آج کا ڈرامہ ’’اسوہ‘‘ نکاح مقدس رشتہ ہے یا ڈراموں میں چلنے والا کالج کا مذاق، تحریر: مریم ڈار
نقطہ نظر
ہمارے ڈراموں کا المیہ یہ ہے کہ معاشرتی مسائل کی عکاسی کرتے کرتے بعض اوقات وہ خود ایسے سوالات کھڑے کر دیتے ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہو جاتا ہے۔اکثر لکھاریوں کی ایک ٹیم ٹی آر پیزبڑھانے کے لیے ڈراموں میں مختلف قسم کے تجربات کرتے نظر آتے ہیں ،جیو انٹرٹینمنٹ کے ڈرامے ’’اسوہ‘‘ میں کالج کے دوستوں کی جانب سے مذاق مذاق میں اسوہ اور عیسیٰ کا زبانی نکاح کروا دینے کا خیال بھی ایسا ہی ایک تجربہ ہے ، کیا نکاح جیسا سنجیدہ معاملہ اب دوستوں کی شرارت اور تفریح کا موضوع بن کے رہ گیا ہے،اس سے پہلےملتا جلتا تصور بول کے ڈرامہ سیریل " کفارہ " میں پیش کیا گیا جس میں لڑکا کالج میں پیش کیے جانے والے ڈرامے میں ہونے والے ایکٹ کے ایک نقلی شادی کے سین میں لڑکی سے سچے نکاح نامے پر دستخط کروا لیتا ہے اور پھر وہ اس کی منکوحہ بن جاتی ہے، کالج میں پڑھنے والے نوجوان، دوستوں کی محفل، ہنسی مذاق اور ایک دوسرے کو چیلنج کرنے کا ماحول اپنی جگہ لیکن جب بات نکاح تک پہنچ جائے تو یہ محض ایک ڈرامائی چٹکلہ نہیں رہتا۔ مسلمانوں کے طرزِ زندگی کی عکاسی بن جاتا ہے۔ نکاح دو انسانوں کے تعلق، حقوق، ذمہ داریوں اور مستقبل سے جڑا معاملہ ہے۔ اسے چند جملوں کی شرارت بنا کر پیش کرنا اس کی سنجیدگی کو معمولی دکھانے کے مترادف ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ناظرین کو محظوظ کرنے کے لیے ہر مقدس رشتے کو کہانی کا کھلونا بنا دینا ضروری ہے؟
اگر دوستوں کے مذاق میں نکاح کا ذکر ہو جائے تو کیا اس سے نکاح واقع ہو جاتا ہے؟ اس کا جواب محض ڈرامے کے منظر یا کرداروں کے دعوے سے نہیں دیا جا سکتا۔ شرعی طور پر ایجاب و قبول، گواہوں اور دیگر متعلقہ شرائط کی حیثیت کو دیکھنا ضروری ہے۔ قرآنِ مجید کی آیات پڑھنا نکاح کی صحت کے لیے بذاتِ خود لازمی شرط نہیں، لیکن اس حقیقت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ نکاح کو غیر سنجیدہ کھیل سمجھ لیا جائے۔کبھی ہمسایہ ملک کے ڈراموں یا فلموں میں یہ منظر بارہا دیکھا ہے کہ ہیرو اور ہیروئن اکیلے آگ کے گرد پھیرے لگا کر شادی کر لیتے ہیں اور بس چل سو چل ۔کیا ہماری نسل بھی یہی کرنے جا رہی ہے قبول ہے ، قبول ہے ، قبول ہے ۔
یہاں ڈراما نگاروں سے سوال بنتا ہے کہ اگر کہانی کا بنیادی موڑ ایک مبینہ زبانی نکاح ہے تو کیا اس کی شرعی اور قانونی حیثیت واضح کی گئی ہے؟ کیا کرداروں اور ناظرین کو یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ نکاح محض ایک لفظی دعویٰ نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ذمہ داریاں وابستہ ہیں؟ یا پھر ایک حساس معاملے کو صرف کہانی میں سنسنی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے؟اگر عیسیٰ اور اسوہ راضی نہیں ہیں اور علیحدہ ہونا چاہتے ہیں تو کیوں عیسیٰ کا باپ ایسا نہیں چاہتا، ڈرامے کو کیوں مذہبی رنگ دیا جا رہا ہے ۔ ایسے نکاح کے نتیجے میں اسوہ کو عیسیٰ جیسا امیر مرد اور عیسیٰ کو اسوہ جیسی خوبصورت عورت کیوں ملی ؟بہرحال یہ ڈرامہ نگار کی مرضی ۔
ہمارے ہاں ڈراموں کے ذریعے نوجوان نسل تک رویے، اقدار اور تعلقات کے تصورات پہنچتے ہیں۔ ایسے میں تخلیق کاروں کو یہ فرق سمجھنا چاہیے کہ کسی غلط رویے کو کہانی میں دکھانا اور اسے غیر ارادی طور پر معمول کی بات بنا دینا دو مختلف چیزیں ہیں۔ معاشرتی مسئلے کو پیش کرنا یقیناً ڈرامے کا حق ہے، لیکن اس مسئلے کی پیچیدگی سے آنکھیں چرا لینا تخلیقی ذمہ داری سے فرار ہے۔اب جبکہ حکومتِ پاکستان کے تحت نکاح کا نادرہ میں رجسٹر کروانے کا عمل انتہائی اہم ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کورٹ میں رجسٹر ڈ میرج کا عمل بھی انتہائی پیچیدہ اور اس کے لیئے خاص وقت درکار ہے وہاں ایک ذمہ دار چینل پہ اس نوعیت کا ڈرامہ کالج سکول اور یونیورسٹیوں کے طالبات کے لیے بغیر ثبوت و قواعد کے لو میرجز کرنے کا ایک عندیہ ہے۔کیا حقیقت میں ایسی شادیوں کا انجام ایسا ہی خوبصورت ہو سکتا ہے؟ کیا یہ کہانی حقیقتاً سبق آزموز نہیں ہو سکتی تھی۔
نکاح نہ دوستوں کی شرط ہے، نہ کسی کی ہار جیت کا انعام، نہ محبت کا مذاق اڑانے کا کوئی طریقہ۔یہ ایک سنجیدہ عہد ہے، جسے محض مزاحیہ صورتِ حال بنا دینا ناظرین کے ذہن میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کا بھونڈا طریقہ ہے۔
کیونکہ ڈراما ختم ہونے کے بعد کردار اپنی دنیا میں واپس چلے جاتے ہیں، لیکن ناظرین بعض اوقات وہی تصورات اپنے ساتھ لے کر اٹھتے ہیں جو انہیں اسکرین پر دکھائے گئے ہوں۔
تفریح ضرور کیجیے، مگر مقدس رشتوں کی قیمت پر نہیں۔ کہانی میں سنسنی پیدا کیجیے، مگر حقیقت کو دھندلا کر نہیں۔ اور اگر نکاح کو اپنی کہانی کا مرکزی موڑ بنانا ہے تو اس کی سنجیدگی بھی اتنی ہی دیانت داری سے دکھائیے جتنی دلچسپی سے اس کا مذاق پیش کیا جاتا ہے۔
اسوہ کو دیکھ کر ایک ڈرامہ بہت یاد آیا نام ہے" جنون " روبینہ اشرف، ایاز نائک اس کی مین لیڈ ہیں ، 1989 میں ہی ٹی وی پر نشر ہوا تھا ،آج ہمیں ایسے ہی ڈراموں کی اشد ضرورت ہے۔




