امریکا کی ایرانی کمپنیوں پر پابندی،بھارتی شہری بھی زد میں آ گئے

واشنگٹن: امریکا نے ایران سے تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی تجارت محدود کرنے کے لیے نئی پابندیاں عائد کردی ہیں، جن میں بھارت، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، ایران اور برطانیہ سے وابستہ کمپنیوں، افراد اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ کارروائی ایران کی پیٹروکیمیکل مصنوعات کی تجارت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔پابندیوں کی فہرست میں 5 بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔ ان میں دھوانی نثارگ وورا اور نثارگ سمیر وورا شامل ہیں، جو بھارتی کمپنی ’ایس ایس پی ایل سلوشنز‘ کے ڈائریکٹر ہیں۔ دیگر تین بھارتی شہریوں کی شناخت کیتن منوہر کوچیکار، بھپیندر سنگھ دھال سنگھ ساہو اور ہریش یام ہری ہارن چنداکاٹل کے نام سے کی گئی ہے، جو ’سمودرا میرین سروسز‘ کے ڈائریکٹر ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق متعلقہ کمپنیوں نے ایرانی پیٹروکیمیکل مصنوعات کی تجارت یا درآمد میں کردار ادا کیا۔
پابندیوں میں ترکیہ کے شہری سعید احمد نورزاد بھی شامل ہیں، جو ترکیہ کی کمپنی ’نورزاد پیٹروکیمیا‘ کے ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو ہیں۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ اس کمپنی نے تقریباً 38 لاکھ ڈالر مالیت کی ایرانی پیٹروکیمیکل مصنوعات خریدیں۔اسی طرح متحدہ عرب امارات کی کمپنی ’عربین پرو میٹیریلز‘ پر تقریباً 20 لاکھ ڈالر مالیت کی ایرانی پیٹروکیمیکل مصنوعات برآمد کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔امریکی حکام نے متحدہ عرب امارات میں قائم ’ہورائزن شپ مینجمنٹ‘ اور ’ہیسونائٹ شپ مینجمنٹ‘ کو بھی پابندیوں کی زد میں لیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان کمپنیوں سے منسلک بحری جہازوں نے ایرانی تیل اور گیس کی مصنوعات کی ترسیل میں حصہ لیا۔امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کا مقصد ایران کی تیل اور پیٹروکیمیکل تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنا ہے۔
مزید پڑھیں



