سچ کی ہار، جھوٹ کی جیت،تحریر: ماہ جبین اظہر
نقطہ نظر
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام مبعوث فرمائے، جنہوں نے انسانیت کو سچائی، امانت داری اور نیکی کی تعلیم دی۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے بھی ہمیشہ سچائی کا درس دیا۔ آپ ﷺ نبوت سے پہلے ہی صادق اور امین کے لقب سے مشہور تھے۔ سچائی آپ ﷺ کی زندگی کا نمایاں وصف تھی اور آپ نے اپنی امت کو بھی جھوٹ سے بچنے کی تلقین فرمائی۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔‘‘
(سورۃ التوبہ: 119)
یہ آیت ہمیں واضح پیغام دیتی ہے کہ سچائی محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایمان کا اہم تقاضا بھی ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں، جب سچ بولنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، لوگ سچ کو کامیابی کی ضمانت سمجھنے کے بجائے جھوٹ کو کامیابی کی سیڑھی سمجھنے لگے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز افسران کی خوشامد کرنا، ان کی جھوٹی تعریفیں کرنا اور ذاتی مفادات کے لیے حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا عام ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ اپنی صلاحیتوں اور محنت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے بجائے خوشامد اور جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ یوں سچ بولنے والا اپنی جگہ کھڑا رہ جاتا ہے اور جھوٹ بولنے والا ترقی کی منزلیں طے کرتا دکھائی دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور جھوٹ برائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور برائی جہنم کی طرف لے جاتی ہے۔‘‘
(صحیح بخاری: 6094، صحیح مسلم: 2607)
یہ حدیث ہمیں سمجھاتی ہے کہ سچ اور جھوٹ محض الفاظ کا فرق نہیں، بلکہ یہ دو مختلف راستے ہیں جن کے نتائج بھی مختلف ہیں۔ سچائی انسان کے کردار کو سنوارتی ہے، جبکہ جھوٹ رفتہ رفتہ اس کے ضمیر کو کمزور کر دیتا ہے۔
روزمرہ زندگی میں بھی ہمیں اس کی بے شمار مثالیں دکھائی دیتی ہیں۔ جب سڑک پر کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو بعض لوگ حقیقت کا ساتھ دینے کے بجائے اس شخص کی حمایت کرنے لگتے ہیں جس کے پاس دولت، اثر و رسوخ یا بڑی گاڑی ہوتی ہے۔ اگر کسی غریب شخص کی غلطی نہ بھی ہو تو اس کی بات سننے والا کوئی نہیں ہوتا، جبکہ طاقتور شخص کی غلطی جانتے ہوئے بھی لوگ اس کے حق میں گواہی دینے لگتے ہیں۔ یوں جھوٹ لوگوں کی حمایت حاصل کرکے جیت جاتا ہے اور سچ بے بسی کی تصویر بن جاتا ہے۔
اسلام میں جھوٹی گواہی کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
’’اور جھوٹی بات سے بچو۔‘‘
(سورۃ الحج: 30)
یہ حکم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کسی کے حق میں یا مخالفت میں گواہی دیتے وقت ذاتی تعلقات، دولت اور مرتبے کو نہیں بلکہ حقیقت کو سامنے رکھنا چاہیے۔ جھوٹی گواہی صرف ایک شخص کے ساتھ ناانصافی نہیں، بلکہ کسی بے گناہ کی زندگی اور عزت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
ہمارے عدالتی نظام میں بھی بعض اوقات ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جہاں سچائی کو ثابت کرنے کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ثبوت موجود ہونے کے باوجود مقدمات طویل عرصے تک چلتے رہتے ہیں، جبکہ دولت اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد اپنے لیے آسانیاں پیدا کر لیتے ہیں۔ یقیناً دیانت دار جج، وکلا اور دیگر افراد بھی انصاف کی فراہمی کے لیے کوشش کرتے ہیں، لیکن جہاں طاقت اور مفاد انصاف پر غالب آ جائیں، وہاں عام انسان کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
میڈیا بھی معاشرے کی سوچ تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقائق سامنے لائے، مظلوم کی آواز بنے اور جھوٹ کو بے نقاب کرے۔ لیکن جب خبریں مفادات یا دباؤ کے تحت پیش کی جائیں تو حقیقت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ جھوٹ کو بار بار دہرایا جاتا ہے اور سچ کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سچ بولنے کی نصیحت تو کرتے ہیں، لیکن کیا خود بھی اس پر عمل کرتے ہیں؟ اگر بچے اپنے اردگرد جھوٹ بولنے والوں کو کامیاب اور سچ بولنے والوں کو مشکلات میں دیکھیں گے تو ان کی سوچ کیسے تشکیل پائے گی؟ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بچے ہماری نصیحتوں سے زیادہ ہمارے کردار سے سیکھتے ہیں۔ اگر ہم ایک سچا اور انصاف پسند معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں خود اس کی بنیاد رکھنی ہوگی۔
سچائی کا مطلب صرف اپنی بات درست ثابت کرنا نہیں، بلکہ دوسروں کے حقوق کا تحفظ کرنا بھی ہے۔ ہمیں کسی کمزور کے حق میں سچ بولنے کے لیے ہمت پیدا کرنی ہوگی، خواہ اس کی وجہ سے ہمیں کسی طاقتور شخص کی ناراضی ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل اہمیت انسان کے کردار اور اعمال کی ہے، نہ کہ اس کے عہدے، دولت یا ظاہری شان و شوکت کی۔
سچ کی ہار اور جھوٹ کی جیت کسی ایک انسان کی شکست نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی شکست ہے۔ اگر ہم نے آج سچائی کا ساتھ نہ دیا تو آنے والی نسلوں کے لیے جھوٹ کو معمول اور سچ کو کمزوری سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ حقیقی ترقی بلند عمارتوں، بڑی گاڑیوں اور اونچے عہدوں میں نہیں، بلکہ سچائی، انصاف اور دیانت داری میں پوشیدہ ہے۔
کیونکہ جس معاشرے میں سچ بولنے والا ہار جائے اور جھوٹ بولنے والا جیت جائے، وہاں صرف حق کی آواز نہیں دبتی، بلکہ انسانیت کا اعتماد بھی شکست کھا جاتا ہے۔




