منگل، 27 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی,اقوام متحدہ کا انتباہ


اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ 2025 میں فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس کے باعث موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کئی دہائیوں اور صدیوں تک برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔


عالمی موسمیاتی ادارے یعنی ڈبلیو ایم او کی سالانہ رپورٹ کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ کی فضا میں مقدار 2025 کے دوران ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی،ان گیسوں میں اضافے سے زمین کا درجہ حرارت مزید بڑھنے اور شدید موسمی واقعات میں اضافے کا امکان ہے۔


ڈبلیو ایم او کی نائب سیکریٹری جنرل کو بیریٹ نے کہا کہ گرین ہاؤس گیسیں فضا میں غیر معمولی مقدار میں حرارت کو روک رہی ہیں، جس سے معیشتوں اور معاشروں کو خطرات لاحق ہیں،ان کے مطابق گزشتہ 11 سال ریکارڈ کے گرم ترین سال رہے ہیں اور یہ رجحان جاری رہنے کا خدشہ ہے،کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں طویل عرصے تک موجود رہتی ہے، اس لیے اس کے اثرات صدیوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔


رپورٹ کے مطابق 2025 میں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی اوسط مقدار 426.8 حصے فی ملین، میتھین کی مقدار 1,948 حصے فی ارب اور نائٹرس آکسائیڈ کی مقدار 339.1 حصے فی ارب ریکارڈ کی گئی، یہ سطحیں صنعتی دور سے پہلے، یعنی 1750 سے قبل کے مقابلے میں بالترتیب 153، 267 اور 126 فیصد تک پہنچ چکی ہیں۔


ان 3 گیسوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ موسمیاتی حدت کے تقریباً 66 فیصد حصے کی ذمہ دار ہے, ہر سال خارج ہونے والی اس گیس کا تقریباً نصف فضا میں رہ جاتا ہے، جبکہ باقی مقدار زمین اور سمندر جذب کر لیتے ہیں،2024 سے 2025 کے دوران کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں 2.8 حصے فی ملین اضافہ ہوا، جو گزشتہ دہائی کی اوسط سالانہ شرح 2.6 سے زیادہ ہے،تاہم یہ 2023 سے 2024 کے دوران ریکارڈ کیے گئے 3.6 کے اضافے سے کم ہے۔


ڈبلیو ایم او کی سائنسی افسر اوکسانا تاراسووا کے مطابق 2025 میں قدرتی کاربن جذب کرنے والے نظام کی بحالی اور جنگلات میں آگ سے اخراج میں کمی کے باعث اضافے کی رفتار کچھ کم رہی، تاہم فوسل فیولز کے مسلسل استعمال اور طاقتور ال نینو کے ممکنہ اثرات کے باعث 2026 میں بھی گیسوں کی مقدار بڑھنے کا خدشہ ہے۔


رپورٹ میں میتھین کے علاوہ سلفر ہیکسا فلورائیڈ اور ہائیڈروجن کی بڑھتی سطح پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہےمیتھین کا اخراج قدرتی ذرائع کے ساتھ مویشی پالنے، چاول کی کاشت اور کچرے سے بھی ہوتا ہے، جبکہ سلفر ہیکسا فلورائیڈ بجلی کی تقسیم کے نظام میں استعمال ہوتی ہے اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ ترکیہ کے شہر انطالیہ میں 9 سے 20 نومبر تک ہونے والی موسمیاتی کانفرنس کوپ 31 سے قبل جاری کی گئی ہے۔