ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

معذوری جسم میں ہوتی ہے، شخصیت میں نہیں،تحریر: ماہ نور کنول

نقطہ نظر

ہمارے معاشرے میں بعض ناانصافیاں اتنی خاموشی سے ہوتی ہیں کہ نہ ان پر کسی کا دھیان جاتا ہے اور نہ ہی انھیں ظلم تصور کیا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک ناانصافی ان افراد کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ ہے جو کسی جسمانی یا دیگر معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ افسوس کہ ہم اکثر ان کی ضروریات تو دیکھ لیتے ہیں مگر ان کی شخصیت دیکھنا بھول جاتے ہیں۔ ان کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں لیکن انھیں ایک مکمل انسان کی حیثیت سے قبول کرنے میں کہیں نہ کہیں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔

ذرا سوچیے! ایک ایسا فرد جو اپنے گھر میں سب کے ساتھ رہتا ہے، خاندان کی خوشیوں اور غموں میں شریک ہوتا ہے، اس کی بھی اپنی پسند، ناپسند، خواہشات، خواب اور رائے ہوتی ہے۔ وہ بھی چاہتا ہے کہ اس کی بات سنی جائے، اس کے فیصلوں کو اہمیت دی جائے اور اسے محض کسی کی ذمہ داری یا ترس کا مستحق نہ سمجھا جائے؛ مگر ہمارے ہاں اکثر اس کی پوری شناخت ایک لفظ میں سمیٹ دی جاتی ہے: معذور!

کیا کسی انسان کی مکمل شخصیت کو اس کے جسمانی نقص تک محدود کر دینا انصاف ہے؟ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ معذور فرد کو چلنے پھرنے، دیکھنے، سننے یا روزمرہ کے کام انجام دینے میں دشواری ہوتی ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس کے اپنے گھر والے بھی اس کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنے کے بجائے اس کی حدود کا تعین خود کرنے لگتے ہیں۔ وہ کیا کر سکتا ہے، کہاں جا سکتا ہے، کس سے مل سکتا ہے، کیا پڑھ سکتا ہے اور زندگی میں کیا بن سکتا ہے، ان تمام سوالات کے جواب اس کی جگہ دوسرے لوگ دینے لگتے ہیں۔ بعض گھروں میں معذور فرد کی رائے اس لیے نظر انداز کر دی جاتی ہے کہ وہ اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں نہیں۔ اس کی پسند کو غیر ضروری، اس کی خواہش کو بچگانہ اور اس کے خواب کو ناممکن قرار دے دیا جاتا ہے۔ کبھی محبت کے نام پر اسے ہر کام سے روک دیا جاتا ہے اور کبھی حفاظت کے نام پر اس کی آزادی محدود کر دی جاتی ہے۔ حالانکہ مدد اور اختیار چھین لینے میں بہت فرق ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض خاندان معذور فرد کی موجودگی کو اپنی سماجی زندگی کا مسئلہ سمجھنے لگتے ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات ہوں یا رشتہ داروں کی محفلیں، کبھی اسے ساتھ لے جانے سے گریز کیا جاتا ہے اور کبھی اس کی موجودگی کو دوسروں کی نظروں سے بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ گویا اس کی معذوری کوئی ایسی خامی ہے جسے چھپانا ضروری ہے۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ کسی انسان کی جسمانی کیفیت اس کے وجود کی توہین کا جواز نہیں بن سکتی؟ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ رویہ وہ ہے جب کسی معذور فرد کی ہر کامیابی کو اس کی محنت کے بجائے دوسروں کے احسان سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ وہ اگر تعلیم حاصل کرے تو کہا جاتا ہے کہ گھر والوں نے بہت سہارا دیا اگر کوئی ہنر سیکھ لے تو اسے غیر معمولی واقعہ سمجھا جاتا ہے اور اگر وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنا چاہے تو اس کی اہلیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ مدد کرنے والوں کی محبت اپنی جگہ قابلِ قدر ہے مگر کیا کسی کو سہارا دینے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی کامیابی کا حق بھی اسی سے چھین لیا جائے؟ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر معذوری ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ہر فرد کی ضروریات، صلاحیتیں اور مشکلات مختلف ہوتی ہیں۔ کسی کو روزمرہ کاموں میں مدد درکار ہو سکتی ہے، کسی کو معاون آلات کی، کسی کو قابلِ رسائی راستوں کی اور کسی کو صرف اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ لوگ اس سے بات کرتے وقت اس کی جگہ اس کے ساتھ موجود کسی دوسرے شخص کو مخاطب نہ کریں۔ کسی کی مدد کرنے سے پہلے اس سے پوچھ لینا کہ اسے کس چیز کی ضرورت ہے، احترام کی ایک بنیادی صورت ہے۔

