پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

روشنی کی قیمت،تحریر: رفعت اکرام

نقطہ نظر

یہ کہانی کسی ایک گھر کی نہیں، ہر گھر کی ہے۔ یہ کہانی میرے گاؤں کے اس آخری گھر کی ہے جہاں اب بھی مٹی کا چولہا جلتا ہے۔

اس گھر میں رہتی ہے مائی سلیمہ۔ عمر اسی سال۔ اس کا بیٹا شہر میں فیکٹری میں مزدور ہے۔ تنخواہ پینتیس ہزار۔ پوتا کالج میں پڑھتا ہے، ہر وقت موبائل پر۔ پوتی ٹک ٹاکر بننا چاہتی ہے۔

پچھلے مہینے بجلی کا بل آیا اٹھارہ ہزار۔ مائی سلیمہ کے بیٹے کی آدھی تنخواہ۔ بیٹا بل ہاتھ میں لے کر بیٹھ گیا۔ بولا، اماں، اب کیا کریں؟ مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے۔ آٹا مہنگا، گھی مہنگا، اب تو روشنی بھی مہنگی ہو گئی۔

مائی نے کہا، بیٹا، جب میں چھوٹی تھی تو ہمارے گھر میں بجلی نہیں تھی۔ لالٹین جلتی تھی۔ ہم لالٹین کی روشنی میں کھانا کھاتے، کہانیاں سنتے۔ تب بل نہیں آتا تھا، لیکن پیار آتا تھا۔

پوتے نے کہا، دادی، وہ پرانے زمانے تھے۔ اب لالٹین سے کون جیتا ہے؟ اب تو موبائل چارج کرنا ہوتا ہے، وائی فائی چلانا ہوتا ہے۔

مائی نے کچھ نہیں کہا۔ اگلے دن اس نے ایک عجیب فیصلہ کیا۔ اس نے کہا، ایک ہفتے کے لیے ہم بجلی بند کر دیتے ہیں۔ صرف ایک بلب جلے گا۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

بیٹا ہنسا، پوتی بولی، دادی پاگل ہو گئی ہے۔ لیکن مائی کی بات گھر میں پتھر کی لکیر تھی۔ بجلی بند کر دی گئی۔

پہلا دن بہت مشکل تھا۔ گرمی، مچھر، اندھیرا۔ پوتا بار بار کہتا، دادی موبائل بند ہو گیا۔ پوتی کہتی، میری ویڈیو نہیں بن رہی۔

دوسرے دن مائی نے صحن میں چولہا جلایا۔ کہا، آؤ سب یہیں بیٹھو۔ وہ چولہے پر روٹیاں بنانے لگی۔ لکڑی کی خوشبو، دھوئیں کی لکیر۔ بچے پہلی بار چولہے کے پاس بیٹھے۔

مائی نے کہانی شروع کی۔ اپنی شادی کی کہانی، قحط کی کہانی، میلے کی کہانی۔ بچے سنتے رہے۔ انہیں لگا جیسے یوٹیوب سے زیادہ مزے کی کہانی ہے، بغیر اشتہار کے۔

تیسرے دن بیٹا جلدی گھر آ گیا۔ فیکٹری میں اوور ٹائم نہیں تھا۔ کہنے لگا، گھر میں اندھیرا ہے تو باہر کیا کرنا۔ وہ بھی صحن میں بیٹھ گیا۔ اس نے اپنے بچوں سے پہلی بار پوچھا، سکول میں کیا ہوا؟ پوتے نے پہلی بار بغیر موبائل کے جواب دیا۔

چوتھے دن محلے کے بچے بھی آ گئے۔ لالٹین کے گرد بیٹھ کر گلی ڈنڈا نہیں، کہانیاں سننے لگے۔ ایک بچے نے کہا، دادی، ہمارے گھر میں بھی ایسا کرتے ہیں۔ ہر وقت لائٹ، ہر وقت ٹی وی، کوئی کسی سے بات نہیں کرتا۔

پانچویں دن پوتی نے ٹک ٹاک نہیں بنائی۔ اس نے مائی کی ایک ویڈیو بنائی۔ مائی لالٹین صاف کر رہی تھی۔ کیپشن لکھا، میری دادی، میری روشنی۔ وہ ویڈیو وائرل ہو گئی۔ لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔ کمنٹ آئے، کاش ہمارے پاس بھی ایسی دادی ہوتی۔

چھٹے دن بجلی والا آیا۔ کہا، بل نہیں بھرا؟ بیٹے نے کہا، کل بھریں گے۔ بجلی والے نے کہا، تمہارا گھر تو اندھیرے میں ہے، پھر بھی اتنا سکون کیسے؟

ساتویں دن مائی نے کہا، اب بجلی کھول دو۔ بجلی آئی تو گھر پھر روشن ہو گیا۔ ٹی وی چلا، پنکھے چلے، موبائل چارج ہوئے۔ لیکن کچھ بدل گیا تھا۔

اب شام کو سب ٹی وی نہیں دیکھتے، صحن میں بیٹھتے ہیں۔ پوتا موبائل کم استعمال کرتا ہے۔ پوتی کہتی ہے، مجھے ٹک ٹاکر نہیں، ٹیچر بننا ہے، جیسے دادی۔

مائی سلیمہ نے بل کے پیسے اپنی پرانی صندوق سے نکال کر دیے۔ کہا، بیٹا، یہ میرے جہیز کے کنگن تھے، بیچ دیے تھے۔ روشنی کی قیمت تو دینی پڑتی ہے۔ چاہے لالٹین کی ہو، چاہے بجلی کی۔

اس کہانی نے پورے محلے کو بدل دیا۔ اب ہر جمعرات کو ایک گھر میں لالٹین جلتی ہے۔ سب بچے وہاں جمع ہوتے ہیں۔ اسے وہ "روشنی والی شام" کہتے ہیں۔

ج صاحب، یہ کہانی مقابلے کے لیے ہے، لیکن یہ صرف کہانی نہیں۔ یہ آج کا سچ ہے۔ ہم نے ترقی تو کر لی، لیکن سکون کھو دیا۔ ہمارے پاس ہر چیز ہے، بلب ہے، اے سی ہے، موبائل ہے، لیکن ایک دوسرے کے لیے وقت نہیں۔

مہنگائی صرف بجلی کے بل میں نہیں، رشتوں کے بل میں بھی آ گئی ہے۔ ہم رشتے بھی قسطوں پر نبھا رہے ہیں۔ کبھی واٹس ایپ پر، کبھی لائک پر۔

مائی سلیمہ آج بھی کہتی ہے، بیٹا، روشنی آنکھوں سے نہیں، دل سے آتی ہے۔ اگر دل میں اندھیرا ہو تو سو بلب بھی گھر روشن نہیں کر سکتے۔ اور اگر دل روشن ہو تو ایک لالٹین پورا محلہ روشن کر دیتی ہے۔