ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ٹرمپ کا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہ

trump
مصنف:

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائی میں اسرائیل کی جانب سے مدد کی پیشکش قبول کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل سعودی عرب کے لیے مددگار ثابت ہوا ہے۔ دوسری جانب انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک زیرِ زمین تنصیب ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔


وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیل کی مدد کی پیشکش قبول کرنی چاہیے؟ اس پر امریکی صدر نے جواب دیا کہ ہاں، بالکل، ان کے خیال میں سعودی عرب کو ایسا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل سعودی عرب کے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔


واضح رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں ایک سفارتی ذریعے نے اسرائیلی اخبار کو بتایا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی ثالثی کے ذریعے سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے خلاف مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔ اس پیشکش کا ایک مقصد سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا بھی بتایا گیا تھا۔تاہم اطلاعات کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس تجویز کی مخالفت کی، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اسرائیلی مدد قبول کرنے پر سعودی عوام کی جانب سے ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔


دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے امریکا کو اس کے جوہری پروگرام سے منسلک زیرِ زمین مقام ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کو نشانہ بنانا پڑ سکتا ہے۔جمعرات کی شب ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے، کیونکہ ان کے بقول اگر ایران کے پاس یہ ہتھیار آ گئے تو وہ انہیں ضرور استعمال کرے گا۔


ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیبات کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جوہری صلاحیت ایک بڑے پہاڑ کے نیچے دفن ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اب ’پک ایکس ماؤنٹین‘ پر غور کر رہا ہے اور ممکن ہے کہ اس مقام پر حملہ کرنا پڑے، جس کے ذریعے اسے تیزی سے تباہ کیا جا سکے۔