زندگی ایک خوبصورت امتحان ہے جس کا ایک ایک ورق ہمیں روز حل کرنا پڑتا ہے۔ اس ورق میں کبھی خوشی، کبھی غم، محبت، نفرت، دکھ، درد، بدگمانی سب لکھنے ہوں گے۔ بسا اوقات کچھ صفحات کو ہم خالی چھوڑ دیتے ہیں یہ سوچتے ہوئے کہ اس پر اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنا ہے۔ لیکن یہی ہماری کوتاہی ہوتی جو ہم اللہ سے سوائے شکوہ، شکایت کے اور کچھ نہیں کہتے۔ اس کی بے شمار دی ہوئی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے۔ جو پاس نہیں ہے، جو ملا نہیں اس کے گلے کرتے ہیں۔ ہم صرف اپنی زندگی میں بس دنیا داری نبھانے میں اتنے مگن ہوگئے ہیں کہ ہمیں احساس ہی نہیں ہے کہ جس اللہ کی دی ہوئی زندگی ایک امانت ہے اس کو ہم کس طرح گزار رہے ہیں۔ زندگی ہمیں کیا سبق سیکھا رہی ہے اور ہم اس امتحان کو کس طرح حل کر رہے ہیں؟ ہر دن ہر لمحے کو کس طرح ضائع کر رہے ہیں۔ کیا ہم ان حل شدہ امتحانات میں کامیاب ہو سکیں گے؟ کیا ہم اپنی دنیا و آخرت کو سر خرو کر سکیں گے؟
زندگی تو ایک قلم کی مانند ہے جو لکھتے لکھتے بہت کچھ سیکھا دیتا ہے، بہت سے رکے ہوئے کاموں کو سنوار دیتا ہے، الجھنوں کو سلجھا دیتا ہے۔ کچھ غموں کو خوشیوں سے تبدیل کر دیتا ہے۔ زندگی ایک ایسا قلم ہے جس کی سیاہی سانسوں سے بندھی ہے جب یہ رک جائے گی تو قلم کہانی لکھنا چھوڑ دے گا۔ اس قیمتی اور انمول قلم کی قدر کیجیے کیوں کہ یہ ایک بار ہی ملتا ہے بار بار نہیں موقع دے گا۔
زندگی کی کتاب میں ہر طرح کا مضمون شامل ہوگا، ہر صفحہ نئی داستان سنائے گا۔اب ان صفحات کو آپ نے خود مکمل کرنا ہے۔ اپنی نیکیوں اور ہر اچھے اعمال سے، اپنے ہر اس کام سے جس میں اللہ کی مرضی اور رضا شامل ہو۔ زندگی کو اللہ کی مرضی اور اسلام کی تعلیمات کے مطابق گزرایں اور اپنی دنیا اور آخرت کو سنواریں۔ جس سے اللہ راضی ہوگا اور آپ اپنے زندگی کے مقصد میں کامیاب ہو سکیں گے۔
اگر آج آپ کے سامنے ایسے صفحات ہیں جس میں مشکلات، پریشانیاں، دکھ، درد، رنج و غم اور آزمائشیں ہیں تو یقین رکھیں یہ صرف وقتی ہیں۔ رونے اور تنہا رہنے میں اتنا وقت نہ لگائیں کے ان صفحات کو پلٹنا بھول جائیں۔ بلکہ ہمت، حوصلے سے صبر و شکر کو تھامتے ہوئے آگے بڑھیں اور اپنے قلم کی طاقت سے اپنے لیے ہر خوشی کو قرطاس کی زینت بنائیں تاکہ کامیابی آپ کا مقدر بن سکے اور بے شمار خوشیاں آپ کی منتظر رہیں۔
زندگی کے امتحان کو بخوشی حل کریں۔ ہر موڑ پر ہمت سے آگے بڑھتے جائیں اور ہر کٹھن مراحل کو عبور کر کے اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائیں اور انسان کی آخری منزل جنت تک کا راستہ ہے جس کو بہت سی مشکلات سے گزر کر حاصل کرنا پڑے گا اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم ہر ورق پر اپنی داستان لکھ کر ایک نئی داستان کی جدوجہد کے لیے آگے بڑھ جائیں گے۔
بس یہی سفر زیست ہے جو ہر دن نئی داستان کے ساتھ شروع ہو کر اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا اور آپ اپنے امتحان زیست میں کامیاب ہو سکیں گے۔
مزید پڑھیں





