وسط مدتی انتخابی نتائج نےامریکا کو تاریخ میں ایک بہت بڑا قدم پیچھے دھکیل دیا ہے، ٹرمپ

امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کے دونوں ایوانوں پر ڈیموکریٹس کے قبضے کے بعد 80 سالہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی شکست کو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا دھچکا قرار دیا ہے-
امریکا میں منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات (مڈٹرم الیکشنز) میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پار ٹی کو تاریخی اور بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانو ں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے,ان انتخابات کےنتیجےمیں کئی دہائیوں سےریپبلکنز کےمضبوط گڑھ سمجھی جانے والی ریاستوں میں ان کی گرفت کمزور ہو گئی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ حالیہ انتخابی نتائج کے ساتھ امریکا کو تاریخ میں ایک بہت بڑا قدم پیچھے دھکیل دیا ہے اور اس دوران ان کے دور حکومت میں ترقی پانے والی اسٹاک مارکیٹ کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے,تاہم انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اس شکست سے کہیں زیادہ طاقتور اور بڑے انداز میں واپس آئیں گے۔
واضح رہے کہ انتخابی نتائج کے بعد سیاسی میدان میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کو پارٹی کی شکست کی سب سے بڑی وجہ قرار دیاجے ڈی وینس نے ایک طویل سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ شکست کی اصل وجہ جنگ ہے اور یہ ایک ایسی قیمت تھی جو سینیٹ کے اگلے 6 سال کے لیے ضائع ہونے کی صورت میں چکانی پڑی۔
دوسری طرف صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ جے ڈی وینس کا یہ کہنا بڑی حد تک درست ہے کہ جنگ کی وجہ سے پیٹرول کی قیمتیں بڑھیں جو مہنگائی سے پریشان ووٹرز کے لیے ایک اہم مسئلہ تھا، تاہم انہوں نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ طویل مدت میں ایران کو جوہری ہتھیاروں حاصل کرنے سے روکے بغیر کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا۔
ریپبلکنز کی اس ہزیمت کے بعد صدر ٹرمپ اپنے صدارتی دور کے باقی ماندہ 2 سالوں کے لیے ایک کمزور (لیم ڈَک) صدر بن چکے ہیں، جو 2017 سے 2021 تک وائٹ ہاؤس میں رہنے کے بعد اب پہلی بار دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹک اکثریتی کانگریس کا سامنا کریں گے۔
انتخابی جھٹکے کے باوجود صدر ٹرمپ نے اپنے جارحانہ تیور برقرار رکھتے ہوئے جمعہ کو سخت گیر مشیر اسٹیفن ملر کو اپنا نیا چیف آف اسٹاف مقرر کر دیا ہے، جو ان کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کے مرکزی معمار مانے جاتے ہیں۔
اس تقرری سے واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک سخت گیر اور جارحانه جوابی لڑائی کی تیاری کر لی ہے۔ دوسری طرف ڈیموکریٹس نے بھی عہد کیا ہے کہ وہ اسٹیفن ملر کی ہر قدم پر بھرپور مخالفت کریں گے اور ٹرمپ انتظامیہ کو ہر معاملے پر جوابدہ ٹھہرائیں گے۔
مزید پڑھیں





