اعتماد کی قوت اور طاقت بے مثال ہے اعتماد ایک ایسا عمل ہے جو دیگر تمام چیزوں کو تبدیل کر کے رکھ دیتا ہے ۔ اعتماد ہم پر سال کے 365 دن اثر انداز ہوتا ہے یہ معیار کو بڑھاتا ہے ۔ موجودہ لمحے کو بہتر سے بہترین کر دیتا ہے۔ بہترین نتائج دیتا ہے۔ اعتماد کو تخلیق کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک سرمایہ ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اعتماد کیسے قائم کیا جائے؟ کیسے بڑھایا جائے؟ کیسے بحال کیا جائے؟
پھر اگلا مرحلہ شروع ہوتا ہے کہ اعتماد کس پر کیا جائے؟ یا ہم کس پر اعتماد کرتے ہیں؟ اپ پر کون اعتماد کرتا ہے؟
سوچا جائے تو ہماری زندگی اعتماد کے ستون پر ہی کھڑی ہوئی ہے اعتماد دراصل انسانی شخصیت کے ڈھانچے کی بنیاد ہے ۔ لیکن سب سے پہلے درجے کا اعتماد اپنی ذات پر اعتماد ہے۔ اونچے درجے کا کردار اور اونچے درجے کی اہلیت اپ کو قابل اعتماد اور معتبر بناتی ہے۔ دوسرے درجے پر تعلقات میں اعتماد یعنی کہ اپ اپنا اعتماد اکاؤنٹ کیسے قائم کریں۔ یہ اعتماد اکاؤنٹ ساری زندگی کا اثاثہ بن جاتا ہے ۔ تیسرے اور چوتھے درجے درجے پر نیک نامی ہے اب نیک نامی کو سمجھنے کے لیے یہ سمجھنا بڑا ضروری ہے۔ کہ نیک نامی کردار کی اس اعلی خصوصیت کا نام ہے جو بظاہر تو اتنی اہم نظر نہیں اتی لیکن ایک مرتبہ اگر کسی شخص کے ساتھ نیک نامی کا لفظ جڑ جائے تو پھر مرتے دم تک اس معیار پر پورا اترنا اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنا انتہائی مشکل امر ہو جاتا ہے اس کے لیے اپنی ذات کے مختلف پہلوؤں پر محنت کرنا اور پھر سوچ بچار کے دریچوں کو وا کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ایک بہترین پھلدار اور سایہ دار درخت لگانے کے لیے بہترین وقت 20 سال قبل ہے۔ اور دوسرا بہترین وقت اج ہے ہماری زندگی میں لمحہ موجود کی بھی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کہ 20 سال قبل کے وقت کی ہے۔ سب سے پہلے کسی چیز کو سمجھیں، پرکھیں، دیکھیں، غور کریں اور پھر اگر ان تمام پیمانوں پر اپ کی سوچ کے زاویے پورے اترتے ہیں اور کوئی مدلل جواب سامنے ائے۔ کوئی مؤثر سوال سمجھ میں ائے ۔ تو پھر بولیں، منہ کھولیں اور اپنے خیالات کا اظہار کریں ورنہ اس کوشش میں اگر ایک بھی مرحلہ کامیابی سے طے نہ طے پایا تو اعتماد بحال نہیں ہو سکے گا۔ اعتماد قائم نہیں ہو سکے گا۔ اعتماد اور باہمی تعلقات کا بہت پرانا ساتھ ہے اعتماد کا چشمہ استعمال کریں۔ بحث مباحثے اور ایک دوسرے کو سمجھنے پرکھنے کا طریقہ کار بدل کر دیکھیں۔ اپنا
ما فی الضمیر بیان کریں اور اپنا ما فی الضمیر بیان کرنا سیکھیں۔ اپنی ترجیحات طے کریں اعتماد کی رفتار کو سمجھیں مقام اعتماد حاصل کریں خود سے بار بار ائینے کے سامنے کھڑے ہو کر یہ سوال کریں کیا میں اعتماد کے قابل ہوں کیا لوگ مجھے اپنی رائے باآسانی بتاؤ اور سمجھا سکتے ہیں کیا لوگ مجھ سے اپنی باتیں چھپانا پسند کرتے ہیں میں لوگوں کے اعتماد پر کس قدر پورا اتر سکتا ہوں۔
