کراچی سڑک کی تعمیر میں تنازع، ریلوے افسر کے گھر اور دفاتر کے باہر کچرا پھینک دیا گیا

کراچی میں ریلوے پولیس اور سٹی وارڈنز کے درمیان تنازع کے بعد نامعلوم افراد نے ریلوے افسر کے گھر اور دفاتر کے باہر کچرا پھینک دیا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس سے چند قدم کے فاصلے پر ڈی ایس ریلوے کے گھر کے دروازے پر کچرا ڈالا گیا، جبکہ آئی آئی چندریگر روڈ پر ریلوے دفاتر کے باہر بھی کچرا پھینکا گیااسی طرح شارع فیصل پر ڈرگ روڈ کے قریب بھی کچرا ڈالے جانے کی اطلاع ہے۔
تاحال متعلقہ حکام کو معلوم نہیں ہوسکا کہ کچرا کس نے، کب اور کیوں پھینکا۔ واقعے کے حوالے سے اب تک پولیس کو کوئی شکایت بھی درج نہیں کرائی گئی۔
واضح رہے کہ شاہراہ فیصل پر ناتھا خان پل کے ساتھ گلستان جوہر کے لیے بنائی گئی چکور نالے کی سڑک پر استرکاری کا کام جاری تھا کہ اس دوران ریلوے پولیس کے اہلکاروں اور کے ایم سی سٹی وارڈنز میں جھگڑا ہوگیا جس پر ڈائریکٹرسٹی وارڈنز نے ریلوے پولیس اہلکاروں کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کرادیا۔
مدعی صائم عمران کے مطابق ناتھاخان تا پہلوان گوٹھ سڑک کی تعمیرکاکام 4 ماہ سے جاری ہے، گزشتہ روزبھی وہاں ٹریفک مینجمنٹ کی ڈیوٹی پر موجود تھا جہاں ایس اچ اوکینٹ اسٹیشن احسن رشید پولیس اہلکاروں کے ساتھ آئے، مجھےمارا اور مجھےنامعلوم مقام پرمنتقل کیا۔
مدعی مقدمے کا کہنا ہےکہ ایس ایچ او نے پاؤں پکڑنےاور جوتا چاٹنےکے لیےکہا، میرے منع کرنے پر مجھ پر تشدد کیاگیا جس سے میں بے ہوش ہوگیا اور جب ہوش آیا تو عباسی شہید اسپتال میں موجود تھا۔




