وہ موسم جو آج بھی میرے اندر کہیں زندہ ہے،تحریر: عائشہ مبین
نقطہ نظر
جانے کیوں، کچھ موسم دل میں اتر جاتے ہیں۔ کچھ لمحے گزر تو جاتے ہیں، مگر ہمارے اندر کہیں ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتے ہیں۔ وہ لمحے وقت کی گردش کے ساتھ ماضی کا حصہ تو بن جاتے ہیں، لیکن ان کی خوشبو، ان کی کیفیت اور ان سے وابستہ احساسات کبھی پرانے نہیں ہوتے۔ وہ لمحہ آج بھی میرے دل و دماغ میں ایک قیدی کی طرح محفوظ ہے، جسے وقت بھی آزاد نہیں کر سکا۔ جب بھی اسے یاد کرتی ہوں، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں آج بھی اسی جگہ بیٹھی ہوں، وہی فضا ہے، وہی منظر ہے اور وقت نے اپنی رفتار بھلا کر مجھے پھر اسی لمحے میں لا بٹھایا ہے۔
آسمان پر جب سیاہ بادل اپنے سائے پھیلانے لگتے ہیں، ہوا ہمارے وجود سے ٹکراتی ہوئی اپنے ساتھ مٹی کی سوندھی خوشبو لاتی ہے اور پھر بارش کی پہلی بوند زمین کو چھوتی ہے، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے خاموشی سے کوئی حسین داستان رقم کرنا شروع کر دی ہو۔ فضا میں پھیلی خنکی، پتوں پر ٹھہرتی بوندیں اور مٹی سے اٹھنے والی خوشبو دل کے کسی ایسے گوشے کو چھو جاتی ہے جہاں شاید برسوں سے کوئی احساس خاموش بیٹھا ہوتا ہے۔
پھر آہستہ آہستہ بوندیں زمین پر برسنے لگتی ہیں۔ بادل گرجتے ہیں، بجلی چمکتی ہے اور فضا میں ایک عجیب سا سکون پھیل جاتا ہے۔ وہ منظر اتنا دلکش ہوتا ہے کہ دل چاہتا ہے وقت یہیں ٹھہر جائے۔ نہ کوئی فکر ہو، نہ کوئی پریشانی، نہ گزرے ہوئے کل کا دکھ اور نہ آنے والے کل کی کوئی الجھن۔ بس میں ہوں، بارش ہو اور قدرت کا یہ حسین منظر، جسے میں خاموشی سے بیٹھ کر دیکھتی رہوں۔ کبھی کبھی انسان کو زندگی سے کچھ زیادہ نہیں چاہیے ہوتا؛ بس چند لمحے ایسے مل جائیں جن میں اسے کسی کے سامنے خود کو ثابت نہ کرنا پڑے، کسی سوال کا جواب نہ دینا پڑے اور وہ اپنی ذات کے ساتھ سکون سے بیٹھ سکے۔
اور پھر جب بجلی آسمان کے سینے پر روشنی کی ایک لکیر کھینچتی ہے، تو جانے کیوں دل میں کئی خیال جنم لینے لگتے ہیں۔ میں سوچتی ہوں، یہ لکیر کہاں سے شروع ہوئی ہوگی؟ کہاں جا کر ختم ہوئی ہوگی؟ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک لمحے کے لیے دکھائی دینے والا منظر کبھی کبھی دل و دماغ پر عمر بھر کے لیے نقش ہو جاتا ہے۔ شاید زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے؛ کچھ چیزیں ہماری نگاہوں کے سامنے چند لمحوں کے لیے آتی ہیں، مگر اپنے اثرات ہماری روح پر ہمیشہ کے لیے چھوڑ جاتی ہیں۔
بارش کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے، اور یہ زبان ہر کسی کو سمجھ نہیں آتی۔ میرا خیال ہے کہ اس زبان کو وہی سمجھ سکتا ہے جس کے اندر کوئی جنگ جاری ہو، جس کے لب خاموش ہوں مگر دل میں ان کہی باتوں کا ہجوم ہو۔ جس نے کبھی اپنے ہی خیالات کے شور سے نجات پانے کے لیے خاموشی کا سہارا لیا ہو، جس نے کبھی کسی ایسی یاد کو سینے سے لگایا ہو جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہ ہو۔ ایسے لوگوں کے لیے بارش محض پانی کی بوندیں نہیں ہوتی، بلکہ ایک ایسا احساس ہوتی ہے جو ان کے اندر کی دنیا سے ہم کلام ہونے لگتا ہے۔
کبھی بارش دل کے شور کو خاموش کر دیتی ہے، کبھی یادوں کے بند دریچے کھول دیتی ہے اور کبھی انسان کو اپنی ہی ذات سے روشناس کرواتی ہے۔ عجیب بات ہے نا، قدرت کے یہ مناظر بظاہر بے زبان ہوتے ہیں، مگر دل سے کتنی باتیں کر جاتے ہیں۔ کچھ لوگ بارش میں صرف پانی برستے دیکھتے ہیں، مگر کچھ لوگ اسی بارش میں اپنے خواب، اپنی خاموشیاں، اپنی ادھوری خواہشیں اور اپنے اندر کی دنیا محسوس کرتے ہیں۔ شاید فرق موسم میں نہیں، اسے محسوس کرنے والے دلوں میں ہوتا ہے۔
کچھ یادیں بھی بارش کی بوندوں جیسی ہوتی ہیں۔ اچانک کسی خیال کی صورت دل پر دستک دیتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ ہم چاہیں بھی تو انہیں اپنے اندر سے مکمل طور پر جدا نہیں کر سکتے۔ وقت بہت کچھ بدل دیتا ہے؛ چہرے بدل جاتے ہیں، جگہیں بدل جاتی ہیں، زندگی کے معمولات بدل جاتے ہیں، مگر کچھ احساسات اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ان کا تعلق کسی ایک منظر سے نہیں، بلکہ اس کیفیت سے ہوتا ہے جو ہم نے اس منظر میں محسوس کی تھی۔
اور ایسے ہی کسی حسین موسم میں میرے اندر لکھنے کی ایک عجیب سی خواہش جاگ اٹھتی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ لکھتی جاؤں، لکھتی جاؤں، یہاں تک کہ میرے اندر موجود ہر احساس لفظ بن جائے۔ وہ خیال بھی لکھ دوں جو ابھی ابھی دل میں اترا ہے، وہ کیفیت بھی بیان کر دوں جسے میں خود پوری طرح سمجھ نہیں پائی، اور وہ خاموشی بھی کاغذ پر اتار دوں جس کی آواز صرف مجھے سنائی دیتی ہے۔ شاید لکھنا بھی بارش کی طرح ہے؛ جیسے بادل اپنے اندر جمع پانی برسائے بغیر ہلکے نہیں ہوتے، ویسے ہی انسان بھی کبھی اپنے احساسات کو لفظوں میں ڈھالے بغیر سکون محسوس نہیں کرتا۔
میرے لیے لکھنا محض الفاظ کو ترتیب دینا نہیں، بلکہ اپنے اندر کی دنیا سے ملاقات کرنا ہے۔ کبھی کوئی جملہ مجھے میرے ہی کسی بھولے ہوئے احساس تک لے جاتا ہے، کبھی کوئی لفظ کسی پرانی یاد کا دروازہ کھول دیتا ہے، اور کبھی قلم کے ذریعے میں وہ سب کہہ دیتی ہوں جو شاید کسی محفل میں بیٹھ کر کبھی نہ کہہ سکوں۔ شاید اسی لیے کچھ موسم صرف دیکھنے کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ روح میں اتار لینے کے لیے ہوتے ہیں۔ کچھ منظر آنکھوں سے نہیں، دل کی گہرائیوں سے دیکھے جاتے ہیں، اور کچھ احساسات زبان سے نہیں، قلم سے بیان ہوتے ہیں۔
کاش! زندگی کے کچھ خوبصورت لمحے بھی بارش کی بوندوں کی طرح ہمارے پاس ٹھہر جایا کریں۔ کاش ہم وقت سے کہہ سکتے کہ ذرا آہستہ چل، ابھی دل اس منظر سے سیر نہیں ہوا، ابھی ان بوندوں کی آواز سننی باقی ہے، ابھی کچھ خیال لفظوں میں ڈھالنے ہیں اور ابھی اس خاموشی کے ساتھ چند لمحے مزید گزارنے ہیں۔ مگر وقت کسی کی خواہش کا پابند نہیں ہوتا۔ وہ اپنی رفتار سے گزرتا رہتا ہے، اور ہم اس کے دامن سے کچھ یادیں، کچھ احساسات اور چند نامکمل خواہشیں سمیٹ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
شاید لمحوں کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ وہ ہمیشہ ہمارے پاس نہیں رہتے، مگر اپنے پیچھے ایسی یادیں چھوڑ جاتے ہیں جنہیں ہم برسوں بعد بھی محسوس کر سکتے ہیں۔ زندگی میں بعض اوقات کسی موسم کی واپسی ممکن نہیں ہوتی، لیکن اس موسم سے وابستہ احساس دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔ آسمان پر بادل چھاتے ہیں، ہوا مٹی کی خوشبو لے کر آتی ہے اور بارش کی پہلی بوند زمین کو چھوتی ہے، تو دل کے کسی گوشے میں ایک پرانا منظر پھر سے روشن ہو اٹھتا ہے۔
اور تب احساس ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں، بلکہ ہماری ذات کا حصہ بن جاتی ہیں۔ وہ ہماری سوچ، ہماری تحریر اور ہمارے احساسات میں کہیں نہ کہیں زندہ رہتی ہیں۔
مزید پڑھیں
ننکانہ،جدید ویٹرنری آپریشن تھیٹر کا افتتاح
اوکاڑہ، پیرا فورس تجاوزات کے خلاف متحرک

