کاش تم سے ملاقات ہو عید پر،شاعر:صفدر بھٹی
نقطہ نظر
کاش تم سے ملاقات ہو عید پر
پھر محبت کی برسات ہو عید پر
گر قدم رنجہ فرمائیں دہلیز پر
ہجر کا غلغلہ مات ہو عید پر
موتیوں سے بھرے چشمِ حیران پھر
آبیاریِ جذبات ہو عید پر
تیرے رخسار کی ضوفشانی تلے
پھر ہرا دل کا ہر پات ہو عید پر
بربطِ دل الاپے نئے زمزمے
ہاتھ میں گر ترا ہات ہو عید پر
حسن بھی عشق بھی شوخیاں مستیاں
کاش خوشیوں کی بارات ہو عید پر
نظر نظروں کی چپکے سے لے بوسیاں
بیٹھے پیٹھے یونہی رات ہو عید پر
صفدرا قلب کیا زندگی وار دوں
کاش تم سے ملاقات ہو عید پر
..............................
غزل
وہ جو کھلنے لگا اور مچلنے لگا
دل ہمارا بھی گرنے سنبھلنے لگا
واہ دلبر کہ پڑتے ہی پہلی نظر
قلب میں ذہن میں میرے چلنے لگا
اُس رخِ آتشیں کی حرارت سے اب
میں کہ سارے کا سارا ہی جلنے لگا
پاس ٹھہرا گھڑی بھرکو دل کھل اٹھا
ان کے اٹھتے ہی تن من پگھلنے لگا
اب جو تنہا ہیں تو وہ ملائم حسیں
آنکھوں میں ڈوبنے اور ابھرنے لگا
کون ہے شوخ کس سے ملے صفدرا
قلب پھر سے تمہارا جو چھلنے لگا




