پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ذہانت یا محنت،تحریر: مہوش بنت بشارت

نقطہ نظر

دنیا کی تاریخ کا اگر گہرا مطالعہ کیا جائے تو ایک بحث ہمیشہ سے مروجہ سوچ کا حصہ رہی ہے۔انسانی کامیابی کی حتمی چابی کس کے پاس ہے۔ کچھ لوگ فطری ذہانت کو کامیابی کی ضمانت قرار دیتے ہیں جبکہ تاریخ کے صفحات گواہی دیتے ہیں کہ ذہانت سے زیادہ محنت زندگی کے میدان میں اثر انداز ہوتی ہے۔ ذہانت بلاشبہ قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے جو انسان کو چیزوں کو جلدی سمجھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی برقی رو کی مانند ہے جو اندھیرے میں راستہ تو دکھا سکتی ہے۔ اس راستے پر چلنے کی ہمت اور سکت صرف محنت ہی فراہم کرتی ہے۔ ایک ذہین انسان اگر سستی اور کاہلی کا شکار ہو جائے تو اس کا زنگ آلود دماغ کسی کام کا نہیں رہتا۔ دوسری طرف اگر ایک اوسط درجے کا ذہن رکھنے والا شخص اگر مستقل مزاجی سے کام کرے تو وہ کائنات کے مخفی رازوں کو پا لیتا ہے۔ ذہانت اور محنت کا یہ موازنہ زندگی کے ہر شعبے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کھیل کا میدان ہو یا علم و تحقیق کی دنیا کامیابی ہمیشہ اسی کے قدم چومتی ہے جو جم کر کھیلنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ ہم اکثر ایسے طالب علموں کو دیکھتے ہیں جو کلاس میں سب سے زیادہ ذہین مانے جاتے ہیں مگر وہ امتحانات میں وہ پوزیشن حاصل نہیں کر پاتے جو ایک عام مگر دن رات ایک کرنے والا طالب علم حاصل کر لیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ذہانت اکثر انسان کو حد سے زیادہ خود اعتماد بنا دیتی ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ تیاری کو غیر ضروری سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس محنتی انسان اپنی کمیوں سے واقف ہوتا ہے۔ اس لیے وہ ہر دن اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں صرف کرتا ہے۔ نفسیات کے ماہرین نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ انسانی دماغ ایک مسل کی طرح کام کرتا ہے۔ آپ اسے جتنا زیادہ استعمال کریں گے یہ اتنا ہی مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔ محنت وہ واحد عمل ہے جو اوسط دماغ کو بھی غیر معمولی بنا دیتا ہے۔ جب ایک انسان کسی کام کو بار بار کرتا ہے تو اس کے دماغ میں نئے نیورونز کے رابطے مضبوط ہوتے ہیں۔ جس سے اس کام میں مہارت پیدا ہوتی ہے۔ جسے دنیا 'ذہانت کا شاہکار' سمجھتی ہے وہ دراصل برسوں کی پوشیدہ ریاضت اور سخت کوشی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ دنیا کے عظیم ترین موجد تھامس ایڈیسن نے جب بلب ایجاد کیا تو اس نے ہزار سے زائد ناکام تجربات کیے۔ اگر وہ صرف اپنی ذہانت پر تکیہ کر کے بیٹھ جاتا تو شاید دنیا آج بھی اندھیرے میں ہوتی۔ اس کی کامیابی اس کی وہ محنت تھی جس نے اسے ہر ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے کا حوصلہ دیا۔کالم نگاری کی دنیا میں اگر ہم اپنے ارد گرد کے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو ہمیں بے شمار ایسے لوگ ملیں گے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ذہین ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود ناکام زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے درکار محنت کا مادہ موجود نہیں تھا۔ ایک اچھا خیال تب تک صرف ایک خیال ہی رہتا ہے جب تک اسے محنت کے پسینے سے نہ سینچا جائے۔ دنیا میں وسائل کی کمی نہیں ہے بلکہ کمی صرف ان لوگوں کی ہے جو ان وسائل کو استعمال کرنے کے لیے اپنے آرام کی قربانی دے سکیں۔ مستقل مزاجی اور محنت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ذہانت انسان کو ایک بہترین آغاز تو دے سکتی ہے لیکن یہ محنت ہی ہے جو انسان کو آخری لائن تک لے کر جاتی ہے۔ زندگی کی دوڑ کوئی سو میٹر کا مقابلہ نہیں ہے۔ یہ ایک طویل میراتھن ہے جہاں تیز دوڑنے والے سے زیادہ وہ شخص کامیاب ہوتا ہے جو بنا رکے مسلسل آگے بڑھتا رہتا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سلطنتیں اور نظریات صرف باتوں یا ذہین منصوبوں سے نہیں بنے بلکہ ان کے پیچھے لاکھوں انسانوں کے خون اور پسینے کی محنت شامل تھی۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ذہانت ایک پودا ہے لیکن محنت وہ پانی ہے جس کے بغیر یہ پودا کبھی تناور درخت نہیں بن سکتا۔ اخبار کے قارئین کے لیے یہ پیغام بالکل واضح ہے کہ اپنی فطری صلاحیتوں پر ناز کرنے کے بجائے عمل کی دنیا میں قدم رکھیں۔ قدرت کسی کی محنت کو رائیگاں نہیں کرتی اور یہی کائنات کا سب سے بڑا سچ ہے۔