بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اقوام متحدہ کے اجلاس میں امریکا اور کیوبا کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ


اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کیوبا پر امریکی تجارتی پابندیوں کے خاتمے سے متعلق قرارداد پر بحث کے دوران امریکا کے سفیر مائیک والٹز اور کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز پریلا کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے باعث اجلاس کچھ دیر کے لیے معطل کرنا پڑا۔


رپورٹ کے مطابق منگل کو اقوام متحدہ میں کیوبا پر امریکی پابندیوں سے متعلق سالانہ بحث کے دوران امریکی سفیر مائیک والٹز نے اپنے خطاب میں کیوبا کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کی قیادت پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے۔


والٹز نے الزام لگایا کہ کیوبا کے حکمران نجی جزائر اور مہنگی رولیکس گھڑیوں جیسی آسائشوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جبکہ ملک کو درپیش مسائل کی ذمہ داری دوسروں پر عائد کرتے ہیں،ان کا یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا کی جانب سے کیوبا تک ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹوں کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔


امریکی سفیر کی تقریر کے دوران کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز پریلا اور وفد کے دیگر ارکان نے اپنی نشستوں سے بلند آواز میں احتجاج شروع کردیا، اس پر والٹز نے کیوبا کے وفد پر انہیں اور ان کے ساتھیوں کو خاموش کرانے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔


مائیک والٹز نے کہا کہ یہ امریکا نہیں بلکہ اقوام متحدہ ہے، یہ تمہاری کمیونسٹ آمریت نہیں۔ تم نہ مجھے خاموش کرا سکتے ہو اور نہ میرے ساتھیوں کو، جس پر کیوبن وزیر خارجہ نے انہین جھوٹا قرار دیا،تلخ کلامی کے دوران روڈریگز پریلا ہال کے اگلے حصے کی جانب بڑھے، تاہم اقوام متحدہ کی براہ راست نشریات میں ان کی بات واضح طور پر سنائی نہیں دی۔


اجلاس کے صدر خلیل الرحمان نے کارروائی معطل کردی، جس کے بعد کیوبا کے وزیر خارجہ کو نکتۂ اعتراض اٹھانے کا موقع دیا گیا،اپنی نشست پر واپس آنے کے بعد پریلا نے امریکی سفیر کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے ان پر کھلے عام جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا۔


واقعے کے بعد کیوبا کے وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی والٹز کو تنقید کا نشانہ بنایا،انہوں نے لکھا کہ امریکی سفیر اپنے تکبر میں یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ میں ہیں، نہ کہ امریکی قومی سلامتی کونسل، گرین بیریٹس کے کسی یونٹ یا سگنل گروپ میں۔


واضح رہے کہ والٹز سابق گرین بیریٹ ہیں اور گزشتہ برس امریکی قومی سلامتی کے مشیر بھی رہ چکے ہیں، اس دوران انہیں اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے غلطی سے ایک صحافی کو سگنل میسجنگ ایپ کے اس گروپ میں شامل کردیا تھا جس میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف امریکی حملوں سے متعلق گفتگو کررہے تھے۔


اقوام متحدہ میں یہ واقعہ امریکا اور کیوبا کے درمیان دیرینہ کشیدگی اور تجارتی پابندیوں کے معاملے پر دونوں ممالک کے اختلافات کو ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے۔