کراچی کے عوام چاہتے تھے کہ جماعت اسلامی کا میئر ہو,حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کے مینڈیٹ پر قبضہ کرکے صرف جماعت اسلامی کا نہیں بلکہ کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کا حق مارا ہے-
ٹی ایم سی ماڈل کالونی کے تحت رفاہ عام چوک، ملیر ہالٹ میں ماڈل محلہ اور سڑکوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی کے باوجود جماعت اسلامی کے ٹاؤنز نے اپنی مدد آپ کے تحت ترقیاتی کاموں کے راستے نکالے ہیں، گلیوں کی تعمیر، پارکوں کی بحالی، سڑکوں کی صفائی اور کچرا کنڈیوں کی بہتری کے کام کیے جا رہے ہیں-
انہوں نے کہا کہ کراچی پورے پاکستان کی معیشت چلاتا ہے، ٹیکسوں و ریونیو کے اعتبار سے ملکی معیشت میں اس کا تقریباً نصف حصہ ہے لیکن افسوس کہ سیاسی جماعتوں اور انہیں عوام پر مسلط کرنے والوں نے اس شہر کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ کراچی کے عوام چاہتے تھے کہ جماعت اسلامی کا میئر ہو کیونکہ انہیں یقین تھا کہ جماعت اسلامی اختیارات نہ ہونے کے باوجود شہر کی حالت بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔جماعت اسلامی نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ شہر کو اختیارات دلانے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے، لیکن اختیارات نہ ملنے کی صورت میں بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھیں گے بلکہ اپنے اختیارات سے بڑھ کر کام کریں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ٹاؤنز میں نامساعد حالات کے باوجود ترقیاتی کام کیے جا رہے ہیں، کراچی کے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ہمارے 9ٹاؤنز میں تقریباً ڈیڑھ سو اسکول ہیں، جن میں سے 73 اسکولوں کی تعمیر و مرمت اور تزئین و آرائش کر کے انہیں بہتر بنایا گیا ہے۔ حال ہی میں ناظم آباد کے ایک اسکول کا افتتاح کیا گیا، جس کی عمارت مخدو ش ہو چکی تھی اوربچے درختوں کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور تھے اب اس اسکول میں بچو ں کے داخلے ہوئے ہیں، انہیں یونیفارم فراہم کیے گئے ہیں، لیبارٹری اور کمپیوٹر لیب قائم کی گئی ہے اور اسے ایک معیاری تعلیمی ادارے کی صورت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں ساڑھے تین ہزار کے قریب سرکاری اسکول ہیں۔ اگر حکومت یہ اسکول ٹاؤنز کے حوالے کر دے اور انہیں مناسب وسائل فراہم کیے جائیں تو تعلیمی صورت حال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ سرکاری اسکولوں کی تباہی کی بڑی وجہ حکومتی عدم توجہی اور بدانتظامی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں تعلیم کا بجٹ 601 ارب روپے ہے، صوبے میں تقریباً 41 ہزار اسکول اور ہزاروں کالجز و یونیورسٹیاں موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود تعلیمی نظام کی حالت انتہائی خراب ہے۔ گھوٹکی کے ایک اسکول میں 23 بچوں کے لیے 49 اساتذہ تعینات ہیں، جبکہ ہزاروں اسکول ایسے ہیں جہاں اساتذہ تعینات ہونے کے باوجود حاضر نہیں ہوتے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی حکومت اور اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود عوام کے حقوق کے لیے آواز بھی اٹھاتی ہے اور اپنے حصے کا عملی کام بھی کرتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت نوجوانوں کے لیے بنو قابل پروگرام شروع کیا گیا ہے، جس کے ذریعے نوجوانوں کو مفت آئی ٹی کورسز کروائے جا رہے ہیں۔ مارکیٹ میں جن کورسز کے لیے مختلف ادارے 50 سے 70 ہزار روپے یا اس سے بھی زیادہ فیس وصول کرتے ہیں-
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی وہ کورسز سو فیصد مفت فراہم کر رہی ہے۔ بنو قابل پروگرام میں نوجوان لڑکےلڑکیاں اور گھریلو خواتین بھی تعلیم حاصل کر رہی ہیں خواتین ڈیجیٹل مارکیٹنگ اورای کامرس سمیت مختلف جدید ہنر سیکھ کر اپنے روزگار اور کاروبار کے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ یہ پروگرام کراچی سے شر وع کیا گیا تھا، تاہم اب اس کا دائرہ پورے پاکستان تک بڑھا دیا گیا ہے اور اب تک 16 لاکھ نوجوا نوں، لڑکو ں، لڑکیوں اور گھریلو خواتین کی رجسٹریشن ہو چکی ہے۔
مزید پڑھیں





