خیبرپختونخوا: خستہ حال اسکولوں میں تدریسی عمل فوری روکنے کے احکامات

پشاور: خیبرپختونخوا میں خستہ حال اسکولوں میں تدریسی عمل فوری طور پر روکنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے ضلعی تعلیمی افسران (ڈی ای اوز)، ہیڈ ماسٹرز اور اسکول سربراہان کو خستہ حال اسکولوں کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق خطرناک اور خستہ حال عمارتوں میں تدریسی عمل فوری طور پر بند کیا جائے گا، جبکہ متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران کی مشاورت سے طلبہ کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے متبادل انتظامات کیے جائیں گے۔محکمہ تعلیم نے خطرناک قرار دیے گئے اسکولوں کی عمارتوں کا اسٹرکچرل سروے کرانے کی بھی ہدایت کی ہے، جو محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کے انجینئرز مکمل کریں گے۔دوسری جانب محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے سرکاری اسکولوں کے 36 ہزار 967 کلاس رومز خستہ حال ہیں، جبکہ صوبے میں مجموعی طور پر 34 ہزار 784 سرکاری اسکول موجود ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے میں 19 ہزار 224 کلاس رومز کی ازسرنو تعمیر ضروری ہے، جبکہ 17 ہزار 743 کلاس رومز کی مرمت درکار ہے۔پرائیویٹ اسکول ریگولیٹری اتھارٹی (پی ایس آر اے) کے مطابق خیبرپختونخوا میں 11 ہزار 542 نجی اسکول رجسٹرڈ ہیں، تاہم غیر رجسٹرڈ اسکولوں کا ڈیٹا اتھارٹی کے پاس موجود نہیں۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ شکایت موصول ہونے پر غیر رجسٹرڈ اسکولوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں




