پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جب پاکستان کے کمانڈوز نے پانچ بھارتی طیارہ اغوا کاروں کو حکمتِ عملی سے مات دی،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

نقطہ نظر
علامتی تصویر

45 سیکنڈ کی جرأت

جب پاکستان کے کمانڈوز نے پانچ بھارتی طیارہ اغوا کاروں کو حکمتِ عملی سے مات دی،

تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار

جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، دفاعی حکمتِ عملی، ڈیٹرنس اور دفاعی جدیدکاری کے امور میں مہارت رکھتے ہیں اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز کے رکن ہیں

وہ پاک فوج کے سابق افسر ہیں۔ ان کے تجربات اور تحقیقی دلچسپیوں میں عسکری امور، تزویراتی مطالعات، جغرافیائی سیاست، قومی سلامتی، تاریخِ جنگ اور علاقائی سلامتی کے موضوعات شامل ہیں۔ وہ تحقیق اور سماجی ترقی کی سرگرمیوں سے بھی وابستہ ہیں۔ مزید برآں، وہ ایک تعمیراتی و ترقیاتی کاروباری شخصیت اور مخیر حضرات میں سے ہیں، جو پاکستان بھر میں متعدد مدارس اور اسکول چلا رہے ہیں۔



30 ستمبر 1981ء کو پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت کا ایک قابلِ ذکر مظاہرہ کیا، جب لاہور ایئرپورٹ پر پاکستانی کمانڈوز نے اغوا شدہ بھارتی ایئرلائنز کے طیارے پر کارروائی کرتے ہوئے پانچ سکھ علیحدگی پسندوں کو گرفتار کیا اور باقی یرغمالیوں کو بحفاظت آزاد کرا لیا۔ اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ آپریشن پاکستان کی عسکری اور سکیورٹی تاریخ کا ایک یادگار باب ہے، جو ہماری خصوصی فورسز کی جرأت، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ تربیت کی عکاسی کرتا ہے۔


اس واقعے کے حوالے سے بعض اوقات یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ پاکستانی کمانڈوز نے محض 45 سیکنڈ میں پانچوں اغوا کاروں کو قابو کر لیا تھا۔ تاہم، دستیاب معاصر اخباری رپورٹس سے اس مخصوص دورانیے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس کے باوجود یرغمالیوں کو کامیابی سے آزاد کرانے کا بنیادی واقعہ تاریخی طور پر مستند اطلاعات سے ثابت ہوتا ہے۔


یہ فرق اہم ہے۔ پاکستان کی اس کامیابی کو غیر مصدقہ دعوؤں یا مبالغہ آرائی کے بجائے مستند حقائق کی بنیاد پر سراہا جانا چاہیے۔


اغوا شدہ طیارہ اور دباؤ میں گھری ایک قوم


29 ستمبر 1981ء کو پانچ سکھ علیحدگی پسندوں نے انڈین ایئرلائنز کی پرواز IC-423، جو بوئنگ 737 طیارہ تھا اور سری نگر سے نئی دہلی کی جانب سفر کر رہا تھا، اغوا کر کے لاہور کا رخ موڑ دیا۔ ان کے مطالبات میں سکھ علیحدگی پسند رہنما جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کی رہائی اور خالصتان کی تحریک سے وابستہ دیگر سیاسی مطالبات شامل تھے۔


اغوا کاروں نے مسافروں اور عملے کو دھمکیاں دیں، جس سے پاکستانی سرزمین پر یرغمالیوں کا ایک انتہائی خطرناک بحران پیدا ہو گیا۔ چھریوں اور دیگر ہتھیاروں سے مسلح ان افراد نے بے گناہ مسافروں کو یرغمال بنا رکھا تھا اور حکومتوں کو اپنے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

صورتحال ایسے ردعمل کا تقاضا کرتی تھی جو انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنائے اور مسلح افراد کو خوف و ہراس کے ذریعے اپنی شرائط منوانے کا موقع نہ دے۔

پاکستانی حکام کے سامنے ایک مشکل ذمہ داری تھی۔ اگر کارروائی عجلت یا غیر محتاط انداز میں کی جاتی تو درجنوں بے گناہ افراد کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی تھیں۔ دوسری طرف، ضرورت سے زیادہ تاخیر اغوا کاروں کو بحران مزید سنگین بنانے کا موقع دے سکتی تھی۔ اصل چیلنج صبر، انٹیلی جنس، حکمتِ عملی، فریبِ نظر اور فیصلہ کن کارروائی کو یکجا کرنا تھا۔


ایس ایس جی کی مہارت: طاقت سے زیادہ درستگی


معاصر اطلاعات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ 30 ستمبر کو لاہور ایئرپورٹ پر پاکستانی کمانڈوز نے کارروائی کی۔ بعض روایات کے مطابق، کمانڈوز نے طیارے تک رسائی حاصل کرنے کے لیے خود کو ایئرپورٹ کے صفائی کے عملے کے بھیس میں پیش کیا اور پھر مناسب موقع پر اغوا کاروں کو قابو کر لیا۔ پانچوں اغوا کار گرفتار ہوئے اور اطلاعات کے مطابق باقی تمام یرغمالیوں کو بغیر کسی جانی نقصان کے آزاد کرا لیا گیا۔


یہ ایک کامیاب اسپیشل فورسز آپریشن کی اصل روح تھی۔ مقصد صرف مسلح مخالف کو شکست دینا نہیں تھا، بلکہ یہ کام بے گناہ انسانی جانوں کو محفوظ رکھتے ہوئے انجام دینا تھا۔


پاکستان کی اسپیشل سروسز گروپ (SSG) طویل عرصے سے ملک کی اعلیٰ ترین عسکری صلاحیتوں کی علامت رہی ہے۔ اس کی شہرت سخت انتخابی معیار، غیر معمولی جسمانی برداشت، نفسیاتی مضبوطی، ٹیم ورک اور شدید دباؤ میں مؤثر انداز سے کام کرنے کی صلاحیت پر قائم ہے۔ یرغمالیوں کے بحران میں ان خوبیوں کے ساتھ درست فیصلہ سازی اور ضبط و تحمل بھی ناگزیر ہوتے ہیں۔


لاہور آپریشن میں بھیس بدلنے کی مبینہ حکمتِ عملی، ٹیکٹیکل سرپرائز یعنی اچانک اور غیر متوقع انداز میں کارروائی کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ صرف سامنے سے طاقتور حملہ کرنے کے بجائے، کمانڈوز نے مبینہ طور پر طیارے کے قریب پہنچنے کا ایسا طریقہ اختیار کیا جس سے اغوا کاروں کے شکوک کم سے کم ہوں۔ اس نوعیت کی کارروائی کے لیے پیشگی تیاری، باہمی رابطے، ہم آہنگی اور اپنے ساتھیوں پر مکمل اعتماد ضروری ہوتا ہے۔

یہ آپریشن اس لیے بھی اہم تھا کہ طیارہ ایک بھارتی ایئرلائن کا تھا اور یرغمالیوں کی اکثریت بھارتی شہریوں پر مشتمل تھی۔ پاکستان کی مداخلت نے یہ ظاہر کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باوجود انسانی جانوں کا تحفظ فوری ترجیح بن سکتا ہے۔


کیا یہ عالمی ریکارڈ تھا؟

یہ دعویٰ کہ پانچوں اغوا کاروں کو صرف 45 سیکنڈ میں قابو کر لیا گیا، یقیناً غیر معمولی اور حیران کن ہے۔ تاہم، اسے مستند ثبوت کے بغیر عالمی ریکارڈ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

ایسا ریکارڈ قائم کرنے کے لیے قابلِ اعتماد شواہد، کارروائی کے درست دورانیے کی تصدیق اور دنیا بھر میں یرغمالیوں کو بچانے کے دیگر آپریشنز کے ساتھ یکساں بنیادوں پر تقابل ضروری ہوگا۔

اس کے باوجود، اس آپریشن کی مجموعی کامیابی اپنی جگہ غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پانچوں اغوا کار گرفتار ہوئے،


یرغمالیوں کا بحران ختم ہوا اور اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان کے بغیر لوگوں کو بازیاب کرا لیا گیا۔ یہ بذاتِ خود ایک اہم عسکری کامیابی ہے۔

عسکری تاریخ میں جرأت اور بہادری کو سراہنا ضروری ہے، لیکن حقائق کی درستگی برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔


مستند تاریخی بیان مبالغہ آمیز دعوے سے زیادہ معتبر ہوتا ہے، خصوصاً جب معاملہ کسی اعلیٰ تربیت یافتہ عسکری یونٹ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ہو۔

ایک قابلِ فخر ورثہ

پاکستان کی مسلح افواج کو بارہا ایسے خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں ایک معمولی غلطی بھی بے گناہ انسانوں کی جان لے سکتی ہے۔ ستمبر 1981ء کا لاہور آپریشن نظم و ضبط کے ساتھ مداخلت، غیر معمولی عسکری حکمتِ عملی اور مؤثر بحران مینجمنٹ کی ایک قابلِ ذکر مثال کے طور پر یاد رکھا جانا چاہیے۔


ایس ایس جی کی اصل برتری صرف مخالف کو زیر کرنے کی صلاحیت میں نہیں، بلکہ مشن کو درست طور پر سمجھنے، صورتحال پر قابو پانے اور کم سے کم جانی نقصان کے ساتھ مطلوبہ مقصد حاصل کرنے میں ہے۔

پاکستان کے لیے اس واقعے کا سبق آج بھی اہم ہے۔ قومی سلامتی کا انحصار صرف ہتھیاروں اور افرادی قوت پر نہیں ہوتا، بلکہ تربیت، انٹیلی جنس، قیادت، نظم و ضبط اور ضرورت کے وقت بروقت و فیصلہ کن اقدام کرنے کی جرأت بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔


45 سیکنڈ کا دعویٰ ممکن ہے کہ تاریخی تحقیق اور تصدیق کا موضوع رہے، لیکن اس واقعے کی بنیادی کامیابی زیادہ مستند بنیادوں پر قائم ہے.


پاکستانی کمانڈوز نے ایک خطرناک طیارہ اغوا بحران کو ختم کیا، پانچوں اغوا کاروں کو گرفتار کیا اور باقی یرغمالیوں کو بحفاظت آزاد کرایا۔


یہ پیشہ ورانہ خدمت اور عسکری مہارت کا ایسا کارنامہ ہے جس پر پاکستان اور اس کا اسپیشل سروسز گروپ بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں۔


پاکستان زندہ باد