دل ہمارا گوہرِ غلطان ہے،شاعر :حمزہ ارشد
نقطہ نظر
مصنف:
غزل
حمزہ ارشد
دل ہمارا گوہرِ غلطان ہے
دم ہمارا شورشِ طوفان ہے
سرنگوں کچھ چادروں کی شان ہے
"زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے"
اپنا ہم کو تو پتہ کوئی نہیں
گردشِ وحشت کا بس امکان ہے
کیوں حقیقت کو نہیں وہ جانتا
خوش گماں ہے کس قدر نادان ہے
دیکھیے مست و الست و مہرباں
دیکھیے یہ رحمتِ یزدان ہے
اس سے ہر کوئی معطر ہو گیا
جو تمناؤں کا اک لوبان ہے
حسرتِ نومید ہے غم پاس ہے
دوزہیں اجزائے دل بے جان ہے
ہو علاج اس شہرِ پر آشوب کا
اب کہاں وہ پلّہ ءِ میزان ہے
آ کہ حمزہؔ شہرِ وحشت سے نکل
آہ کیوں تکمیل سے ویران ہے
مزید پڑھیں
ننکانہ،جدید ویٹرنری آپریشن تھیٹر کا افتتاح
12 منٹ پہلے
اوکاڑہ، پیرا فورس تجاوزات کے خلاف متحرک
19 منٹ پہلے

