پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

نوبل انعام 2026ء ، امریکہ و اسرائیل سیخ پا،تحریر: سید آزاد گیلانی

نقطہ نظر

دنیا میں دولت کمانے والے بے شمار لوگ گزرے ہیں، مگر اپنی دولت کو انسانیت کے نام وقف کرکے تاریخ میں زندہ رہنے والے کم ہیں۔ اسی طرح عالمی اعزازات بھی بہت سے ہیں، لیکن بعض اعزازات کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب ان کے فیصلے دنیا کی طاقت ور ریاستوں کی خواہشات سے ٹکرا جائیں۔ نوبل امن انعام 2026ء کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ اعزاز نہ ملا تو ان کا ردِعمل سامنے آیا، جبکہ انعام یافتہ شخصیت کے اسرائیل سے متعلق مؤقف اور اقوامِ متحدہ میں کردار نے اسرائیلی ناراضی کو بھی نمایاں کر دیا۔ مگر اس تنازعے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے نوبل انعام کی بنیاد، اس کی تاریخ اور اس سال کے فیصلے کو سمجھا جائے۔


الفریڈ نوبل 1833ء میں سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں پیدا ہوئے۔ وہ کیمیا دان، موجد، صنعت کار اور کاروباری شخصیت تھے۔ ڈائنامائٹ کی ایجاد سمیت ان کی صنعتی سرگرمیوں نے انہیں غیرمعمولی دولت عطا کی۔ لیکن ان کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ وہ تھا جو انہوں نے اپنی وفات سے ایک سال پہلے کیا۔ 27 نومبر 1895ء کو پیرس میں اپنی وصیت تحریر کرتے ہوئے انہوں نے اپنی دولت کا بڑا حصہ ایسے انعامات کے لیے مختص کر دیا جو طبیعیات، کیمیا، طب، ادب اور امن کے شعبوں میں انسانیت کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیے جائیں۔


یہ فیصلہ ان کے خاندان کے بعض افراد اور دوسرے حلقوں کے لیے قابلِ قبول نہ تھا۔ وصیت کو قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر نوبل کی خواہش بالآخر پوری ہوئی۔ 1896ء میں ان کی وفات کے بعد طویل مذاکرات اور قانونی پیچیدگیوں کے حل کے نتیجے میں نوبل فاؤنڈیشن قائم ہوئی اور 10 دسمبر 1901ء کو پہلی مرتبہ نوبل انعامات تقسیم کیے گئے۔


یہ محض کسی دولت مند شخص کی وصیت نہیں تھی؛ یہ دولت کے استعمال سے متعلق ایک غیرمعمولی تصور تھا۔ نوبل نے اپنی کمائی کو صرف خاندانی وراثت بنانے کے بجائے علم، ادب، طب اور امن کے لیے وقف کیا۔ ان کے اس فیصلے نے ایک ایسا عالمی معیار قائم کرنے کی کوشش کی جس میں انسان کی خدمات کو اس کی قومیت اور سرحدوں سے بالاتر ہوکر دیکھا جائے۔ یہی نوبل انعام کی اصل روح ہے۔


نوبل انعام کی تاریخ ایسے ناموں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں اور انسانی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ طبیعیات اور طب میں سائنسی دریافتوں نے انسانی زندگی کو بدلا، ادب میں ارنسٹ ہیمنگوے اور گیبریل گارسیا مارکیز جیسے ادیبوں نے انسانی تجربات کو نئی زبان دی، جبکہ امن کے شعبے میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر، نیلسن منڈیلا اور ملالہ یوسفزئی جیسی شخصیات عالمی سطح پر پہچانی گئیں۔ 1994ء میں یاسر عرفات، اسحاق رابین اور شمعون پیریز کو بھی مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے کوششوں کے اعتراف میں مشترکہ طور پر نوبل امن انعام دیا گیا۔


تاہم نوبل انعام حاصل کرنا کسی شخصیت کے ہر سیاسی مؤقف کی توثیق نہیں ہوتا، نہ ہی انعام سے محروم رہ جانا اس کی تمام خدمات کی نفی کرتا ہے۔ ہر سال انعام یافتگان کا انتخاب مخصوص شعبے اور معیار کے تحت کیا جاتا ہے۔ اختلاف کی گنجائش اپنی جگہ، مگر انعام کو کسی ریاست کی پسند و ناپسند کے مطابق تقسیم ہونے والا اعزاز سمجھنا اس کی بنیادی نوعیت کو نظرانداز کرنا ہے۔


