اسمبلیوں کی گرد اور اقلیتیں،تحریر: خالد شہزاد
نقطہ نظر
کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے کی پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے اقلیتی طبقے کے ساتھ کیا سلوک روا رکھتا ہے۔ پاکستان کے آئین اور بنیادی حقوق کا فریم ورک تمام شہریوں کو یکساں تحفظ اور مذہبی آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے، تاہم عملی میدان میں اقلیتوں کو درپیش چیلنجز اکثر قانون سازی اور عمل درآمد کے درمیان پائے جانے والے فاصلے کو واضح کرتے ہیں۔اقلیتیں پاکستان کا ایک لازمی اور قدر کی حامل حصہ ہیں، جنہوں نے قیامِ پاکستان سے لے کر ملکی تعمیر و ترقی، دفاع اور خدمات کے شعبوں میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔دہائیوں سے اقلیتی برادریاں ، بالخصوص ہندو اور مسیحی برادریاں، اس تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں کہ ان کی کمسن بچیوں کو جبری طور پر مذہب تبدیل کروا کر کم عمری میں شادیوں پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایسے میں۲۰۱۶ میں سندھ اسمبلی کے اس قدم نے یہ واضح پیغام دیا کہ ریاست ان ناانصافیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لے رہی ہے اور اقلیتوں کو قانونی تحفظ فراہم کریگی۔۲۰۱۶ قومی اسمبلی میں رکنِ اسمبلی لال چند مالی کی جانب سے جمع کروائی گئی قرارداد کا منظور ہونا بھی اس بات کا ثبوت تھا کہ اقلیتی حقوق اب محض مقامی یا نجی بحث نہیں رہے بلکہ قومی پارلیمان کی ترجیحات میں شامل ہو چکے ہیں۔2016ء میں پیش کیے جانے والے بلز اور قراردادیں ایک درست سمت کا تعین تو کرتی ہیں، لیکن محض ارادے کافی نہیں ہوتے۔ پاکستان کو اپنے عالمی امیج، معاشی مفادات اور سب سے بڑھ کر آئینی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی میں عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ اگرچہ قانون کا پاس ہونا پہلا اور اہم قدم ہوتا ہے، لیکن صرف قانون بنا دینے سے ناانصافیاں خود بخود ختم نہیں ہو جاتیں۔ قانون ایک آلہ ہے، اور اس کا مؤثر ہونا اس کے نفاذ ، عدالتی نظام کی فعالیت اور انتظامی نیت پر منحصر ہوتا ہے۔
قانون کا وجود اور اس پر عمل درآمد دو الگ حقیقتیں ہیں۔ جب تک معاشرتی رویے، پولیس کا تفتیشی نظام اور عدالتی عمل اقلیتوں کے لیے شفاف اور غیر جانبدار نہ بنائے جائیں، تب تک محض کاغذ پر لکھے ہوئے قوانین اقلیتوں کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکتے۔ اکثر اوقات جب جبری تبدیلیٔ مذہب یا کم عمری کی شادی کا معاملہ عدالت پہنچتا ہے تو قانونی کارروائی سے زیادہ مقامی اور سماجی دباؤ اثر انداز ہوتا ہے جسکی وجہ سے ادارتی قوتیں سست روی ، قوانین کے بننے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے متعلقہ طریقہ کار وضع کرنے میں غیر معمولی تاخیر قوانین کے اثر کو زائل کر دیتی ہے۔ 2016ء کے بعد سے ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ان قراردادوں اور قانونی مسودوں پر کامل عمل درآمد نہ ہونا واقعی مایوس کن ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں ۔بعض اوقات شدت پسند یا روایتی طبقوں کے ردِعمل سے بچنے کے لیے حکومتیں اور سیاسی جماعتیں اقلیتی حقوق سے متعلق قوانین کو نافذ کرنے میں پس و پیش سے کام لیتی ہیں۔ پولیس اور مقامی انتظامیہ اکثر اقلیتی قوانین کی باریکیوں سے واقف نہیں ہوتی یا پھر حساس معاملات میں دباؤ کے تحت کارروائی کرنے سے گریز کرتی ہے۔جب بھی توہین کے الزامات سامنے آتے ہیں تو اکثر پورا محلہ یا برادری خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگتی ہے۔ ہجوم کی جانب سے قانون ہاتھ میں لینے کے واقعات سے اقلیتی شہریوں کے روزمرہ کے کاروبار اور زندگی کے معمولات شدید متاثر ہوتے ہیں۔لاہور اور نارنگ منڈی جیسے واقعات میں توہینِ مذہب کے الزامات اور اس کے نتیجے میں اقلیتی برادریوں میں پیدا ہونے والی خوف و ہراس کی فضا تشویشناک ہے۔ریاست کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے معاملات میں غیر جانبدارانہ تفتیش یقینی بنائے اور توہینِ مذہب کے قانون کے غلط استعمال یا ذاتی عناد کی بنا پر الزام تراشی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے۔پنجاب اور بلوچستان سے ہندو کمیونٹی کے نمائندے کو متروکہ املاک بورڈ میں مناسب جگہ نہ ملنا ایک سنگین انتظامی خامی کو ظاہر کرتا ہے۔جب اقلیتی برادریوں کے مذہبی مقامات اور املاک کا انتظام سنبھالنے والے بورڈز میں ان کے اپنے باصلاحیت نمائندے شامل نہیں ہوں گے، تو اس سے حکومتی وژن پر سوالات اٹھنا فطری ہے۔وزیر اعظم پاکستان کے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے وژن اور صوبائی وزارتی نمائندگی کا حقیقی امتحان یہی ہے کہ اقلیتوں کو محض تقاریر تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اہم فیصلہ ساز اداروں میں ان کی باقاعدہ نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ اقلیتی قوانین کے نفاذ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔متروکہ املاک بورڈ اور دیگر انتظامی اداروں میں اقلیتوں کی منصفانہ نمائندگی کو حتمی شکل دی جائے، توہین کے الزامات میں ہجوم کی انصاف پسندی کی جگہ قانون کی بالادستی قائم کی جائے۔صرف اسی صورت میں پاکستان ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے جہاں تمام شہری، بلا تفریقِ مذہب و ملت، خود کو مساوی اور محفوظ محسوس کر سکیں اور موجودہ بدلتے ہوئے بین الاقوامی اور علاقائی حالات میں کسی بھی ملک کے لیے اپنی اقلیتوں کو نظر انداز کرنا یا ان کے حقوق میں غفلت برتنا سفارتی اور اخلاقی طور پر انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔





