پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سچ کی طاقت، تحریر:نمرہ امین

nimra amin

ہانیہ کیا ہوا ہے آج اتنی اداس کیوں ہو؟

ہانیہ جو اپنے ہی خیالوں میں مگن اسکول کی لائبریری میں بیٹھی کتاب سامنے رکھے کسی اور ہی دنیا میں گم تھی۔ اچانک مائرہ کی آواز سے یکدم چونک گئی۔

کیا ہوا ہانیہ کیوں اتنی پریشان ہوگئی؟

کچھ نہیں! تم بتاؤ کب آئی؟

میں تو کب سے آئی ہوں اور تمہیں بلا رہی تم ہی پتہ نہیں کس دنیا میں گم تھی۔

جیسے تم نے ہی نیا کوئی فارمولا بنانا ہو۔

نہیں ایسا کچھ نہیں بس میں کتاب ہی پڑھ رہی تھی۔

ہانیہ اور مائرہ دونوں بچپن سے بہت اچھی سہیلیاں تھیں۔ ایک دوسرے کی ہر بات کو سمجھنے اور احساس کرنے والی تھیں۔ ایک ہی محلے میں رہتی تھیں اور ایک ساتھ ہی اسکول جاتی تھیں۔

پڑھائی میں دونوں بہت لائق تھیں اور خوب دل لگا کر ہر جماعت میں پڑھتی تھیں اور ہمیشہ اول، دوئم پوزیشن پر ان کا ٹارگٹ رہتا تھا۔ اسکول کے سب اساتذہ کو ان کی قابلیت پر فخر تھا۔

لیکن جیسے ہی جماعت نہم کی شروعات ہوئی ہانیہ کی پڑھائی کافی کم ہوگئی۔ اس کا پڑھائی میں دل نہیں لگتا تھا۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی خیال میں، سوچ میں گم رہنے لگی تھی۔ اس کا دھیان ہی نہیں ہوتا تھا پڑھائی میں۔ وہ ہر وقت کہانیاں پڑھتی رہتی تھی۔ اس کا شوق رسالوں اور کہانیوں کی طرف بڑھ گیا۔

اپنی نصاب کی کتابوں کو پڑھنے میں اس کی دلچسپی کم ہو گئی تھی۔ نہ وہ اب پہلے کی طرح محنت کرتی تھی۔ وہ اب ہر وقت اردو کی کہانیوں کو شوق سے پڑھتی رہتی تھی۔ اس کا بھی دل کرتا تھا وہ بھی کہانیوں کو لکھے اس کی کہانیاں بھی اخبار میں شائع ہو سکیں اور وہ بھی بہترین لکھاریہ کے طور پر اپنی پہچان بنا سکے۔

اس نے گھر میں، اسکول میں بہت سے رسائل، اخبارات اور کتابیں لے رکھی تھی جس کو سب سے چھپا کر وہ پڑھتی رہتی تھی۔

اس کے دل میں یہ ڈر تھا کہ اگر گھر والوں نے یا اسکول میں اساتذہ نے یہ رسائل، کتابیں دیکھیں تو اس کو پڑھنے سے منع کر دیں گے۔


جب نہم جماعت کے اسکول میں امتحانات ہوئے تو اس بار وہ بمشکل بہت کم نمبرز لے کر پاس ہو سکی۔ اس نے اسکول میں جھوٹ بول دیا کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی جس وجہ سے وہ محنت سے پڑھ نہیں سکی اور اپنے اساتذہ سے معذرت کر لی کہ آئندہ محنت کرے گی۔

ہانیہ نے اپنے گھر والوں سے بھی جھوٹ بولا کہ وہ بیمار رہی اس لیے اس سے پڑھائی نہیں ہو سکی تھی۔

سب نے اس کو حوصلہ، ہمت دی کہ وہ دل برا نہ کرے۔ اپنی پڑھائی پر توجہ دے اور محنت کرے تو ضرور کامیاب ہوگی۔

ہانیہ اب اس لیے پریشان بھی رہنے لگی تھی کہ اس نے سب سے جھوٹ بولا اور بات بھی چھپائی کہ وہ اتنی محنت لگن سے کیوں نہیں پڑھ سکی؟

مائرہ نے ہانیہ سے آج اسکول میں پوچھ ہی لیا۔

ہانیہ یار بتاؤ کیا بات ہے کتنے دنوں سے تم ایسے پریشان ہو۔

نہ بات کرتی ہو۔ نہ ہی کچھ بتا رہی ہو۔ کیا مسّلہ ہوا ہے بتاؤ مل کر کوئی حل نکالتے ہیں۔ ایسے کیوں پریشان ہو؟

ہانیہ آج بہت اداس تھی مائرہ کی بات سن کر وہ رونے لگ گئی۔

مائرہ میں نے سب گھر والوں سے اور اساتذہ سے جھوٹ بولا ہے کہ میں اپنی طبیعت خرابی کی وجہ سے امتحانات اچھے نہیں دے سکی۔ محنت نہیں کر سکی۔

