میرا نام رفعت اکرام ہے اور میرا تعلق صوبہ پنجاب کے ایک خوبصورت، زرخیز، تہذیب یافتہ اور ادب پرور شہر اوکاڑہ سے ہے۔ اوکاڑہ کی مٹی میں ایک انوکھی مہک بسی ہوئی ہے، محبت کی مہک، خلوص کی خوشبو اور اپنائیت کی حرارت۔ اسی مٹی میں میری پرورش ہوئی، اسی فضا میں میری فکر نے آنکھ کھولی اور اسی ماحول میں میں نے لفظ کی حرمت، جملے کی نزاکت اور خیال کی لطافت کو محسوس کرنا سیکھا۔ اوکاڑہ جیسے چھوٹے شہر میں رہ کر بڑے خواب دیکھنا شاید دنیا کی نظر میں خام خیالی ہو، مگر میرے نزدیک خواب ہی انسان کی اصل متاع ہیں، خواب ہی انسان کو زندہ رکھتے ہیں اور خواب ہی اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ میں اپنے شہر سے بے حد محبت کرتی ہوں کیونکہ اس نے مجھے سادگی، سچائی اور انسانیت کا درس دیا ہے۔
ادب سے میرا رشتہ محض اتفاقی نہیں، بلکہ موروثی، خاندانی اور روحانی ہے۔ میرے والدِ محترم اردو ادب کے ایک مستند اور قابل لیکچرر ہیں، جنہوں نے اپنی حیاتِ مستعار اردو زبان کی آبیاری اور ترویج کے لیے وقف کر دی ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اس زبان کی خدمت میں گزاری جو ہماری پہچان ہے، ہماری تہذیب ہے اور ہماری روح ہے۔ میں نے طفولیت ہی سے اپنے گھر میں کتب بینی کی خوشبو محسوس کی ہے۔ ہمارے گھر میں کتابوں سے بھری الماریاں تھیں، ادبی رسائل تھے، دیوان تھے۔ ہمارے گھر کی فضا میں غالب کی شوخی، اقبال کی خودی، فیض کی مزاحمت، منٹو کی صداقت اور بانو قدسیہ کی حکمت گونجتی تھی۔ میرے دادا جان بھی اردو ادب کے ایک جلیل القدر استاد تھے، جنہوں نے عمر بھر علم کی شمع روشن رکھی اور بے شمار تشنہ لبوں کو سیراب کیا۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی اردو ادب کی خدمت میں گزاری اور بے شمار شاگرد پیدا کیے جو آج بھی ان کا نام عزت سے لیتے ہیں۔
میری ادبی تربیت میں میرے اردو اساتذہ کا کردار سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ میرے والدِ گرامی میرے اولین مربی اور سب سے بڑے استاد ہیں، جنہوں نے مجھے لفظ کی حرمت، اسلوب کی نفاست، تلفظ کی درستی اور بیان کی سچائی سے روشناس کرایا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ لکھنا آسان نہیں، لکھنے کے لیے پڑھنا پڑتا ہے، مشاہدہ کرنا پڑتا ہے اور اپنے دل کو زندہ رکھنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ میرے اسکول و کالج کے اردو اساتذہ نے بھی میرے ذوقِ سلیم کو جِلا بخشی۔ انہوں نے مجھے یہ ادراک دیا کہ اردو محض ایک مضمون نہیں، بلکہ ایک تہذیب، ایک تمدن اور ایک طرزِ حیات ہے۔ جب میں نے پہلی بار اپنی کوئی کاوش ان کے حضور پیش کی تو انہوں نے اصلاح کے ساتھ حوصلہ افزائی بھی فرمائی۔ انہوں نے میری غلطیوں پر تنقید کی مگر اس تنقید میں محبت تھی، شفقت تھی۔ ان کی شفقت، تنقید اور دعاؤں کے بغیر یہ سفر ناممکن تھا۔ آج میری ہر تحریر میں میرے اساتذہ کی محنت کی مہک اور دعاؤں کی تاثیر شامل ہے۔ میں اپنے تمام اساتذہ کی ممنون ہوں جنہوں نے مجھے قلم پکڑنا سکھایا۔
کہا جاتا ہے کہ بعض اوصاف خون میں سرایت کر جاتے ہیں، ادب بھی میرے رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے۔ یہ ذوق مجھے وراثت میں ملا ہے، یہ میرے خون میں شامل ہے۔ انہی کی صحبت نے مجھے یہ راز آشکار کیا کہ لفظ محض حروف کا مجموعہ نہیں، بلکہ اس میں ایک پوری کائنات آباد ہوتی ہے۔ ایک لفظ کبھی مرہم بن جاتا ہے تو کبھی خنجر، کبھی دعا بن جاتا ہے تو کبھی آہ، کبھی روشنی بن جاتا ہے تو کبھی اندھیرا۔ جب میں نے پہلی بار قلم اٹھایا تو مجھے احساس ہوا کہ میرے باطن میں ان کہی باتوں کا ایک طوفان موجزن ہے جو اظہار کا متقاضی ہے۔ اسی بے چینی اور اضطراب نے مجھے تحریر کی وادی میں اتار دیا۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے اندر بہت کچھ ہے جو کہنا چاہتی ہوں مگر زبان ساتھ نہیں دیتی، اس لیے قلم کو اپنا ساتھی بنا لیا۔