تعلقات کی سطح پر اعتماد معاشرتی سطح پر اعتماد ۔ ادارہ جاتی سطح پر اعتماد رشتے ناطو ں کی سطح پر اعتماد اور ذاتی سطح پر اعتماد از حد ضروری ہے جوں ہی اپ کام کاج پر جائیں اپ کی بڑی ذمہ داری اعتماد کی تعمیر کو سرانجام دینا بن جاتی ہے اپ کس پر اعتماد کرتے ہیں اور اپ پر کون اعتماد کرتا ہے یہ دو سوال بڑے ہی اہم ہیں یعنی کہ جو خصوصیات اپ دوسروں میں اپنے اعتماد کی کیفیت کو لے کر دیکھتے ہیں اسی طرح دوسرے بھی اپ کو انہی خصوصیات کی نوعیت پر جانچتے پرکھتے اور پھر اعتماد کی بلند سطح پر لاتے ہیں۔ اعتماد کی سب سے بڑی اور اہم درجہ خود اعتمادی کا ہے تعلقات میں اعتماد تو بڑے بعد کی بات ہے۔ سب سے پہلا درجہ ہمارا ہماری ذات پر اعتماد ہے اپنی خصوصیات پر اعتماد کرنا اور اپنی کمیوں اور ناکامیوں کو دور کرنا اور اپنی ذات کے اندر پائی جانے والی منفی سوچوں کو ہٹانا یا کم کرنا یہ ہمارے اپنے قابو میں ہونا چاہیے جس شخص کا آپنی ذات اپنے مزاج ۔اپنی مایوسیوں اور اپنی قابلیتوں پر قابو نہیں ہوتا وہ دوسروں کے اعتماد کے درجے پر پورا نہیں اتر سکتا آپ خود ہی اپنے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہوں اور دوسروں سے توقعات یہ کر رہے ہوں کہ وہ آپ کی ذات پر اعتماد کریں گے انتہائی منفی سوچ ہے اعتماد کے چشمے کو استعمال کریں اپنی نظر کا چشمہ تبدیل کریں اور دنیا کو اسی نظریے سے دیکھیں جس سے آپ چاہتے ہیں کہ دنیا آپ کو دیکھے پہلے اپنی ترجیحات طے کریں۔ اگر اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو مومن کی خصوصیات میں سب سے اہم خصوصیت راست بازی ۔ ایمانداری نیت ۔ اہلیت اور نتائج ہے۔ یہ پانچ عناصر ایک دوسرے میں جڑے ہوئے ہیں راست باز شخص ایماندار بھی ہوتا ہے اور پرخلوص نیت کا مالک بھی ہوتا ہے ۔ اس کی اہلیتیں خود بخود عوام کے سامنے آ جاتی ہیں اور پھر وہ نتائج کی پرواہ کیے بغیر اپنی اہلیتوں اور قابلیتوں پر محنت کرتا رہتا ہے۔ اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لیے اہم چیز جس کو مدنظر رکھنا بہت ضروری ہے وہ ہے انکساری ۔ جرات اور وعدے کی پابندی۔ اعتماد اصل میں انسانی رویوں سے جڑا ہوا ہے اور انسانی رویہ کی اعلی درجے کی خصوصیت اور صفت بن جاتا ہے اپ کو پر اعتماد شخصیات میں بڑی اعلی درجے کی خصوصیات بھی نظر اتی ہیں وہ دل کے صاف اور کھرے ہوتے ہیں وہ جو کہہ رہے ہوتے ہیں اس پر ان کا خود بھی یقین اور اعتماد ہوتا ہے ضروری نہیں کہ بہت اچھے انسان اور بہت اچھے لوگ ہی یا نیک نام لوگ ہی پور اعتماد ہوں بلکہ اکثر وہ لوگ جو معاشرتی ٹوٹ پھوٹ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں یا منفی رویے رکھتے ہیں وہ بھی اپنی منفیت سے متعلق بہت پر اعتماد ہوتے ہیں یہ رویے آپ کے کام کے بارے میں آپ کی رائے پر مبنی ہوتے ہیں آپ کی کامیابی کا کیا ریکارڈ ہے یہ آپ کا رویہ یا آپ کی پر اعتماد شخصیت طے کرتی ہے۔ نتائج حاصل کرنے کے لیے ماضی حال اور مستقبل کو اپس میں جوڑنا بڑا اہم ہے کیا اور کیوں کسی بھی پورے اعتماد شخصیت کے لیے بہت اہم ہے ۔ اعتماد کے نتیجے میں عمل پیدا ہوتا ہے اور عمل کے بعد رد عمل سامنے اتا ہے چاہے اپ دفتر میں ہو چاہے آپ استاد ہوں یا زندگی کے کسی بھی شعبے سے منسلک ہو آپ کی پورے اعتماد شخصیت ہی آپ کی کامیابی یا ناکامی کے رویے کو اغاز سے ہی طے کر دیتی ہے ۔ نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ شروع کیا گیا کام اگر ڈگمگائی ہوئی شخصیت اور سوچ کے ساتھ جاری رکھا جائے گا تو کامیابی یقینی ہو نہ ہو ناکامی یقینی ہو جاتی ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ 60 فیصد اپنے کام میں اثپ کو ناکامی حاصل ہو اور 40 فیصد کامیابی۔ لیکن یہ کوئی طے کردہ فارمولا بھی نہیں ہے بعض اوقات راستے میں پیش کردہ مشکلات کی وجہ سے بھی انسان کو کام ادھورا چھوڑنا پڑتا ہے ۔ یہ تجزیاتی کیفیت اور اعتماد دفاتر میں کام کرنے والے لوگ اساتذہ کرام اور طالب علموں کے لیے بہت زیادہ موثر ثابت ہو سکتی ہے ۔ اسی طرح گھر میں ملازمین رکھنے سے پہلے بھی خواتین خانہ اگر اپنے ملازم کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیں اور اس پر اعتماد کرتے ہوئے گھر کے بیشت رمور اس کے حوالے کرنا چاہیں تو یہ خیال رہے کہ اپ اعتماد ضرور کریں لیکن تصدیق کرنے کے بعد ہر نیا عمل ایک نیا خطرہ ساتھ لے کر اتا ہے۔
اور اس درپیش خطرات کا سامنا کرنے کی اہلیت رکھنا اور ثابت کرنا ایک پر اعتماد شخصیت کا ہی مرہون منت ہوتا ہے۔ کوئی بھی ادارہ ہو وہ طاقت اور قوت کے زور پر قائم قائم و دائم نہیں ہو سکتا۔ بلکہ یہ سب اعتماد کی نعمت پر قائم ہوتے ہیں
آپ کا خاندان بھی آپ کا ادارہ ہے آپ کا سکول بھی آپ کا ادارہ ہے آپ کا دفتر بھی۔ آپ کا ادارہ ہے آپ کی دکان بھی آپ کا ایک چھوٹا سا ادارہ ہے ۔ جس سے آپ بھرپور اعتماد کی قوت سے کامیاب کر سکتے ہیں اعتماد کی بہت سی قسمیں ہیں ۔ جیسے کم اعتماد کرنا ۔ زیادہ اعتماد کرنا ۔ محفوظ اعتماد کرنا۔ اندھا اعتماد کرنا وغیرہ وغیرہ لیکن یاد رکھیے کہ محفوظ اعتماد سب سے بہترین ہے کسی پر بہت زیادہ اعتماد کرنا بھی نقصان دہ ہوتا ہے اور بعض اوقات اپنے ذات پر بھی بہت زیادہ اعتماد کرنا نقصان کا باعث بنتا ہے۔
جو شخص اپنے فیصلوں اور قوت ارادی پر اعتماد کرتا ہے وہ اپنے ساتھ اپنے ساتھیوں تنظیم میں موجود ادارے میں موجود ملازمین سکول میں موجود اراکین سب کی ہی سوچ ۔ زاویہ نظر۔ نقطہ نظر۔ خامیاں اور خوبیاں مدنظر رکھتا ہے اور سب کے فیصلوں کو سننے کے بعد سب کی رائے کو اہمیت دینے کے بعد پر اعتماد سوچ اور فیصلہ سامنے لاتا ہے۔ اسی طرح وہ والدین جو صرف خود اعتمادی کا شکار ہوتے ہیں اور اپنی اولاد پر بعض اوقات اندھا اعتماد کیے ہوتے ہیں یا عدم اعتماد کا شکار ہوتے ہیں ان کی اولادیں بہت کم کامیاب ہوتی دکھائی دیتی ہیں کامیابی کا تصور بھی بہت اہم ہے لیکن کامیابی کے تصور کو سمجھنے کے لیے کامیابی کے مختلف پہلوؤں کو پہلے سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ اندھا اعتماد کرنے سے بھی اپ اندھا دھند نقصان اٹھاتے ہیں۔ اور عدم اعتماد کرنے سے اپ اپنی شخصیت کے منفی پہلو کو سب سے پہلے پیش کرتے ہیں۔ منفی رویوں سے شروع ہونے والا کام ہمیشہ عدم اعتماد کی کیفیت ہی پیدا کر سکتا ہے۔
ذاتی زندگی سے لے کر پیشہ ورانہ زندگی کے پہلوؤں تک اعتماد کرنا ضروری ہے لیکن اعتماد تصدیق کرنے کے بعد کرنا کامیابی کی ضمانت بن جاتا ہے جب دوسرے لوگ اپ کا اعتماد کھو بیٹھیں تو اس صورتحال کا بڑی بہادری سے مقابلہ کرنا ایک مضبوط اور اعلی کرداری شخصیت کی علامت ہوتا ہے اعتماد کا چشمہ ضرور استعمال کریں لیکن اس کے نمبر کو پہلے جانچ لیں ۔اور اس سلسلے میں کسی مستند شخص سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے اہتمام اکاؤنٹ کھولنا خاندان کی نشوونما کے لیے بھی ضروری ہے لیکن اپنے ارد گرد کے ماحول پر سب سے پہلے چوکنی اور چوکسی کی نظر رکھنا ازحد لازمی امر ہے۔
مزید پڑھیں