نوبل انعام 2026ء: کس کو ملا اور کیوں؟


2026ء کے نوبل انعامات میں مختلف شعبوں کی نمایاں شخصیات کو اعزاز سے نوازا گیا۔ طبیعیات میں فرانسس ہالزن، طب میں کارل ڈیسیروتھ، پیٹر ہیگمن اور جارج ناگل، کیمیا میں فرانسس کاگان اور کینسو سوئی، ادب میں کینیڈین ادیبہ این کارسن، جبکہ معاشیات میں رابرٹ ایچ ہال اور مائیکل ووڈفورڈ کے نام سامنے آئے۔ انعام یافتگان کی خدمات اپنے اپنے شعبوں میں علمی، سائنسی اور فکری اہمیت رکھتی ہیں۔


لیکن عالمی سیاست کی توجہ کا مرکز بنا نوبل امن انعام 2026ء، جو جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی ممتاز قانون دان ناوی پِلّے کو دیا گیا۔ وہ اقوامِ متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق رہ چکی ہیں، بین الاقوامی عدالتی اداروں میں خدمات انجام دے چکی ہیں اور فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ بھی رہی ہیں۔ نوبل کمیٹی نے انہیں بین الاقوامی قانون کے فروغ، جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے احتساب کے لیے ان کی طویل جدوجہد کے اعتراف میں منتخب کیا۔


ناوی پِلّے کا انتخاب محض ایک انسانی حقوق کی ماہر کو اعزاز دینے کا فیصلہ نہیں تھا؛ اس کے سیاسی اثرات بھی تھے۔ ان کے زیرِ قیادت اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا تھا۔ اسرائیل نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا، جبکہ کمیشن نے اپنے نتائج کے حق میں شواہد پیش کیے۔ اس لیے انعام کے اعلان نے پہلے سے موجود اختلاف کو مزید نمایاں کر دیا۔


یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: کسی تحقیقاتی کمیشن کا نتیجہ اور کسی مجاز عدالت کا حتمی فیصلہ ایک چیز نہیں۔ اس کے باوجود بین الاقوامی قانون کے تحت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، شہریوں کے تحفظ اور جنگی جرائم کے احتساب کا سوال اپنی جگہ اہم رہتا ہے۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر نوبل امن انعام کے حصول کی خواہش ظاہر کی۔ ان کے حامیوں نے مختلف سفارتی کوششوں، ابراہیم معاہدوں اور تنازعات کے حل کے لیے ان کے کردار کو اس اعزاز کے حق میں دلیل بنایا۔ ٹرمپ نے بھی اپنے کردار کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کا اعتراف ملنا چاہیے۔


تاہم ان کی سفارتی سرگرمیوں کے بارے میں عالمی رائے یکساں نہیں۔ حامی بعض معاہدوں اور مذاکرات کو کامیابی قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین پوچھتے ہیں کہ ان اقدامات کے نتائج کتنے پائیدار رہے، کن تنازعات کا حقیقی حل نکلا اور زمینی صورتِ حال میں امن کس حد تک مستحکم ہوا۔ کسی رہنما کی امن کوششوں کا جائزہ صرف اس کے اپنے دعووں سے نہیں، بلکہ عملی نتائج، معاہدوں کی پائیداری اور متعلقہ فریقوں کے تجربات سے لیا جاتا ہے۔


2026ء کے انعام کے اعلان سے قبل ٹرمپ نے پھر کہا کہ وہ اس اعزاز کے مستحق ہیں، مگر 9 اکتوبر کو جب نوبل امن انعام ناوی پِلّے کے نام ہوا تو ان کا ردِعمل سخت تھا۔ انہوں نے ناروے اور نوبل کمیٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا، فیصلے کو شرم ناک قرار دیا اور ناوی پِلّے کو ایک غیرمعروف شخصیت کہہ کر ان کے انتخاب پر اعتراض کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ مختلف تنازعات میں ان کے کردار کو نظرانداز کیا گیا۔


یہ ردِعمل اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا کسی عالمی اعزاز کی اہمیت اس کے حصول سے متعین ہوتی ہے یا ان اصولوں سے جن کے تحت اسے دیا جاتا ہے؟ ٹرمپ کو انعام نہ ملنے سے ان کی ہر سفارتی کوشش خودبخود بے معنی نہیں ہوجاتی، لیکن انعام نہ ملنے پر کمیٹی کو نشانہ بنانا بھی اس بات کا ثبوت نہیں کہ فیصلہ لازماً جانبدارانہ تھا۔


امریکہ اور اسرائیل سیخ پا کیوں ہوئے؟


امریکی ناراضی کو سمجھنے کے لیے ٹرمپ کی ذاتی خواہش اور امریکی خارجہ پالیسی کے وسیع تر تناظر کو الگ الگ دیکھنا ہوگا۔ ٹرمپ کے لیے نوبل امن انعام ان کی سفارتی کامیابیوں کا عالمی اعتراف بن سکتا تھا۔ انعام نہ ملنے پر ان کی تنقید نے اس مایوسی کو نمایاں کیا، مگر یہ کہنا کہ پورا امریکہ صرف اسی وجہ سے ناراض ہے، ایک غیرضروری تعمیم ہوگی۔ امریکی حکومت، سیاسی حلقوں اور عوام کی آرا کو ایک ہی رائے نہیں سمجھا جا سکتا۔


اسرائیل کے لیے معاملہ زیادہ براہِ راست ہے۔ ناوی پِلّے اسرائیلی حکومت کی غزہ پالیسیوں پر سخت تنقید کرنے والے اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی عمل کی سربراہ رہی ہیں۔ اسرائیلی حکام ان کے کمیشن کے نتائج کو جانبدارانہ قرار دیتے اور اسرائیل کے خلاف سیاسی مہم کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نوبل امن انعام نے اسرائیل اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا۔ اسرائیلی حلقوں کی جانب سے پِلّے پر سخت تنقید بھی اسی تناظر میں سامنے آئی۔


امریکی انتظامیہ نے 9 اکتوبر کو، نوبل امن انعام کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف نئی پابندیاں بھی عائد کیں۔ اس زمانی قربت نے اس معاملے کو مزید سیاسی اہمیت دی، اگرچہ صرف ایک ہی دن میں ہونے والے واقعات کو براہِ راست ایک دوسرے کا نتیجہ قرار دینے کے لیے الگ شواہد درکار ہیں۔ بہرحال، بین الاقوامی عدالتوں اور انسانی حقوق کے اداروں کے ساتھ امریکی اور اسرائیلی کشیدگی اس تنازعے کا اہم پس منظر ہے۔


یہی وہ مقام ہے جہاں نوبل انعام ایک اعزاز سے بڑھ کر عالمی سیاست کی بحث بن جاتا ہے۔ جب کوئی شخصیت کسی طاقت ور ریاست کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے بین الاقوامی قانونی عمل سے وابستہ ہو اور پھر اسے امن کا اعزاز ملے تو اس انتخاب کو سیاسی پیغام کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ نوبل کمیٹی نے لازماً کسی ملک کو سزا دینے کے لیے فیصلہ کیا؛ کمیٹی نے اپنی سرکاری وضاحت میں ناوی پِلّے کی بین الاقوامی قانون اور انصاف کے لیے خدمات کو بنیاد بنایا۔


اصل مسئلہ انعام نہیں، اصول ہیں


الفریڈ نوبل نے اپنی دولت کو انسانیت کے لیے وقف کرتے ہوئے یہ تصور پیش کیا تھا کہ غیرمعمولی خدمات کا اعتراف قومیت، سرحدوں اور طاقت کے پیمانوں سے بالاتر ہوکر کیا جائے۔ ان کے بعد قائم ہونے والے انعامات کی تاریخ میں اختلافات بھی رہے، متنازع فیصلے بھی ہوئے اور بعض انتخاب پر سخت تنقید بھی کی گئی۔ اس لیے نوبل کمیٹی کو سوالات سے بالاتر قرار دینا درست نہیں، لیکن اس کے فیصلے کو محض اس بنیاد پر مسترد کرنا بھی مناسب نہیں کہ کسی طاقت ور رہنما کو مطلوبہ اعزاز نہیں ملا۔


ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کا جائزہ ان کے عملی نتائج کی بنیاد پر ہونا چاہیے، جبکہ ناوی پِلّے کے انتخاب کو ان کی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے لیے خدمات کے تناظر میں پرکھا جانا چاہیے۔ اسرائیل کے اعتراضات کو بھی ان کے اصل مؤقف اور شواہد کے ساتھ سمجھنا چاہیے، مگر کسی ریاست کی ناراضی کو بذاتِ خود کسی فیصلے کی غلطی کا ثبوت نہیں بنایا جا سکتا۔


آخرکار، نوبل امن انعام کسی صدر کے سیاسی مرتبے کا تاج نہیں، نہ ہی کسی ملک کی عالمی طاقت کا سرٹیفکیٹ ہے۔ اس کی اصل قدر اس اصول میں ہے کہ امن، انسانی وقار اور قانون کی بالادستی کو طاقت کے مقابلے میں بھی اہمیت دی جائے۔ امن کا حقیقی امتحان انعام حاصل کرنا نہیں، بلکہ اختلاف کے باوجود انصاف، قانون اور انسانی جان کے احترام کو تسلیم کرنا ہے۔


الفریڈ نوبل نے اپنی دولت انسانیت کے نام کی تھی؛ آج دنیا کے سامنے سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان کے اس تصور کو بھی انسانیت کے نام رہنے دیں گے، یا ہر عالمی اعزاز کو اپنی سیاسی پسند، قومی انا اور طاقت کے ترازو میں تولتے رہیں گے؟