ہم کو بے جرم اتنا ستایا گیا،شاعر:اختر چیمہ
نقطہ نظر
شہید عشق
تو بے مثال حسینہ تھی اپنی بستی کی
کہ ایسی اور کسی میں بھی آب و تاب نہ تھی
تری طلب میں ستارے طواف کرتے تھے
کہ تیرے جیسی کوئی رشک ماہتاب نہ تھی
چہار سمت ترے حسن کے فسانے تھے
کہ آفتاب تھا نصف النہار پر تیرا
جو دیکھتا تجھے حسرت سے سوچتا رہتا
کہ خوش نصیب کوئی ہو گا ہم سفر تیرا
ترے شباب کا گلشن تھا اپنے جوبن پر
لپکتے پھرتے تھے کتنے ہی بھونرے تجھ پر
تو اپنی دنیا میں ہر وقت مست رہتی تھی
خمار حسن میں تجھ کو کسی کی کب تھی خبر
رہ حیات میں اک روز پھر وہ موڑ آیا
اک اجنبی ترے خوابوں کا بن گیا محور
تو اپنے پیار کی دھن میں یہ بات بھول گئی
کہ اس سماج کی قدریں ہیں مختلف یکسر
تو ایک غیر کو دل میں بسا کے اے پگلی
تمام عمر کا ساتھی بنانا چاہتی تھی
دیار عشق میں پرچم وفا کا لہرائے
کچھ اس طرح سے محبت نبھانا چاہتی تھی
تجھے خبر نہ تھی اپنے سماج کی شاید
کہ ظلم حیلہء غیرت سے ڈھائے جاتے ہیں
وفا کے جرم کا جو لوگ ارتکاب کریں
چراغ زیست انہی کے بجھائے جاتے ہیں
کب اتفاق تھا تجھ سے ترے گھرانے کو
ورائے ذات کسی کی تو ہمسفر ٹھہرے
ترے جنوں میں کمی کچھ نہ آ سکی جب تو
بٹھا دیے گئے پھر تجھ پہ جبر کے پہرے
یہ کس نے موت کے ہاتھوں میں تجھ کو سونپ دیا
خدا کرے اسے دل کا سکوں کبھی نہ ملے
ترے لہو سے ہیں رنگین ہاتھ جس نے کیے
دعا ہے قلب و جگر کی کلی نہ اس کی کھلے
ترے فراق میں گل ہیں چراغ شہر وفا
ترے بغیر ہے ویراں محبتوں کا جہاں
اس المیے پہ فسردہ ہیں اہل درد مگر
ملے گا اب ترے قاتل کو بھی سکون کہاں
اجاڑ دیتی ہے دنیا محبتوں کے چمن
وفا کا کوئی بھی غنچہ نہ اس نے کھلنے دیا
ہر اہل دل نے سہے ہیں ستم زمانے کے
کسی کا چاک گریباں نہ اس نے سلنے دیا
ہر ایک خواب کی تعبیر مل نہیں سکتی
کہ غنچے شاخ سے گر کر کبھی نہیں کھلتے
عبث ہے ملک عدم میں وصال کی امید
جو جیتے جی نہ ملیں, مر کے بھی نہیں ملتے
اختر چیمہ
حسرت نا تمام
نہ پوچھ کار اذیت ہے زندگی کرنا
تمام لوگ منافق ہیں دل کے کالے ہیں
خلوص مند کوئی دوست ہے نہ ساتھی ہے
عجیب سانپ ہیں جو آستیں میں پالے ہیں
قدم قدم پہ رگ کرب پھوٹ پڑتی ہے
میں آگہی کے کڑے زخم روز سہتا ہوں
کوئی نجات کی صورت نظر نہیں آتی
عجیب رنج مسلسل کی زد میں رہتا ہوں
اے کاش! رنگ زمانہ وفا میں ڈھل جائے
شکستہ خواب پہ کوئی نہ ہاتھ ملتا ہو
غبار بغض و عداوت سے پاک ہو دھرتی
فقط خلوص و محبت کا سکہ چلتا ہو
اختر چیمہ
شہر منافق
