ٹین ایج کے مسائل اور والدین ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم
نقطہ نظر
انسانی زندگی کے سفر میں بچپن کی بے فکری اور جوانی کی سنجیدہ ذمہ داریوں کے درمیان ایک ایسا پراسرار اور پرآشوب موڑ آتا ہے جسے ہم 'ٹین ایج' یا نو عمری کہتے ہیں۔ یہ وہ دورانیہ ہے جہاں ایک ہنستا کھیلتا، ہر بات پر ماں باپ کے پیچھے بھاگنے والا معصوم بچہ اچانک اپنی ہی ذات کے خول میں بند ہونے لگتا ہے، کمرے کے دروازے بند رہنے لگتے ہیں، اور چہرے پر بلاوجہ کی اداسی یا بات بے بات کا غصہ ڈیرے ڈال لیتا ہے۔ ہمارے روایتی معاشرے میں والدین کی ایک بڑی اکثریت اس غیر متوقع تبدیلی کو بچے کی بدتمیزی، سرکشی یا بگڑنے سے تعبیر کرتی ہے۔ لیکن اگر حقیقت کے پردے چاک کیے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی ضد یا اخلاقی زوال کا نتیجہ نہیں، بلکہ انسان کے اندر برپا ہونے والا ایک ہمہ گیر کیمیائی، جسمانی اور نفسیاتی انقلاب ہے جس کے طوفان سے ہر نوعمر بے بس ہو کر گزرتا ہے۔
حیاتیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو نو عمری میں بچے کا جسم ایک ایسی تجربہ گاہ بن جاتا ہے جہاں ہارمونز کا زبردست طوفان امڈ رہا ہوتا ہے۔ لڑکوں میں ٹیسٹوسٹیرون اور لڑکیوں میں ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کی مقدار میں یکایک بے پناہ اضافہ ہوتا ہے، جو ان کے جسم، آواز، خدوخال اور عادات کو تیزی سے بدل دیتا ہے۔ قد کا ناپختہ بڑھنا، چہرے پر نکلنے والے دانے اور آواز کا بھاری پن ان کے اندر شدید قسم کا احساسِ کمتری اور عدم تحفظ پیدا کرتے ہیں۔ اس عمر میں انسان کا سارا دھیان اس وسوسے پر لگ جاتا ہے کہ لوگ اس کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں۔ اس جسمانی توڑ پھوڑ سے بھی زیادہ نازک معاملہ ان کے دماغی نظام کا ہے۔ جدید سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ نو عمری میں انسانی دماغ کا وہ حصہ جو جذبات، غصے اور ہیجان کو سنبھالتا ہے، یعنی امیگڈالا، حد درجہ بیدار اور متحرک ہوتا ہے؛ جبکہ عقل، منطق، دور اندیشی اور ضبطِ نفس کا کنٹرول سنبھالنے والا مرکز تقریباً پچیس برس کی عمر تک پہنچ کر پختہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نو عمر بچے کے ردِعمل میں منطق کے بجائے جذبات پہلے ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ پہلے بول اٹھتے ہیں یا مشتعل ہو جاتے ہیں، اور بعد میں سوچتے ہیں کہ انہوں نے کیا کر دیا۔ اس لیے ان کے وقتی چڑچڑے پن کو ارادی بدتہذیبی سمجھ لینا والدین کی سب سے بڑی غلط فہمی ہوتی ہے۔
اس حیاتیاتی طوفان کے سائے تلے نفسیاتی اور جذباتی الجھنیں جنم لیتی ہیں۔ نو عمری دراصل شناخت کے بحران کا دور ہے۔ بچہ یہ جاننے کی کشمکش میں مبتلا ہوتا ہے کہ وہ درحقیقت کون ہے اور اس دنیا میں اس کی حیثیت کیا ہے۔ اب وہ نہ تو مکمل طور پر بچہ رہتا ہے کہ کھلونا تھما کر بہلا دیا جائے، اور نہ ہی بڑا کہ تمام فیصلے خود کر سکے۔ ہم عمروں کے گروہ میں قبولیت کی شدید طلب اسے ایک مستقل دباؤ میں رکھتی ہے۔ اس پر مستزاد آج کا ڈیجیٹل دور اور سوشل میڈیا ہے، جہاں دکھاوے کی چمک دمک، پرفیکٹ نظر آنے کا خبط اور مسلسل موازنہ نوعمر ذہن کو اضطراب، بے چینی اور تنہائی کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔ جب بچے کے اندر یہ تمام جنگیں بیک وقت لڑی جا رہی ہوں اور باہر سے اسے صرف ڈانٹ ڈپٹ ملے، تو وہ دنیا سے کٹ کر خاموشی کی چادر اوڑھ لیتا ہے، اور یہی خاموشی آگے چل کر ڈپریشن کی شکل اختیار کر جاتی ہے۔
