منگل، 13 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ٹائم مینجمنٹ، اہم ضرورت ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

کبھی دن ڈھلنے پر آپ نے تنہائی میں بیٹھ کر خود سے یہ سوال پوچھا ہے کہ آج کا پورا دن آخر گیا کہاں؟ صبح جب آنکھ کھلی تھی تو ارادوں کی ایک طویل فہرست تھی، سارا دن دوڑ دھوپ میں گزرا، سانس لینے کی فرصت نہ ملی، مگر شام کو جب حساب جوڑا تو دامن خالی تھا۔ ہم میں سے اکثر لوگ رات کو بستر پر تھکن کا ایک بھاری بوجھ لے کر گرتے ہیں اور دل ہی دل میں سوچتے ہیں کہ شاید چوبیس گھنٹے بہت کم ہیں۔ لیکن ذرا رکیے اور سوچئے، کیا واقعی مسئلہ گھڑی کے چوبیس گھنٹوں کا ہے یا ہماری اپنی ترجیحات کے انتخاب کا؟ وقت تو ایک ایسا بے رحم اور پرسکون دریا ہے جو اپنے راستے پر بہتا چلا جا رہا ہے، وہ نہ کسی کے لیے ٹھہرتا ہے اور نہ تیز چلتا ہے۔ ہم اور آپ وقت کو قابو میں نہیں لا سکتے، مگر اپنے فیصلوں کا رخ ضرور بدل سکتے ہیں۔ سارا دن کلہاڑی کو بنا دھار لگائے لکڑی پر مارتے رہنا محنت کہلا سکتا ہے، مگر اسے دانشمندی تو نہیں کہا جا سکتا۔

اگر تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو ہمارے بزرگوں کی زندگی کتنی پرسکون اور فطری ہوا کرتی تھی۔ تب گھڑیوں کا شور تھا نہ موبائل کی مسلسل بجتی گھنٹیاں۔ انسان سورج کے طلوع و غروب کے ساتھ جاگتا اور سوتا تھا، چاند کے گھٹنے بڑھنے سے مہینوں کا حساب رکھتا تھا اور فصلیں موسموں کے اشاروں پر بوتا تھا۔ پھر صنعتی انقلاب نے آ کر سب کچھ بدل ڈالا؛ انسان کارخانوں کی سیٹیوں، شفٹوں اور سیکنڈوں کا پابند ہو گیا اور پہلی بار نعرہ گونجا کہ "وقت ہی پیسہ ہے"۔ بیسویں صدی میں ہم نے ڈائریاں بنائیں، فہرستیں تیار کیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ اصل کام کیا ہے۔ اور آج دیکھیے، ہم اور آپ ڈیجیٹل دنیا کے اس دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں وقت کی کمی اتنی بڑی مصیبت نہیں جتنا دھیان اور توجہ کا منتشر ہو جانا ہے۔ موبائل اسکرین پر ہر لمحہ چمکنے والا نوٹیفکیشن، ہر نئی ویڈیو اور غیر متعلقہ میسج ہماری یکسوئی کو نگل رہا ہے۔ آج سب سے بڑا ہنر وقت بچانا نہیں بلکہ اپنی توجہ کو بچانا بن چکا ہے۔

ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ بن چکی ہے کہ ہم فوری پن کے دھوکے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جو گھنٹی زور سے بجتی ہے، جو کام چیخ کر سامنے آتا ہے، ہم مان لیتے ہیں کہ وہی سب سے اہم ہے۔ سابق امریکی صدر اور جنرل آئزن ہاور نے بڑی پتے کی بات کہی تھی کہ جو کام بہت فوری نظر آتے ہیں وہ شاذ و نادر ہی اہم ہوتے ہیں، اور جو حقیقت میں اہم ہوتے ہیں وہ کبھی شور نہیں مچاتے۔ ذرا سوچیے، ہم اپنا کتنا قیمتی وقت روزمرہ کی ہنگامی آگ بجھانے میں برباد کر دیتے ہیں؟ سارا دن دوسروں کے فون اٹھانا، بے مقصد ملاقاتیں نبھانا اور ہر تقاضے پر بلا سوچے سمجھے 'ہاں' کہتے جانا ہمیں اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ شائستگی کے ساتھ انکار کرنا سیکھنا آزادی کی پہلی سیڑھی ہے۔ اگر آپ اور میں ہر کسی کو راضی کرنے کی کوشش میں لگ جائیں گے تو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے ہمارے پاس کوئی لمحہ باقی نہیں بچے گا۔

اصل راز اس خاموش گوشے میں پوشیدہ ہے جو فوری طور پر ہم سے کوئی تقاضا نہیں کرتا مگر ہمارے پورے مستقبل کا ضامن ہوتا ہے۔ اپنی ذات کو سنوارنا، مطالعہ کرنا، صحت کی دیکھ بھال، خاندان کے ساتھ پرسکون لمحات اور مستقبل کی منصوبہ بندی؛ یہ وہ چیزیں ہیں جن کی کوئی فوری ڈیڈ لائن نہیں ہوتی، مگر جس شخص نے اپنے دن کا سب سے بڑا حصہ اس گوشے کو دے دیا، اس کی زندگی میں توازن خودبخود اتر آتا ہے۔ اس کے برعکس، سوشل میڈیا کی لامتناہی سکرولنگ اور بے سود گفتگو کی وہ کھائی ہے جہاں انسان اپنا سب سے انمول سرمایہ ہنستے کھیلتے لٹا دیتا ہے۔ آنے والے کل میں تو مصنوعی ذہانت ہماری عادات اور جسمانی توانائی کا حساب لگا کر شیڈول بنائے گی، مگر جب تک ہمارا اپنا ضمیر بیدار نہیں ہوگا، کوئی ٹیکنالوجی ہمیں کامیاب نہیں کر سکتی۔ ٹائم مینجمنٹ خود کو مشین بنانے کا نام نہیں، بلکہ یہ تو زندگی کے شور میں سے اپنے مقصد کو چن لینے اور باقی تمام فضول چیزوں کو مسکرا کر رخصت کر دینے کا ایک پروقار اور خوبصورت شعور ہے۔