بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مٹی کی خوشبو،تحریر:رفعت اکرام

نقطہ نظر

گاؤں سے شہر جانے والی آخری بس شام پانچ بجے نکلتی تھی۔ سکینہ اس بس کا شدت سے انتظار کر رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ تھا جس میں دو جوڑے کپڑے، کچھ پیسے، اور ماں کی پرانی تصویر تھی۔

سکینہ نے آٹھ سال شہر میں ایک کوٹھی میں کام کیا تھا۔ وہ مجبوری میں آئی تھی۔ باپ بیمار تھا، چھوٹے بھائی کی فیس دینی تھی۔ مالکن اچھی تھی لیکن صاحب سخت مزاج تھے۔ سکینہ نے ہر بات برداشت کی کیونکہ اسے ہر مہینے پیسے گاؤں بھیجنے تھے۔

اب باپ فوت ہو چکا تھا۔ بھائی بڑا ہو کر خود کمانے لگا تھا۔ کل رات ماں کا فون آیا۔ ماں نے کہا، بیٹی اب واپس آ جا۔ تیری عمر ہو رہی ہے، اب تجھے اپنا گھر بسانا چاہیے۔ تیرے لیے ایک رشتہ آیا ہے، لڑکا نیک ہے۔

سکینہ نے استعفیٰ دیا۔ مالکن نے بہت روکا، تنخواہ بڑھانے کی پیشکش کی، کہا تم میری بیٹیوں جیسی ہو، لیکن سکینہ نے کہا، باجی اب میرا دل گاؤں میں لگتا ہے۔ شہر کی روشنیوں نے مجھے بہت کچھ دیا لیکن میری مٹی مجھے بلا رہی ہے۔

بس اڈے پر بہت رش تھا۔ مزدور، طلباء، عورتیں، بچے۔ سب اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ سکینہ ایک بینچ پر بیٹھ گئی۔ اس نے سوچا آٹھ سال پہلے وہ کیسے روتی ہوئی اسی اڈے پر آئی تھی۔ تب وہ ان پڑھ، ڈری ہوئی لڑکی تھی۔ آج وہ پڑھنا لکھنا جانتی ہے، سلائی جانتی ہے، اور اس نے تھوڑے پیسے بھی جمع کیے ہیں۔ آج وہ خود پر فخر کر رہی تھی۔

بس آئی تو دھکم پیل شروع ہو گئی۔ سکینہ نے اپنا بیگ مضبوطی سے پکڑا اور بس میں چڑھ گئی۔ کھڑکی والی سیٹ ملی تو اس نے شکر ادا کیا۔ بس چلی تو شہر کی بڑی بڑی عمارتیں پیچھے رہنے لگیں۔ آہستہ آہستہ سڑک کے دونوں طرف کھیت آنے لگے۔ سرسوں کے پیلے پھول، گنے کی فصل، اور نہر کا پانی۔ ٹھنڈی ہوا کھڑکی سے اندر آ رہی تھی۔ سکینہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

ساتھ والی سیٹ پر ایک بوڑھی عورت بیٹھی تھی۔ اس نے پوچھا، بیٹی کہاں جا رہی ہو؟ سکینہ نے کہا، اپنے گاؤں، چک بیالیس۔ بوڑھی نے کہا، میں بھی وہیں جا رہی ہوں۔ میرا بیٹا بھی شہر میں کام کرتا ہے۔

دونوں باتیں کرنے لگیں۔ بوڑھی نے اپنے بیٹے کی کامیابی کی کہانی سنائی۔ سکینہ نے اپنی کہانی سنائی۔ بوڑھی نے کہا، تم بہادر بیٹی ہو۔ تم نے اپنے خاندان کو سنبھالا۔ اللہ تمہیں بہت خوش رکھے گا۔

راستے میں بس ایک ہوٹل پر رکی۔ سب نے چائے پی۔ سکینہ نے بھی چائے پی اور ساتھ لائے ہوئے بسکٹ کھائے۔ اسے اپنی ماں کے ہاتھ کی چائے یاد آئی۔ وہ چائے جس میں محبت کی مٹھاس ہوتی تھی، جس میں تھکن اتر جاتی تھی۔

شام ڈھلنے لگی۔ سورج کھیتوں کے پیچھے چھپ رہا تھا۔ بس کی ہیڈ لائٹس جل گئیں۔ سکینہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو اسے اپنا گاؤں نظر آنے لگا۔ وہی مسجد کا مینار، وہی برگد کا پرانا درخت، وہی کنواں۔ سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ کر گئی تھی، بس وہ خود بدل گئی تھی۔

بس سٹاپ پر ماں کھڑی تھی۔ سفید دوپٹے میں، کمزور سی، لیکن آنکھوں میں انتظار اور محبت۔ سکینہ بس سے اتری تو ماں کی طرف دوڑی۔ دونوں گلے لگ کر بہت روئیں۔ گاؤں کی چند عورتیں بھی وہیں کھڑی مسکرا رہی تھیں۔

گھر کا کچا صحن، مٹی کی دیواریں، اور صحن میں لگا نیم کا درخت۔ سکینہ نے زمین پر بیٹھ کر مٹی کو ہاتھ سے چھوا۔ مٹی ٹھنڈی تھی، نرم تھی، اور اس میں سے وہی خوشبو آ رہی تھی جو اسے بچپن میں آتی تھی۔ یہ خوشبو کسی پرفیوم میں نہیں تھی۔

ماں نے کہا، ہاتھ منہ دھو لے، کھانا تیار ہے۔ سکینہ نے کہا، ماں آج کھانا میں بناؤں گی، اپنے ہاتھ سے۔

رات کو چاندنی میں دونوں ماں بیٹی صحن میں چارپائی پر بیٹھی تھیں۔ سکینہ نے کہا، ماں میں نے شہر میں بہت کچھ دیکھا۔ بڑے گھر، بڑی گاڑیاں، بڑے ہوٹل، لیکن سکون کہیں نہیں دیکھا۔ سکون تو یہیں ہے، اس مٹی میں، اس چاندنی میں، تمہارے پاس۔

ماں نے کہا، بیٹی، شہر تجھے کمانا سکھاتا ہے، لیکن گاؤں جینا سکھاتا ہے۔ تم نے کما لیا، اب جینا سیکھو۔ اصل زندگی یہی ہے۔

سکینہ مسکرا دی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ ستارے بہت قریب اور روشن لگ رہے تھے۔ اس نے سوچا کہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ آپ کہاں پہنچے، بلکہ یہ ہے کہ آپ واپس کہاں آنا چاہتے ہیں۔ اور اس کی منزل یہی مٹی تھی۔