مجھے باقاعدہ قلم آزمائی کرتے ہوئے قریباً ایک سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ ظاہر میں یہ مدت مختصر سہی، مگر میرے لیے یہ کسی درسگاہ سے کم نہ تھی۔ اس عرصے میں میں نے اپنی ذات کا محاسبہ کیا، اپنے باطن میں جھانکا اور اپنے منتشر جذبات کو الفاظ کا جامہ پہنانے کی سعی کی۔ کئی بار قلم نے ساتھ چھوڑا، کئی بار الفاظ نے دامن چھڑایا، کئی بار لکھ کر مٹا دیا، مگر اساتذہ کی رہنمائی نے مجھے ہر بار سنبھال لیا۔ انہوں نے مجھے سکھایا کہ صاحبِ قلم کو صبر، مشاہدہ اور ریاضت تینوں کی یکساں ضرورت ہوتی ہے۔ لکھنے والا اگر جلد بازی کرے تو اس کی تحریر میں جان نہیں آتی۔ اس ایک سال میں میں نے سیکھا کہ تحریر صرف لکھنے کا نام نہیں، بلکہ محسوس کرنے کا نام ہے۔
میں اصنافِ ادب کی مختلف وادیوں میں سفر کر رہی ہوں۔ میری کوشش ہے کہ میں خود کو کسی ایک صنف کا اسیر نہ کروں، کیونکہ ہر صنف کا اپنا ایک الگ لطف اور رنگ ہے۔ میں نے افسانہ لکھا، کیونکہ افسانہ معاشرے کا آئینہ دار ہوتا ہے، اس میں ہم اپنے معاشرے کی تلخ حقیقتوں کو کہانی کے پردے میں بیان کر سکتے ہیں۔ میں نے افسانچہ لکھا، کیونکہ گاہے ایک مختصر سا جملہ صدیوں کا سبق دے جاتا ہے اور اسے مختصر مگر پر اثر کہنا ہی اصل فن ہے۔ میں نظم لکھتی ہوں، جب جذبات کا سیلاب نثر کے بند توڑ دیتا ہے تو وہ نظم کی صورت میں بہہ نکلتا ہے۔ اس کے علاوہ میں نے مختلف ادبی محافل، گروپس اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر مضامین، تبصرے، کالم اور ذاتی تحریریں بھی سپردِ قلم کیں، جنہیں اہلِ ذوق نے تحسین کی نظر سے دیکھا اور حوصلہ افزائی فرمائی۔
میرے نزدیک تحریر محض مشغلہ نہیں، بلکہ ایک روحانی ضرورت ہے، جیسے حیات کے لیے تنفس ضروری ہے۔ جو کچھ زبان ادا نہیں کر پاتی، وہ قلم بیان کر دیتا ہے۔ میرے کردار اکثر ہمارے گرد و پیش کے عام مگر حقیقی انسان ہوتے ہیں، ایک مظلوم عورت، ایک بے بس پدر، ایک خواب دیدہ دختر، ایک محنت کش مزدور یا ایک تنہا طفل۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ ان دبی ہوئی، ان کہی اور ان سنی کہانیوں کو اپنی تحریر کے ذریعے آواز عطا کروں جو ہمارے معاشرے میں دب کر رہ گئی ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ میری تحریر کسی کے درد کا مرہم بنے، کسی کے دل کی آواز بنے۔
میری تحریروں کا مقصود شہرت و ناموری ہرگز نہیں، بلکہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا اور قارئین کے قلوب تک کوئی صادق اور کھری بات پہنچانا ہے۔ میں بخوبی جانتی ہوں کہ میں ابھی طفلِ مکتب ہوں۔ ادب ایک بیکراں سمندر ہے اور میں ابھی اس کے ساحل پر کھڑی ہوں۔ میرے والد، میرے دادا کی دعائیں اور میرے اردو اساتذہ میرے رہنما و مربی ہیں، ان کی اصلاح و حوصلہ افزائی ہی میرا اصل سرمایہ ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ میرے قلم میں مزید تاثیر اور سچائی عطا کرے۔
میری آرزو ہے کہ میری تحریریں قلوب میں جگہ بنائیں، کوئی پڑھ کر مسکرا دے یا تفکر پر مجبور ہو جائے تو میں اپنی محنت کو وصول سمجھوں گی۔ میں اس ادبی سفر کو سیکھتے ہوئے، گرتے ہوئے اور سنبھلتے ہوئے جاری رکھنا چاہتی ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ لفظ زندہ رہتے ہیں، کردار مر جاتے ہیں مگر کہانیاں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں اور لکھنے والے کبھی نہیں مرتے۔
مزید پڑھیں




