پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کسی کے زخم کو اپنی زندگی سے مت ناپیے ،تحریر: ام عبد القہار

نقطہ نظر

جس شخص کے لیے گھر پناہ رہا ہو، وہ اس انسان کی گھٹن کیسے سمجھے جسے گھر لوٹتے ہوئے خوف آتا ہو؟ جس کی ناراضی محبت سے منائی گئی ہو، وہ اس دل کی تھکن کیسے جانے جس نے خود ہی اپنے آنسو پونچھے ہوں؟ تجربات مختلف ہیں، مگر ہم مشورے اکثر ایسے دیتے ہیں جیسے سب نے ایک ہی راستے پر سفر کیا ہو۔ اپنی آسودہ دنیا کو دوسروں کی زندگی کا پیمانہ بنا لینا بعض اوقات خیرخواہی کو بھی اذیت میں بدل دیتا ہے۔


کوئی اپنی الجھن لے کر ہمارے پاس آتا ہے تو وہ صرف الفاظ نہیں لاتا؛ اپنے اعتماد کا ایک نازک حصہ بھی ہمارے حوالے کرتا ہے۔ ممکن ہے اس نے راتیں جاگ کر گزاری ہوں، بارہا خود کو سمجھایا ہو اور ہمت جمع کرکے بات کہی ہو۔ ایسے میں ہمارا جملہ، ’’اتنی سی بات ہے، نظرانداز کردو‘‘، اس کا مسئلہ حل نہیں کرتا۔ اسے یہ احساس دے سکتا ہے کہ اس کی تکلیف سننے کے قابل بھی نہیں تھی۔


جس نے پھولوں پر قدم رکھے ہوں، وہ کانٹوں کی چبھن کا اندازہ اپنی آسودگی سے نہیں لگا سکتا۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اسے مشورہ دینے کا حق نہیں۔ اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جس درد سے وہ محفوظ رہا ہے، وہ درد موجود ہے۔ سمجھنے کا دروازہ تجربے کے ساتھ انکسار سے بھی کھلتا ہے۔ مشکل تب ہوتی ہے جب اپنی محدود واقفیت کو حقیقت سمجھ کر دوسرے کے لیے فیصلے صادر کیے جانے لگیں۔


’’میرے گھر میں تو ایسا کبھی نہیں ہوا‘‘ کسی دوسرے کے بیان کو جھٹلانے کی دلیل نہیں۔ ’’میں ہوتی تو ایک دن برداشت نہ کرتی‘‘ کہنے والے کو شاید اس کے بچوں، معاشی مجبوریوں، تنہائی اور دستیاب راستوں کا علم نہ ہو۔ اسی طرح ’’اپنے ہی تو ہیں، سب سہہ لو‘‘ کہہ دینا بھی رشتے کی پیچیدگی سمجھنے کا متبادل نہیں۔ مشورہ وہ نہیں جو کہنے والے کی زندگی میں آسان ہو؛ مشورہ وہ ہے جو سننے والے کے حقیقی حالات میں قابلِ عمل ہو۔


بعض لوگوں کی دنیا گھر، خاندان اور معمولات تک محدود ہوتی ہے۔ محدود دائرہ کوئی عیب نہیں، مگر اس دائرے سے باہر کی ہر زندگی کو اسی سانچے میں ڈھالنا ضرور زیادتی ہے۔ ہر گھر میں بات کہنے کی یکساں آزادی نہیں ہوتی۔ ہر رشتے میں معافی کے بعد رویہ نہیں بدلتا۔ ہر خاموشی رضامندی نہیں ہوتی اور ہر مسکراہٹ اطمینان کی علامت نہیں۔ اچھا مشیر ظاہر کے پیچھے موجود امکانات کو سننے کی گنجائش رکھتا ہے۔


تاہم دکھ سہہ لینا بھی کسی کو درست مشورے کا اہل نہیں بنا دیتا۔ کبھی اپنے زخموں کا بوجھ اٹھائے بیٹھا شخص ہر تعلق میں دھوکا اور ہر اختلاف میں دشمنی دیکھنے لگتا ہے۔ وہ دوسرے کو اسی راستے پر بھیجتا ہے جس پر خود چلا تھا، چاہے حالات مختلف ہوں۔ کسی کی خوش حالی اس کی سمجھ کی ضمانت نہیں، کسی کی محرومی اس کی بصیرت کی سند نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ آپ کو سمجھ رہا ہے یا آپ میں اپنا ماضی دیکھ رہا ہے؟


ذاتی معاملات میں مشورہ ایسے شخص سے لینا چاہیے جو امانت دار ہو، آپ کی غیرموجودگی میں آپ کی عزت محفوظ رکھے اور آپ کی بات کو محفل کی دلچسپی نہ بنائے۔ جو سوال پوچھے، فیصلہ نہ سنائے۔ جو آپ کی کمزوری جان کر آپ پر اختیار جمانے نہ لگے۔ جو آپ کی خواہش کے مطابق ہر بات پر تائید بھی نہ کرے، لیکن اختلاف کرتے ہوئے آپ کی تحقیر نہ کرے۔ خیرخواہی میں سچائی اور نرمی دونوں کی جگہ ہوتی ہے۔


اس میں علمی دیانت بھی ہونی چاہیے کہ کہہ سکے: ’’اس معاملے میں میری معلومات کافی نہیں۔‘‘ ہر مسئلہ خاندانی تجربے سے حل نہیں ہوتا۔ بعض معاملات ماہر کی رہنمائی چاہتے ہیں۔ اپنی حد پہچان کر شخص تک پہنچا دینا بھی عمدہ مشورہ ہے۔ مشیر کی پختگی اس کے ہر سوال کا جواب دینے سے نہیں، غلط یقین دلانے سے بچنے میں ظاہر ہوتی ہے۔ کبھی ایک محتاط سوال، دس پراعتماد نصیحتوں سے مددگار ہوتا ہے۔


مشورہ لینے والے کو بھی ایسا شخص تلاش نہیں کرنا چاہیے جو اس کی ہر بات درست قرار دے۔ مقصد اپنے غصے کی حمایت جمع کرنا نہیں، صورتِ حال کو صاف دیکھنا ہے۔ ضروری حقائق بتائیے، دوسرے کی رائے سنیے، مگر اپنے حالات پر غور کرنے کی ذمہ داری برقرار رکھیے۔ کسی کا پراعتماد لہجہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ آپ کے فیصلے کے نتائج بھی سمجھے گا۔


کسی کو راستہ بتانے سے پہلے دیکھیے کہ اس کے پاؤں زخمی تو نہیں۔ آپ کے لیے جو قدم معمولی ہے، ممکن ہے وہ اس کے لیے پہاڑ ہو۔ اچھا مشیر اپنی آسان زندگی کی مثال دے کر کسی کی مشکل کو چھوٹا نہیں کرتا؛ وہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس مقام تک پہنچتے پہنچتے انسان کتنا تھک چکا ہے۔