ڈھانچے، فتوحات اور علمی و تہذیبی نشاۃ الثانیہ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نصابی تالیف وجود میں لائی گئی۔ اس کتاب میں دونوں خلافتوں کے سیاسی اتار چڑھاؤ اور تاریخی تحولات کو معروضی انداز میں مرتب کیا گیا ہے، جو صوبہ پنجاب کے متعدد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں نصابی ضرورت کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔

اسلام کے سیاسی ادارے (اگست 2026ء): اس نصابی کتاب میں اسلامی ریاست کے دستوری خاکے، شوریٰ کے نظام، عدلیہ کی خودمختاری، سربراہِ مملکت کے اوصاف اور شہری حقوق و فرائض کے مباحث کو سیاسیات اور اسلامیات کے مشترکہ پیرائے میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب پنجاب بھر کے کم و بیش پندرہ بڑے کالجوں میں پڑھائی جاتی ہے ۔


زیرِاشاعت علمی منصوبے

علمی و تحقیقی ذوق کی تسکین اور علمی تشنگی کی آبیاری کے لیے میری چند دیگر اہم تصنیفات بھی تکمیل کے مراحل طے کر چکی ہیں اور اشاعت کی منتظر ہیں، جن میں بالخصوص (1) اصولِ تحقیق، (2) اصولِ فقہ، (3) اصولِ حدیث، (4) جنوبی ایشیا میں مسلم قومیت، (5) مضامینِ قرآن کا تعارف، (6) مطالعۂ متنِ حدیث، (7) مطالعۂ متنِ قرآن، (8) مطالعۂ سیرت النبی ﷺ وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تصنیفات علمی و تحقیقی میدان میں سنجیدہ مطالعے، فکری بالیدگی اور تحقیقی شعور کے فروغ کے لیے مرتب کی گئی ہیں۔ یہ مسودات درحقیقت دینی علوم کے بنیادی ماخذوں کو سلیس زبان اور سائنسی ترتیب کے ساتھ عصرِ حاضر کے طلبہ تک منتقل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ میرے نزدیک تصنیف و تالیف کوئی پیشہ ورانہ مشغلہ یا ذاتی شہرت کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ ایک کٹھن اخلاقی ذمہ داری، فکر و نظر کی طہارت اور اپنے رب کے حضور اپنے علم کی زکوٰۃ ادا کرنے کی مساعی ہے۔ میں اپنی تمام تر ادبی و علمی کاوشوں کو بارگاہِ الٰہی کی دی ہوئی توفیق، اساتذہ کی نگاہِ کرم اور والدین و احباب کی دعاؤں کا ثمر سمجھتا ہوں، اور اس عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہوں کہ میرا قلم ہمیشہ صداقت، دیانت اور انسانیت کی فلاح کا ترجمان رہے۔