کیا مطلب ہانیہ جھوٹ بولا ہے؟

ہاں مائرہ: میری طبیعت اتنی خراب نہیں تھی لیکن میرا پڑھائی میں دل نہیں لگتا تھا۔

میرا دھیان ہٹ جاتا تھا جب بھی کتاب پڑھتی تھی۔ میں ہر وقت کہانیاں، رسالے، اخبارات پڑھتی رہتی تھی۔ اس وجہ سے مجھ سے امتحانات میں محنت نہیں ہو سکی۔ سب سے چھپا کر میں اخبارات اور رسالے پڑھتی تھی تاکہ کوئی مجھے منع نہ کر دے۔ مجھے کہانیاں پڑھنے اور لکھنے کا شوق ہے اور میں بھی رسالوں میں کہانیاں لکھنا چاہتی ہوں۔ لیکن مجھے ڈر تھا کہ کہیں سب مجھے منع نہ کر دیں روک نہ دیں اور مجھ سے رسالے، کہانیں لے لیں گے کہ بس اسکول کی پڑھائی کروں۔

اس لیے میرا رزلٹ بھی نہیں اچھا آیا میں دل لگا کر محنت سے پڑھائی نہیں کر سکی۔


دیکھو ہانیہ ! تمہارا یہ شوق برا نہیں ہے نہ اس میں کچھ غلط ہے۔ بلکہ مطالعے کا شوق تو ہر انسان کو ہونا چاہیے۔ ہمیں تو زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ ہم بہت سی معلومات سے مستفید ہو سکیں۔ مطالعہ کرنے سے ہی تو ہم دین و دنیا کو سمجھ سکتے ہیں۔ ہمارے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہمیں معاشرے کی عقل، سمجھ آتی ہے۔ ہم میں ہر طرح کا شعور اجاگر ہوتا ہے۔ ہمیں بہت کچھ سیکھنے، سمجھنے کو ملتا ہے تاکہ ہم ہر اچھی بات کو سیکھ کر اس پر عمل پیرا ہو سکیں۔ اپنے روشن مستقبل کو دین کی سمجھ کے مطابق سنوار سکے۔ مطالعہ کرنے سے ہمیں بولنے کا، بات کرنے کا سلیقہ آتا ہے۔

لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم اپنے کسی شوق کو پورا کرنے کے لیے سب سے جھوٹ بول کر باتیں چھپائیں۔ اپنے ایک شوق کے لیے اپنی دوسری سرگرمیوں اور پڑھائی کو نظر انداز کریں۔

جب ہم محنت کریں گے تب ہی ہمیں اس کا بہترین صلہ ملے گا۔ ایک شاندار اچھا نتیجہ ملے گا جو ہماری کامیابی کی جیت ہوگی۔ ہر کام میں محنت ہوتی ہے اور مسلسل محنت کرنے سے انسان کامیابی کی سیڑھی کو عبور کرتا ہے۔ اگر ہمارا حوصلہ بلند ہو، ہمت ہو اور کوشش ہو تو ہم اپنی ہر منزل کو حاصل کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے ہمیں ہمیشہ سچ کا دامن تھامے رکھنا ہوتا ہے۔ کیوں کہ سچ میں وہ برکت ہے جو انسان کو اس کی ہر منزل، ہر خواہش، ہر مقصد کو حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کو ہر جنگ میں فتح یاب کرتا ہے۔ جب ارادے مضبوط اور پختہ ہوں تو ہم اپنے ہر مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اپنے ہر شوق کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ سچ میں وہ طاقت ہے جو انسان کی بڑی سے بڑی آزمائش اور رکاوٹ کو ختم کر دیتا ہے۔محنت ہی انسان کی ہر کامیابی کی منزل ہے۔


مائرہ تم نے سب ٹھیک کہا ہے تمہارا شکریہ اتنے اچھے سے سب مجھے سمجھایا ہے۔ آج سے میں بھی اپنے ہر مقصد، ہر شوق کو پورا کرنے کے لیے محنت کروں گی اور سچ کا دامن تھامے رکھوں گی تاکہ میں بھی اپنی ہر منزل کو کامیابی سے حاصل کر سکوں اور اللہ بھی مجھ سے راضی رہے۔ محنت اور لگن سے ہی انسان اپنا ہر شوق پورا کر سکتا ہے۔

ہانیہ نے اپنے گھر والوں اور اساتذہ سے معذرت کی اور ان سے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کبھی جھوٹ نہیں بولے گی۔ کبھی کوئی بات نہیں چھپائے گی۔ اپنی کسی کارکردگی کو نظر انداز نہیں کرے گی۔ اپنے ہر شوق کو ساتھ لے کر اس کو پورا کرنے کی کوشش کرے گی اور محنت سے اپنی ہر منزل کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔ تاکہ اس محنت میں اس کے والدین اور اساتذہ کا ساتھ اور دعائیں بھی شامل ہو سکیں اور اس کا بہتر مستقبل بن سکے۔


ہانیہ نے ایک دن اپنی محنت اور سچ کی بنیاد پر اپنی منزل کو حاصل کر لیا۔ وہ ایک ہونہار طلبہ کے ساتھ ساتھ آج بہت اچھی لکھاریہ بھی بن گئی۔اس کی کہانیاں مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتی ہیں۔ اس نے اللہ پر کامل یقین رکھتے ہوئے محنت کی اور سچ کا دامن ہمیشہ تھامے رکھا جس کی بدولت اپنے ہر شوق کو مکمل کیا اور اپنے ہر مقصد میں کامیابی حاصل کی۔