یہاں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طوفانی مرحلے پر والدین کا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے۔ المیہ یہ ہے کہ اکثر گھرانوں میں والدین نادانستہ طور پر اس نازک موڑ کو ایک محاذ بنا دیتے ہیں۔ ہر وقت کی روک ٹوک، ڈائری اور فون کی تفتیش، خاندان کے دیگر بچوں کے نمبروں سے موازنہ، اور بات بے بات یہ طعنہ دینا کہ "ہمارے دور میں تو بچے ماں باپ کے سامنے بولتے بھی نہیں تھے"، درحقیقت تعلقات کو ہمیشہ کے لیے مجروح کر دیتا ہے۔ نو عمری میں بچے کو کسی کمانڈر یا تفتیشی افسر کی نہیں، بلکہ ایک محفوظ پناہ گاہ اور سچے ہمدرد کی ضرورت ہوتی ہے۔ والدین کو سمجھنا ہوگا کہ محض احکامات جاری کرنے کا وقت اب گزر چکا ہے، اب شراکت داری اور باہمی مکالمے کا دور شروع ہو چکا ہے۔ جب بچہ غصے میں چیخ رہا ہو، تو اس لمحے اس پر پلٹ کر دھاڑنا جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اس وقت کا صبر اور ضبط اصل حکمت ہے؛ جب غبار چھٹ جائے تو پیار سے اس کے پاس بیٹھ کر یہ پوچھنا چاہیے کہ اسے کس بات نے اتنی تکلیف پہنچائی۔
تعلق کی اس خلیج کو پاٹنے کا واحد اور اکسیر نسخہ گھر میں گفتگو اور سچی دوستی کی فضا قائم کرنا ہے۔ دوستی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ والدین کا وقار اور احترام ختم ہو جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ احترام کی بنیاد خوف کے بجائے باہمی محبت اور اعتماد پر استوار ہو۔ جب بچہ تعلیمی ادارے سے لوٹے تو اس پر سوالات کی بوچھاڑ اور نصیحتوں کی پٹاری کھولنے کے بجائے صرف ایک سچے سامع کی طرح اس کی بات سنیں۔ اس کی روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی الجھنوں کو بلا توقف غلط ثابت کرنے کے بجائے اس کے جذبات کو تسلیم کریں۔ گھر کے فیصلوں میں ان سے رائے مانگیں، ان کی پسند کے مشاغل یا ٹیکنالوجی کے موضوعات پر خود ان سے سیکھنے کا انداز اپنا کر انہیں یہ احساس دلائیں کہ ان کی رائے کی کوئی وقعت ہے۔ جب والدین اپنی گزری ہوئی عمر کی نادانیوں اور ناکامیوں کا کھل کر اعتراف کرتے ہیں، تو بچے کے دل سے یہ بوجھ اتر جاتا ہے کہ دنیا میں صرف وہی غلطیوں کا پتلا نہیں ہے۔
سب سے بڑی دانشمندی یہ ہے کہ بچے کو غیر مشروط قبولیت کا یقین دلایا جائے۔ اسے یہ بھروسا ہونا چاہیے کہ اگر زندگی میں اس سے کوئی بڑی لغزش بھی سرزد ہو جائے، تو اس کے ماں باپ کا دامن اسے باہر کی ظالم دنیا سے پناہ دے گا، نہ کہ گھر کے اندر ہی اسے مجرم بنا کر کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے گا۔ جس گھر کے دروازے بے لاگ اور کھلی گفتگو کے لیے کھلے رہتے ہیں، وہاں کا بچہ باہر جا کر کسی غلط صحبت یا فریب کے دام میں نہیں پھنستا۔ نو عمری وہ نازک پل ہے جس پر قدم لڑکھڑانا فطری ہے؛ اس پل پر اگر والدین کا ہاتھ حاکمانہ سختی کے بجائے دوستانہ شفقت سے تھاما ہوا ہو، تو یہ کٹھن سفر زندگی کے سب سے پروقار اور روشن مستقبل کی طرف نکل جاتا ہے۔
مزید پڑھیں



