نئی آٹو پالیسی جاری: گاڑیاں سستی اور برآمدات 6 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف

وفاقی حکومت نے نئی آٹو پالیسی کا اعلان کردیا ہے، جس کے تحت گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی، الیکٹرک وہیکلز کے فروغ اور گاڑیوں کی برآمدات 6 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے-
ہفتے کے روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت ہار ون اختر نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی سے مڈل اور اپر کلاس کے لیے گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی آئے گی، وزیراعظم چھوٹی گاڑیوں کو سستا کرنا چاہتے ہیں اور چھوٹی گاڑیوں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کے خلاف ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ حکومت نے طویل مشاورت کے بعد پالیسی مرتب کی ہے، بڑی صنعتوں کی ترقی حکومت کی ترجیح ہے تاہم پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں ہے اور آٹو سیکٹر سے ٹیکس جمع کرنا بھی ضروری ہے، روایتی گاڑیوں سے ٹیکس وصول کیا جائے گا جب کہ الیکٹرک گاڑیوں کو مراعات دی جائیں گی۔
ہارون اختر نے کہا کہ الیکٹرک وہیکلز کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے، الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کردی گئی ہے جب کہ انہیں کئی اقسام کے ٹیکسز سے بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فیصد ٹیکس کے معاملے پر آئی ایم ایف سے بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ 5 سال میں 30 فیصد گاڑیوں کو الیکٹرک پر منتقل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو وقت سے پہلے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ خطے میں کشیدگی کے باعث الیکٹرک وہیکلز کی اہمیت بڑھی ہے اور ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے،اس وقت گاڑیوں کی برآمدات تقریباً 20 کروڑ ڈالر ہیں، جنہیں نئی پالیسی کے تحت 6 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے، حکومت گاڑیاں برآمد کرنے والی کمپنیوں سے ہر ممکن تعاون کرے گی جب کہ برآمدات نہ کرنے والی مقامی گاڑیاں ساز کمپنیوں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے اور مقررہ برآمدی ہد ف پورا نہ کرنے والے مینوفیکچررز کو بھی جرمانے کا سامنا کرنا ہوگا۔
ہارون اختر نے کہا کہ مقامی سطح پر گاڑیوں کے پرزہ جات کی تیاری بڑھانے کی ضرورت ہے، نئی پالیسی سے گاڑیاں بنانے کے اخراجات بھی کم ہوں گے، اس وقت ملک میں کاروں کے 16 مینوفیکچررز ہیں،گاڑیوں کی حفاظت اورمعیار بہتر بنانے کے لیے 45 نئے اضافی اسٹینڈر ڈز اور سیفٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں، جن سے پاکستانی گاڑیاں عالمی معیار کے قریب آئیں گی۔ نئی پالیسی کے تحت کوئی بھی مینوفیکچر ر گاڑی کی قیمت کا 20 فیصد سے زیادہ ایڈوانس وصول نہیں کرسکے گاانہوں نے واضح کیا کہ 1000 سی سی سے کم گاڑیوں پر کوئی ا ضا فی ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔
اس موقع پر وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت نے جامع آٹو پالیسی تیار کی ہے، جس کا مقصد ملک کو گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے درآمدی بل سے نجات دلانا اور عام شہری کو سہولت فراہم کرنا ہے کئی دہائیوں سے تحفظ پر مبنی پالیسیاں نافذ رہی ہیں لیکن مقامی صنعت نے گاڑیوں میں ویلیو ایڈیشن نہیں کی، حکومت کی کوشش ہے کہ عام پاکستانی کو سستی اور معیاری گاڑیاں ملیں۔
عطا تارڑ نے واضح کیا کہ نئی پالیسی میں 800 اور 1000 سی سی گاڑیوں کو نہیں چھیڑا گیا جب کہ الیکٹرک وہیکلز کو بڑی مراعات دی گئی ہیں ملک کا تیل درآمد کرنے کا بل مسلسل بڑھ رہا ہے، اگر درآمدی بل میں کمی آئے تو یہ رقم صحت اور تعلیم جیسے شعبو ں پر خرچ کی جاسکتی ہےالیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے ماحولیاتی آلودگی کم کرنے میں بھی مدد ملےگی ہماری بہنیں الیکٹرک بائیکس پر سفر کرتی ہیں، حکومت الیکٹرک وہیکلز کےفروغ کے ذریعے عوام کو سہولت دینا چاہتی ہے انہوں نے نئی آٹو پالیسی کی تیاری کو وزیراعظم کا اہم اقدام قرار دیا۔