کتنے عجب ہیں شہر منافق کے سلسلے
تعمیل حکم ظل الٰہی ہے فرض عین
درکار ہے اصول و ضوابط کا احترام
ممکن نہیں ہے حکم عدولی سے پل کا چین
آذادیء ضمیر سے لازم ہے احتراز
سر بستہ راز سامنے لانا بھی جرم ہے
ننگی ہے اس حمام میں اشرافیہ تمام
آئینہ کسی کو دکھانا بھی جرم ہے
بازار ظلم و جور ہے اپنے عروج پر
سب بدقماش لوگ ہیں ایکا کیے ہوئے
ہر پل منافقوں کی ہیں ریشہ دوانیاں
اہل خلوص سب ہیں تماشا بنے ہوئے
تیرہ رتوں پہ کوئی بھی اب معترض نہ ہو
قندیل آگہی کی جلانا بھی جرم ہے
مردان باصفا کا زمانہ گزر چکا
فرسودہ قصے سننا سنانا بھی جرم ہے
کب سے شب سیاہ مسلط ہے قوم پر
امید کا چراغ جلانا محال ہے
اہل ہوس نے لوٹ لیا گلشن حیات
جشن بہار اب کے منانا محال ہے
ہیں سب ہی مصلحت کے تقاضوں سے آشنا
یہ شہر اب ہے شہر خموشاں بنا ہوا
کٹھ پتلیوں کا کھیل ہے اپنے عروج پر
ہر چہرہ گرد مکر و ریا سے اٹا ہوا
گلچیں سے رسم و راہ کچھ اہل چمن کو ہے
یہ بات راز کی ہے بتانا بھی جرم ہے
اس شہر نامراد کا دستور ہے یہی
انگلی ستم گروں پہ اٹھانا بھی جرم ہے
ملت کا خون پی کے جو پلتے ہیں کج نہاد
دکھ درد وہ کسی کا بٹائیں گے کس طرح
جن کو منافقت کے قرینے عزیز ہوں
سویا ہوا ضمیر جگائیں گے کس طرح
ہر بے ضمیر شخص یے خلعت کا مستحق
ہر باکمال شخص ہے بے دست و پا یہاں
امرا ہیں سب مقیم محلات میں مگر
حاصل نہیں ہے خاک نشینوں کو سائباں
ہر شخص کو ہیں اپنے مفادات جب عزیز
کوئی امیر شہر سے الجھے تو کس طرح
لب بستہ رہ کے سب ہی بچاتے ہیں آبرو
اہل ستم کو کوئی بھی ٹوکے تو کس طرح
ہو آگہی اگر ہمیں اپنے حقوق سے
ہرگز کسی کو جرآت ظلم و ستم نہ ہو
پل میں فصیل شہر منافق ہو ملیا میٹ
اک شرط ہے کہ کاسہء سر محترم نہ ہو
اس دور کج نہاد سے ممکن نہیں نجات
جب تک نہ آگہی کا اجالا نصیب ہو
حریت ضمیر کا جذبہ اگر نہ ہو
کیسے طلوع صبح تمنا قریب ہو
کب سے خیال و خواب کی دنیا اداس ہے
ہر حق پرست شخص کی حالت خراب ہے
اس دور آگہی میں جہالت ہے حکمران
اس شہر نامراد میں رہنا عذاب ہے
اختر چیمہ
قبلہء اول سلام
سر زمین انبیاء اے قبلہء اول سلام
تیری خاطر کٹ مرے گی امت خیر الانام
تیری پاکیزہ فضا شاہد شب اسریٰ کی ہے
مٹ نہیں سکتا کبھی لوح جہاں سے تیرا نام
لا الہٰ کا تجھ سے رشتہ ہے ازل سے استوار
اہل ایماں تیری حرمت پر کریں گے جاں نثار
باندھ کر سر پر کفن نکلے ہیں مردان وفا
لشکر باطل فنا ہو گا بحق ذوالفقار
از سر نو معرکہ خیبر کا دیکھے گا جہاں
اہل باطل کا مٹے گا بالیقیں نام و نشاں
