پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مخملی حیات،تحریر: عائشہ گُل

نقطہ نظر
ayeshagul

آج پھر وہ ہسپتال میں اوندھے منہ پڑی ہے۔ انجکشن کی وجہ سے بازو میں بے پناہ تکلیف ہے۔ کانوں میں امی جان کی دھیمی آواز آ رہی ہے کہ آخر تم ایسا کیوں کرتی ہو؟ کیوں اپنی حیات ختم کرنا چاہتی ہو؟


لوگوں کی باتیں دل پہ لینا چھوڑ دو۔ اگر وہ تمہیں ریجیکٹ کرتے ہیں تو یہ ان کی سوچ ہے۔ اللہ پاک نے تمہارا نصیب بہت اچھا لکھا ہے میری بیٹی، اس اذیت سے خود کو نجات دو۔


نور نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں اور بولی، امی جان میں اپنی کیفیت نہیں سمجھا سکتی کہ کیا محسوس کر رہی ہوں۔


یہ تیسری بار ہے۔ لیکن میرا رب مجھے ہر بار بچا لیتا ہے۔ وہ میری زندگی ختم نہیں ہونے دیتا۔ اب بس، میں اپنی حیات سے نہیں کھیل سکتی۔ اب جان گئی ہوں کہ جب تک رب کا حکم ہے جینا ہے۔


جو نصیب میں لکھا ہے وہ مل کر رہے گا۔ جب دینا اللہ نے ہے تو لوگوں کے پیچھے زندگی برباد کیوں کروں؟ اب مشکلوں کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گی۔ راہِ فرار بزدلوں کا کام ہے۔


آج نور نے اپنے رب سے کچھ عہد کیے اور ان کو فرض کر لیا۔


ہسپتال سے گھر آ کر سب سے پہلے نمازوں کی طرف دیکھا۔ ایک ڈائری پر لکھا: نماز کی پابندی، جھوٹ ختم، لوگوں کی باتیں دل پہ لینا بند، وہ کروں گی جس میں اللہ کی رضا ہو، قرآن ترجمہ تفسیر سے پڑھنا ہے، سیرت مصطفیٰ کا مطالعہ کرنا ہے۔


عصر کا وقت ہوا تو دل میں وسوسہ آیا، چھوڑو نماز، موبائل دیکھو، بعد میں پڑھ لینا۔ تم تو گناہگار ہو ایک نماز سے کیا ہوگا۔ نور نے سب باتیں جھٹک دیں۔


سب سے مشکل لڑائی اپنے آپ سے لڑنا ہے۔


نور نے وضو کیا، عصر پڑھی اور دعا کی: یا باری تعالیٰ! میں اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگتی ہوں۔ تو غفور الرحیم ہے رحم فرما۔ میں دنیا کی رنگینیوں میں بھٹک گئی تھی مجھے معاف فرما دے۔


یا اللہ! مجھے وہ توکل دے جیسا ابراہیم کا آگ میں تھا، وہ صبر جیسا ایوب کا بیماری میں تھا، وہ قناعت جیسی نبی پاک کی بھوک میں تھی، وہ حوصلہ جیسا یعقوب کا جدائی میں تھا، وہ استقامت جیسی ہاجرہ کی ریگستان میں تھی، وہ حیا جیسی سیدہ خاتون جنت کی تھی۔ مجھے ازواج مطہرات کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔


توبہ اس کی ڈھال بن گئی۔


چھ سال بعد


ایک پرسکون اور خوبصورت ریسٹورنٹ کے ایک کونے میں دونوں آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ باہر شہر کی روشنیاں جگمگا رہی ہیں مگر ان کی اپنی دنیا اس میز تک محدود ہے۔


نور نے آج نیلے رنگ کی نفیس کامدار میکسی پہن رکھی ہے جو اس کے پاؤں تک آ رہی ہے، اسی نیلے رنگ کے نرم حجاب میں اس کا چہرہ چاند کی طرح دمک رہا ہے۔ اس کی آنکھوں میں اب درد نہیں، سکون اور ممتا کی چمک ہے۔


سکندر نے اس کی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے محبت سے اس کا ہاتھ تھاما اور پوچھا، میری نور آج اتنی خاموش کیوں ہے؟


نور نے مسکرا کر اپنے وجود پر ہاتھ رکھا، جہاں اللہ کی امانت ایک نئی زندگی کی صورت میں سانس لے رہی تھی۔ اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔


وہ بولی، سوچ رہی ہوں سکندر، اللہ کی حکمتیں کتنی نرالی ہیں۔ جس حیات کو میں تین بار ختم کرنا چاہتی تھی، جسے میں بوجھ اور اذیت سمجھتی تھی، آج اسی حیات کے اندر سے ایک نئی حیات جنم لے رہی ہے۔


یہ کیسا کرم ہے میرے رب کا، جس نے میری ٹوٹی ہوئی، بکھری ہوئی کہانی کو اپنے دستِ رحمت سے جوڑا اور اس کے ہر ورق پر جنت کے پھول بکھیر دیے۔


سکندر نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور کہا، تم کمزور نہیں ہو نور، تم بزدل نہیں ہو۔ تم تو میری سب سے بہادر، میری معراجِ نور ہو۔ تم نے موت کے اندھیروں سے نکل کر روشنی کا راستہ خود تلاش کیا ہے۔


نور نے آسمان کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں سے شکر کے موتی ٹپک رہے تھے۔ یہ شکست کے آنسو نہیں تھے، یہ تو شکر کے سجدے تھے۔


دل میں بولی، میرے مولا تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے اس دن کے لیے بچا لیا۔ اگر تو اس رات میری سن لیتا تو میں یہ مخملی لمحہ کبھی نہ دیکھ پاتی۔ تیرا فیصلہ میری خواہش سے بہتر تھا۔


پھر اس نے سکندر کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا، وہ جملہ جو اب اس کی زندگی کا فلسفہ بن چکا تھا:


"سکندر، جب میرے رب نے ہر چیز کے ملنے کا وقت پہلے سے مقرر کر رکھا ہے تو بے صبری کر کے ثواب ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جس رب نے مجھے یہ مخملی حیات دوبارہ عطا کی ہے، وہی اسے سب سے حسین طریقے سے سنوارے گا بھی۔"


اور اس لمحے ریسٹورنٹ کی مدھم روشنی میں، دو ہاتھ اور ایک تیسرا ننھا سا وجود جو ابھی دنیا میں نہیں آیا تھا، سب ایک ساتھ اللہ کے شکر میں جھک گئے۔


ختم شد