ہردیپ سنگھ نجر قتل کیس میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد ہیں، کینیڈین وزیراعظم

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ ہردیپ سنگھ نجر قتل کیس میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں-
کینیڈین حکام کے مطابق نجر قتل کیس کی تحقیقات کے دوران بھارتی حکومت کے ایجنٹس اور کینیڈا میں سرگرم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے درمیان روابط سامنے آئے ہیں۔ کینیڈین سیکیورٹی انٹیلیجنس سروس (CSIS) نے بھی بھارت کی کینیڈا میں سرگرمیوں کے تناظر میں ’ٹرانس نیشنل ریپریشن‘ کو اہم معاملہ قرار دیا ہے۔
کینیڈین حکومت کے مطابق ہردیپ سنگھ نجر کو 18 جون 2023 کو برٹش کولمبیا میں قتل کیا گیا تھا، جبکہ مئی 2024 میں کینیڈین پولیس نے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں 4 افراد کو گرفتار کیا۔ اکتوبر 2024 میں کینیڈا نے نجر کیس کے حوالے سے 6 بھارتی سفارتکاروں اور قونصلر حکام کو ملک سے نکال دیا تھا۔
کینیڈا کی سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق نجر قتل کیس میں بھارتی حکومت سے روابط کے شواہد بھارت کی جانب سے خالصتان تحریک سے وابستہ افراد کو شمالی امریکا میں نشانہ بنانے کی سرگرمیوں میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا میں نیویارک میں ایک سکھ امریکی شہری کے قتل کی مبینہ سازش کے مقدمے میں بھی بھارتی حکومت کے ایک اہلکار سے تعلق کا الزام سامنے آچکا ہے۔
مزید پڑھیں