رزم گاہ حق و باطل میں ڈٹے ہیں سر فروش
زلزلہ ایوان باطل میں بپا ہے بے گماں
آخری یہ معرکہ ہے کفر اور اسلام کا
تا ابد ڈنکا بجے گا اہل حق کے نام کا
اختر چیمہ
میسج
شہر جاں ہے اداس مدت سے
تو کہاں ہے اے جان جانانہ
اب دسمبر کے آخری دن ہیں
ایک دن مجھ سے ملنے آ جانا
عمر بھر تیرے خواب دیکھے ہیں
میری چاہت کو بھول مت جانا
تو ہے سر نامہء حیات مرا
دل ترے حسن کا ہے دیوانہ
پیکر حسن! تیری آمد پر
گیت چاہت کے گنگناؤں گا
دیدہء و دل فرش رہ ہوں گے
تجھ کو پلکوں پہ میں بٹھاؤں گا
تیری تالیف قلب کی خاطر
تازہ بریانی بھی کھلاؤں گا
ذائقہ عمر بھر نہ بھولے گا
ایسی کافی تجھے پلاؤں گا
آتش عشق جلوہ دکھلائے
چائے چاہت کے ساتھ مل جائے
تو اگر مہربان ہو جائے
دل کا غنچہ ضرور کھل جائے
تخت دل پر براجمان ہے تو
تجھ کو کھونے کا آپشن ہی نہیں
میں تجھے کیسے بھول سکتا ہوں
بن ترے لگتا اپنا من ہی نہیں
تیری قربت کے خوشنما منظر
دل کی سکرین پر سجاؤں گا
تیری آمد رہے گی یاد مجھے
اس لیے سیلفیاں بناؤں گا
میری چاہت کا مان رکھتے ہوئے
خود بہ نفس نفیس آ جانا
چند گھڑیاں گذار کر باہم
حسرت دید بھی مٹا جانا
اختر چیمہ
انہونی
کجکلاہوں سے اپنی کبھی نہ بنی
سب شیاطین درپے ہمارے رہے
جو سمجھتے تھے رستے کا پتھر ہمیں
دشمنی پر کمر بستہ سارے رہے
گو رقیبوں میں بھی اختلافات تھے
سب ہماری عداوت میں یکجان تھے
اس قدر توڑے ظلم و ستم کے پہاڑ
بجھ گئے زندگی کے جو ارمان تھے
روح ابلیس تھی جیسے ان میں حلول
ظلم کی بجلیاں سب گراتے رہے
آتش انتقام ان کی بجھ نہ سکی
ہم پہ رہ رہ کے پتھر اٹھاتے رہے
وہ ستمگر بھی غیروں کی صف میں رہے
جن پہ اپنے کئی ایک احسان تھے
دست و بازو رقیبوں کا بن کر رہے
کس قدر پست فطرت وہ انسان تھے
شمع امید جل جل کے بجھتی رہی
قافلے دل کے ہر آن لٹتے رہے
منتظر صبح امید کے ہم رہے
ظلم کی رات کے سائے کم نہ ہوئے
سب منافق ہمارے ہی درپے رہے
روز و شب نت نئے گل کھلاتے رہے
عافیت ہر کسی کو میسر رہی
ہم بلا جرم صدمے اٹھاتے رہے
اشقیاء کو کبھی نہ ندامت ہوئی
عاقبت اپنی برباد کرتے رہے
تا دم مرگ بھی باز آ نہ سکے
جیسا کرتے تھے گو ویسا بھرتے رہے
اختر چیمہ
ایثار
لوگ رہ رہ کے پتھر اٹھاتے رہے
پھول چاہت کے ہم بھی لٹاتے رہے
لوگ جلتے رہے بغض کی آگ میں
ہم محبت بھرے گیت گاتے رہے
لوگ تیرہ رتوں سے ہی مانوس تھے
آگہی کے دیے ہم جلاتے رہے
بے حسی، کج ادائی تھی طرز جہاں
ہم وفاؤں کے نغمے سناتے رہے
لوگ دکھ دے کے بھی کتنے ناشاد تھے
چوٹ کھا کر بھی ہم مسکراتے رہے
