منگل، 3 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف،محمد سبحان شوق

نقطہ نظر

میرا ادبی سفر 2008ء سے شروع ہوتا ہے بچپن ہی سے کتابوں سے دوستی اور مطالعے کا شوق رہا یہی شوق رفتہ رفتہ لفظوں سے اُنس اور پھر قلم سے رشتہ جوڑنے کا سبب بنا ابتدا میں شعر و ادب سے دل چسپی تو تھی مگر علمِ عروض سے واقفیت نہ تھی شعر کہنے کا ذوق اپنی جگہ لیکن اس فن کی باریکیوں اور اوزان کی نزاکتوں سے آشنائی حاصل کرنا بھی ضروری محسوس ہوا چنانچہ اس راہ میں سیکھنے کا سفر اختیار کیا عروض کی سمجھ پیدا کی اور اپنی تخلیقات کی اصلاح و تہذیب کا سلسلہ جاری رکھا اس سلسلے میں محترمہ گلشن انصاری صاحبہ اور محترمہ تمنا جعفری صاحبہ کا نام بطور استادِ شعر میرے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے جن سے آج بھی گاہے گاہے اصلاح و رہنمائی حاصل کرتا رہتا ہوں۔

کتابوں سے یہ رشتہ محض اردو ادب تک محدود نہیں رہا بلکہ مطالعے کی وسعت نے انگریزی فارسی اور عربی ادب کے دروازے بھی وا کیے مختلف ممالک کے ادب اور دوسری زبانوں کی تخلیقات پڑھنے کا موقع ملا جس سے فکر و نظر میں وسعت اور اظہار میں تنوع پیدا ہوا نثر اور نظم دونوں سے یکساں دل چسپی رہی افسانے لکھے کالم تحریر کیے مختلف شعرا کے کلام اور فن پر تبصرے قلم بند کیے جو پاکستان اور ہندوستان کے متعدد اخبارات میں شائع ہوئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

نثر نگاری کے مختلف مقابلوں میں بھی حصہ لیا جہاں متعدد مواقع پر اوّل پوزیشن حاصل کرنے کا اعزاز ملا اور کئی اسناد سے نوازا گیا تاہم ان اعزازات کو کبھی اپنی منزل نہیں سمجھا اس لیے کہ میرے نزدیک لکھنے کا اصل مقصد محض داد و تحسین سمیٹنا نہیں بلکہ اپنے احساس مشاہدے اور فکر کو لفظوں کا پیرایہ عطا کرنا ہے مطالعہ آج بھی جاری ہے اور سیکھنے کی خواہش بھی کیوں کہ ادب میں کسی مقام پر پہنچ کر رک جانا شاید ادب کے ساتھ ناانصافی ہے۔

میری طبیعت میں اپنی واہ واہ سننے کا شوق کبھی غالب نہیں رہا نہ شہرت کی طلب نے قلم اٹھانے پر آمادہ کیا اور نہ داد و تحسین کی خواہش نے لکھنے پر مجبور کیا میری خواہش بس اتنی سی ہے کہ جو کچھ لکھوں کبھی کسی کی نظر سے گزر جائے کوئی اسے پڑھے اور شاید کسی ایک لمحے کے لیے ہی سہی میرے لفظ اس کے دل میں کوئی احساس جگا دیں میرے لیے یہی بڑی پذیرائی ہے کہ میرا لکھا ہوا ایک بار کوئی پڑھ لے اس سے آگے نہ کسی صلے کی آرزو ہے اور نہ کسی انعام کی تمنا۔