اس مسئلے کا حل محض ہمدردی کے اظہار میں نہیں، بلکہ رویوں اور عملی سہولتوں کی تبدیلی میں ہے۔ والدین اور خاندانوں کو چاہیے کہ بچپن ہی سے معذور بچوں کی صلاحیتوں کو پہچانیں، انھیں مناسب تعلیم، تربیت اور اپنی استطاعت کے مطابق خودمختاری دیں۔ ان کے فیصلوں میں انھیں شریک کریں، ان کی رائے سنیں اور ان کی زندگی کے متعلق ہر فیصلہ ان کی موجودگی میں کرنے کی عادت اپنائیں۔ جہاں مدد ضروری ہو، وہاں مدد ضرور کریں مگر جہاں وہ خود کچھ کر سکتے ہوں وہاں ان کا راستہ نہ روکیں۔ تعلیمی اداروں، دفاتر، سرکاری عمارتوں اور عوامی مقامات پر بھی ایسی سہولتیں ہونی چاہییں جن سے معذور افراد دوسروں پر غیر ضروری انحصار کیے بغیر اپنی زندگی گزار سکیں۔ ریمپ، قابلِ رسائی واش روم، مناسب ٹرانسپورٹ، تعلیمی معاونت اور روزگار کے مساوی مواقع کوئی احسان نہیں بلکہ بنیادی ضرورتیں ہیں۔ میڈیا اور معاشرتی اداروں کو بھی معذور افراد کو صرف ترس یا متاثر کن کہانیوں کے کردار کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں، تجربات اور حقیقی مسائل کو جگہ دینی چاہیے۔ سب سے بڑھ کر ہمیں اپنے الفاظ بدلنے ہوں گے۔ کسی کو اس کی معذوری کے حوالے سے پکارنے، اس کے سامنے اس کی زندگی کو محرومیوں کی فہرست بنانے یا ہر وقت اس پر احسان جتانے سے گریز کرنا ہوگا۔ محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم کسی کے لیے ہر فیصلہ خود کریں، بلکہ یہ ہے کہ اسے اپنی زندگی میں فیصلے کرنے کا حق بھی دیں۔ یہاں ایک سوال ان تمام خاندانوں سے بھی ہے جن کے گھروں میں کوئی معذور فرد موجود ہے: کیا آپ نے کبھی اس سے پوچھا کہ وہ اپنی زندگی سے کیا چاہتا ہے؟ کیا آپ نے کبھی اس کی رائے کو محض اس لیے اہمیت دی کہ وہ بھی اس گھر کا برابر کا فرد ہے؟ کیا آپ نے اسے اپنی خوشیوں، منصوبوں اور فیصلوں میں اسی طرح شامل کیا جیسے خاندان کے دوسرے افراد کو کرتے ہیں؟ یاد رکھیے، کسی کو سہارا دینا نیکی ہے لیکن اس کی خودداری محفوظ رکھنا اس سے بھی بڑی انسانیت ہے۔ ہمیں معذور افراد کے لیے ایسی دنیا بنانے کی ضرورت ہے جہاں انھیں اپنی موجودگی ثابت نہ کرنی پڑے، جہاں ان کی صلاحیتوں کو موقع ملے اور جہاں ان کی خواہشات کو محض اس لیے مسترد نہ کیا جائے کہ ان کا جسم ہماری طے کردہ عمومی ساخت جیسا نہیں۔

آخر میں ایک بات ہم سب کو اپنے دل میں اتار لینی چاہیے: معذور فرد کو ہماری ہمدردی سے زیادہ ہمارے احترام، ہمارے ترس سے زیادہ ہمارے اعتماد اور ہمارے احسان سے زیادہ اپنے جائز حقوق کی ضرورت ہے۔ کسی انسان کی معذوری اس کی زندگی کا ایک پہلو ہو سکتی ہے، اس کی پوری پہچان نہیں۔ اسے اپنی زندگی جینے کا حق دیجیے کیوں کہ وہ کسی کی ذمہ داری بننے سے پہلے ایک مکمل انسان ہے۔