وہ گلا کاٹنے کی تگ و دو میں تھے
ہم جنھیں اپنے سر پر بٹھاتے رہے
ہم مروت کی رہ پر رہے گامزن
لوگ اوقات اپنی دکھاتے رہے
اختر چیمہ
اسیر حسن
بے نیاز بہار و خزاں ہو گئے
ماورائے زمان و مکاں ہو گئے
جو ترے حسن کے رازداں ہو گئے
فکر کوئی انہیں بیش و کم کا نہیں
مست کیف و طرب پھرتے ہیں ہر کہیں
دونوں عالم ہوں جیسے کہ زیر نگیں
تیری قربت کے سپنے سجائے ہوئے
تیری یادوں کو دل سے لگائے ہوئے
جی رہے ہیں وہ خود کو بھلائے ہوئے
اختر چیمہ
ہم ہیں بھوکے فقط محبت کے
اہل دل ہیں وفا کے پیکر ہیں
بے ریا چاہتوں کے خوگر ہیں
خواب پریوں کے دیکھنے والے
چاند چہروں کے چاہنے والے
حسن فطرت کی جستجو ہے ہمیں
خوش جمالوں کی آرزو ہے ہمیں
ہم بہاروں سے عشق کرتے ہیں
لالہ زاروں سے عشق کرتے ہیں
رنگ و خوشبو سے پیار کرتے ہیں
خوشنما تتلیوں پہ مرتے ہیں
پیار سے اہل حسن ملتے ہیں
دشت دل میں گلاب کھلتے ہیں
خواب دیکھے نہ جاہ و حشمت کے
ہم ہیں بھوکے فقط محبت کے
اختر چیمہ
سب مایا ہے
جھوٹ کا کاروبار ہے دنیا
کتنی پر اسرار ہے دنیا
جھوٹی محبت جتلاتے ہیں
لوگ بھلا کب شرماتے ہیں
چکنی چپڑی باتیں کر کے
اک دوجے کو بہلاتے ہیں
کرتے ہیں سب جھوٹے وعدے
قسمیں بھی جھوٹی کھاتے ہیں
وقتی خوشیوں کی خاطر
خواب سہانے دکھلاتے ہیں
اک دوجے کو دھوکا دے کر
گہرے زخم لگا جاتے ہیں
سچ پوچھو تو سب مایا ہے
کون کسی کے کام آیا ہے
اختر چیمہ
آتش انتقام
کوئی بے حس زمانے میں اپنا نہیں
داستان محبت سنائیں کسے
ہر کوئی رنج و غم کا ہے مارا ہوا
داغ قلب و جگر کے دکھائیں کسے
اک حسینہ ہوئی ہم پہ جب مہرباں
عشوہ و ناز رنگیں دکھانے لگی
خواہش قرب سے ہو کے مغلوب وہ
شوخیء حسن سے دل لبھانے لگی
خواب چاہت کی تعبیر جب نہ ملی
زخمی ناگن کی مانند ڈسنے لگی
ہم نے جلتی پہ پانی تو ڈالا مگر
آتش نامرادی سلگتی رہی
حسن برہم کے ہاتھوں مسلسل ہمیں
بے خطا کتنے صدمے اٹھانے پڑے
محض ٹھکرائے جانے کی پاداش میں
ہم کو کیا کیا نہ قرضے چکانے پڑے
جرم انکار بخشا گیا نہ کبھی
نت نئی تہمتیں بھی لگائی گئیں
آتش انتقام اس قدر تیز تھی
بجلیاں رنج و غم کی گرائی گئیں
آتش بغض و کینہ میں جلتی ہوئی
گل بدن تھی جو سنگ گراں بن گئی
کر سکی نہ گوارا شکست انا
اس لیے دشمن قلب و جاں بن گئی
کون جانے محبت کی اس جنگ میں
کون سا ظلم تھا جو نہ ڈھایا گیا
ایک پل بھی نہیں چین لینے دیا
ہم کو بے جرم اتنا ستایا گیا
مزید پڑھیں
ننکانہ،جدید ویٹرنری آپریشن تھیٹر کا افتتاح
اوکاڑہ، پیرا فورس تجاوزات کے خلاف متحرک

