بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ٹریفک چالانوں کی یلغار،تحریر: مہر بشارت صدیقی

نقطہ نظر

پاکستان میں عام آدمی کی زندگی پہلے ہی مہنگائی، بجلی اور گیس کے بھاری بلوں، روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مختلف ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ایک طرف گھر کا چولہا جلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے تو دوسری طرف بچوں کی تعلیم، علاج معالجے، گھر کا کرایہ اور دیگر بنیادی اخراجات پورے کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں جب شہری اپنے محدود وسائل کے ساتھ زندگی کی گاڑی کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں تو نئے ٹیکسوں، اضافی اخراجات اور ٹریفک چالانوں کی بھرمار ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیتی ہے۔


سوال یہ ہے کہ آخر عام شہری کہاں جائے؟ وہ اپنی محنت کی کمائی سے بجلی اور گیس کے بل ادا کرے، بچوں کی فیسیں جمع کروائے، گھر کا راشن خریدے یا روزانہ سفر کے دوران ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے جرمانے ادا کرے؟ حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس سوال پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ عوام پر مالی بوجھ ڈالنے کے ساتھ ساتھ انہیں سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔


بجلی اور گیس کے بل آج عام گھرانے کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ بن چکے ہیں۔ ایک عام مزدور، دیہاڑی دار، دکاندار اور تنخواہ دار شخص کی آمدن محدود ہے، جبکہ اخراجات میں اضافے نے اس کے لیے زندگی گزارنا مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے خاندانوں کے لیے مہینے کے اختتام تک اخراجات پورے کرنا آسان نہیں رہا۔ اگر کسی گھر میں ایک ہی شخص کمانے والا ہو اور اس کے ذمے بچوں کی تعلیم، والدین کی ضروریات اور گھر کے دیگر اخراجات بھی ہوں تو اس کی مشکلات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔


اس صورت حال میں جب مختلف مدات میں مزید ٹیکس عائد ہوتے ہیں یا کسی چیز کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کا اثر صرف امیر طبقے پر نہیں بلکہ سب سے زیادہ کم آمدن والے افراد پر پڑتا ہے۔ امیر آدمی بڑھتے ہوئے اخراجات کو کسی حد تک برداشت کر سکتا ہے، لیکن غریب اور متوسط طبقے کے لیے معمولی اضافی خرچ بھی پورے مہینے کا بجٹ بگاڑ سکتا ہے۔ حکومت کو ٹیکس پالیسی بناتے وقت اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ریاستی آمدن میں اضافے کی ضرورت اپنی جگہ، مگر عام شہری کی قوتِ خرید اور بنیادی ضروریات بھی اہم ہیں۔


اب ٹریفک چالانوں کا معاملہ بھی عوامی گفتگو کا اہم موضوع بن چکا ہے۔ ٹریفک قوانین کی پابندی ہر شہری پر لازم ہے۔ ہیلمٹ پہننا، ڈرائیونگ لائسنس رکھنا، گاڑی کے ضروری کاغذات مکمل رکھنا، اشاروں کی پابندی کرنا اور تیز رفتاری سے گریز کرنا ایسے اقدامات ہیں جو انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ ان قوانین پر عمل درآمد ہونا چاہیے، کیونکہ سڑکوں پر ہونے والے حادثات کئی خاندانوں کی خوشیاں اجاڑ دیتے ہیں۔


لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے جس سے شہریوں میں شعور پیدا ہو، قانون کی عزت بڑھے اور حادثات کی روک تھام ممکن ہو۔ اگر کسی موٹر سائیکل سوار کے پاس ہیلمٹ نہیں تو اسے ہیلمٹ کی اہمیت سمجھائی جائے، قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور اسے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ترغیب بھی دی جائے۔ اگر کوئی شخص بار بار قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، مگر ہر صورت میں شفافیت، یکساں قانون اور شہریوں کے ساتھ مناسب رویہ برقرار رہنا چاہیے۔


یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ بہت سے شہری روزگار کے سلسلے میں موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں۔ کوئی مزدور صبح سویرے کام پر جاتا ہے، کوئی دکاندار سامان لینے منڈی پہنچتا ہے، کوئی ملازم دفتر جاتا ہے اور کوئی نوجوان اپنے گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹانے کے لیے مختلف کام کرتا ہے۔ ایسے افراد کے لیے موٹر سائیکل محض سواری نہیں بلکہ روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اگر ان کی آمدن محدود ہو اور انہیں ایک ہی وقت میں ایندھن، موٹر سائیکل کی مرمت، ضروری کاغذات اور جرمانوں کے اخراجات برداشت کرنا پڑیں تو ان کی مشکلات بڑھنا فطری بات ہے۔


یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کا مقصد صرف جرمانے وصول کرنا ہونا چاہیے یا اس کا اصل مقصد شہریوں کی جانوں کا تحفظ اور ٹریفک نظام کی بہتری بھی ہے؟ یقیناً جرمانہ قانون نافذ کرنے کا ایک ذریعہ ہے، لیکن اس کے ساتھ آگاہی مہم، مناسب سائن بورڈز، واضح روڈ مارکنگ، ٹریفک سگنلز کی درستگی، سڑکوں کی مرمت اور ٹریفک کی روانی بہتر بنانے پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔


اگر کسی سڑک پر مناسب اشارے موجود نہ ہوں، کہیں سڑک ٹوٹی ہوئی ہو، کہیں ٹریفک سگنل خراب ہو اور کہیں پارکنگ کے لیے مناسب جگہ نہ ہو تو ان مسائل کو بھی حل کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ شہریوں سے قانون کی پابندی کا مطالبہ بجا، لیکن اداروں کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ قانون کا احترام اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب شہریوں کو اس کے نفاذ میں انصاف اور شفافیت نظر آئے۔


حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے بارے میں عوامی آگاہی کے لیے خصوصی مہم چلائیں۔ اسکولوں، کالجوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر شہریوں کو ہیلمٹ، سیٹ بیلٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور ٹریفک اشاروں کی پابندی کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ موٹر سائیکل سواروں کو معیاری ہیلمٹ کی دستیابی کے حوالے سے بھی سہولت فراہم کرنے پر غور کیا جائے تاکہ حفاظتی اقدامات عام آدمی کی پہنچ میں رہیں۔


اسی طرح چالان کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ شہریوں کو خلاف ورزی کی واضح تفصیل فراہم کی جائے، غلط چالان کی صورت میں اعتراض درج کرانے کا آسان طریقہ موجود ہو اور شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر نظام بنایا جائے۔ ٹریفک پولیس کا رویہ ایسا ہونا چاہیے کہ شہری اسے اپنا مخالف نہیں بلکہ اپنی حفاظت کے لیے کام کرنے والا ادارہ سمجھیں۔


ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ حکومت مہنگائی اور عوامی آمدن کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں ریلیف، کم آمدن والے خاندانوں کے لیے سہولتیں، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور ٹیکسوں کے منصفانہ نظام جیسے اقدامات عوام کی مشکلات کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری صرف محصولات جمع کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنا، ان کے حقوق کا تحفظ کرنا اور انہیں باعزت زندگی گزارنے کے مواقع دینا بھی ہے۔


یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے قیمتی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں اور شہریوں کو ان قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ عوامی مسائل کو نظر انداز کرکے صرف جرمانوں اور مالی پابندیوں کے ذریعے دیرپا بہتری حاصل نہیں کی جا سکتی۔ قانون کا مقصد شہریوں کو سزا دینا ہی نہیں بلکہ انہیں محفوظ، ذمہ دار اور قانون پسند بنانا بھی ہے۔


ہمیں ایسا نظام چاہیے جہاں ٹریفک پولیس شہریوں کی رہنمائی کرے، سڑکیں محفوظ ہوں، قوانین پر بلاامتیاز عمل درآمد ہو اور عام آدمی کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کی آواز سنے اور ان کی معاشی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں تشکیل دے۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں، اپنی اور دوسروں کی جانوں کی حفاظت کو ترجیح دیں اور قانون شکنی سے گریز کریں۔


آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ عوام پہلے ہی بجلی اور گیس کے بلوں، مہنگائی اور مختلف اخراجات سے پریشان ہیں۔ ایسے میں حکومت اور متعلقہ اداروں کو عوامی مشکلات میں کمی لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد ضرور ہو، مگر اس کا بنیادی مقصد انسانی جانوں کا تحفظ، حادثات میں کمی اور شہریوں میں قانون کا احترام پیدا کرنا ہونا چاہیے۔


عوام کو قانون کا پابند بنانا ضروری ہے، لیکن عوام کی مشکلات کو سمجھنا اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنا بھی ریاست کی اہم ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ جرمانوں کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کے حل پر بھی توجہ دے، کیونکہ ایک خوشحال اور پُرامن معاشرے کی بنیاد عوام کو سہولتیں فراہم کرنے، انصاف یقینی بنانے اور ان کے معاشی بوجھ کو کم کرنے میں پوشیدہ ہے۔