کے پی میں نئی 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کے حوالے سے پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا

پاکستان تحریک انصاف سے منسوب سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے خیبر پختونخوا کے حالیہ گورنر راج کے تحت قائم ہونے والی نئی 11 رکنی ایڈوائزری کونسل کے حوالے سے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے-
سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے پروپیگنڈا اکاؤنٹس کی جانب سے پوسٹ شیئر کی جا رہی ہیں کہ خیبرپختونخوا میں نئی تشکیل شدہ ایڈوائزری کونسل ہیلتھ کارڈ پروگرام سمیت دیگر عوامی فلاحی اقدامات ختم کرنے جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ہیلتھ ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر سے یہ بیان بھی منسوب کیا جا رہا ہے کہ ہیلتھ کارڈ پروگرام کی تحقیقات اولین ترجیح ہوں گی۔
یہ تمام خبریں من گھڑت ، جھوٹی اور بے بنیاد ہیں، جن کی کسی مستند یا سرکاری ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی عوام میں کنفیوژن پھیلانے کے لیے ان غیر مصدقہ خبروں کو پھیلایا جا رہا ہے۔
اس معاملے کی اصل صورتحال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے حالیہ گورنر راج کے تحت قائم ہونے والی نئی 11 رکنی ایڈوائزری کونسل میں شامل نئی ہیلتھ ایڈوائزر، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر نے واضح کیا ہے کہ ہیلتھ کارڈ پروگرام کی تحقیقات ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ یہ تحقیقات کسی سیاسی مخالفت یا پروگرام کو بند کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اسکیم کی شفافیت، مبینہ مالی بے ضابطگیوں کو روکنے اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
ایڈوائزری کونسل یا صوبائی انتظامیہ کی جانب سے ہیلتھ کارڈ یا کسی دوسرے فلاحی پروگرام کو ختم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں کونسل کا بنیادی مقصد صوبے میں امن و امان کا قیام، دہشت گردی کا خاتمہ اور انتظامی و معاشی شعبوں میں موثر اصلاحات لانا ہے، نہ کہ عوامی سہولیات کو بند کرنا۔
عوام سے گزارش ہے کہ ایسی خبروں پر یقین کرنے اور انہیں آگے شیئر کرنے سے گریز کریں اور صرف مستند و تصدیق شدہ ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔
مزید پڑھیں





