ایک متوقع بڑا عالمی بحران: پروفیسر عامر زریں
نقطہ نظر
دنیا بظاہر اپنے معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔ بازار آباد ہیں، کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں، ہوائی جہاز فضا میں محوِ پرواز ہیں اور ڈیجیٹل دنیا کے ذریعے انسان ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں ہے۔ لیکن اس بظاہر معمول کی زندگی کے پس منظر میں ایک غیر معمولی تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ برطانیہ، یورپی ممالک، جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ریاستوں میں حکومتیں اپنے شہریوں کو مشورہ دے رہی ہیں کہ وہ اپنے گھروں میں کم از کم تین دن سے ایک ہفتے تک کی بنیادی ضروریات کا ذخیرہ رکھیں۔ ان ضروریات میں خوراک، پانی، ادویات، ٹارچ، بیٹریاں، نقد رقم اور موبائل فون چارج کرنے کے لیے پاور بینک بھی شامل ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر اچانک دنیا کی بڑی حکومتوں کو اپنے شہریوں کو اس نوعیت کی ہدایات دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے؟ کیا یہ محض قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری ہے یا اس کے پس منظر میں عالمی سیاست اور سلامتی کے حوالے سے کوئی زیادہ گہری تشویش موجود ہے؟
برطانیہ کی حکومت نے اکتوبر 2026 میں اپنی شہری تیاری کی مہم Be Ready کے ذریعے تین دن کی بنیادی ضروریات گھر میں رکھنے کی اہمیت اجاگر کی ہے۔ اسی طرح یورپی یونین کی مارچ 2025 میں متعارف کرائی گئی Preparedness Union Strategy میں شہریوں کو کم از کم 72 گھنٹے تک ہنگامی حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے پر زور دیا گیا تھا۔ جاپان میں بھی قدرتی آفات کے پیش نظر تین سے سات دن کی خوراک اور پانی محفوظ رکھنے کی ہدایات پہلے سے موجود ہیں۔
ان تمام اقدامات کو محض اتفاق قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ درحقیقت جدید دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں کسی ملک کی سلامتی کا انحصار صرف اس کی فوجی طاقت یا سرحدوں کے دفاع پر نہیں رہا بلکہ اس کے بجلی، مواصلات، بینکاری، پانی اور خوراک کی ترسیل کے نظام کا محفوظ رہنا بھی قومی سلامتی کا بنیادی تقاضا بن چکا ہے۔
ایٹمی جنگ کا خدشہ اور عالمی کشیدگی
اس وقت دنیا میں روس اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی، یوکرین کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورت حال اور بڑی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹجک مقابلہ عالمی امن کے لیے مسلسل چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی اس تشویش کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ شاید حکومتوں کو کسی ممکنہ ایٹمی حملے یا بڑے عالمی تصادم کی پیشگی اطلاع مل چکی ہے، اسی لیے شہریوں کو راشن جمع کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس دعوے کی تائید میں کوئی مصدقہ سرکاری ثبوت سامنے نہیں آیا۔ ہمیں خدشات اور حقائق کے درمیان فرق قائم رکھنا ہوگا۔ ایٹمی جنگ کا خطرہ ایک حقیقی عالمی مسئلہ ضرور ہے، لیکن شہریوں کو ہنگامی تیاری کی ہدایت دینا بذاتِ خود کسی آنے والے ایٹمی حملے کا ثبوت نہیں۔
اصل خطرہ سائبر جنگ بھی ہو سکتی ہے
جدید تہذیب کا سب سے اہم مگر نسبتاً کم دکھائی دینے والا خطرہ سائبر حملے ہیں۔ آج بینکنگ، بجلی کی ترسیل، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، ہسپتالوں، پانی کی فراہمی اور خوراک کی ترسیل کے نظام بڑی حد تک ڈیجیٹل نیٹ ورکس سے منسلک ہیں۔
تصور کیجیے کہ کسی بڑے سائبر حملے کے نتیجے میں کسی ملک کا بجلی کا نظام کئی روز کے لیے متاثر ہو جائے۔ اے ٹی ایم مشینیں کام کرنا بند کر دیں، بینکنگ کی آن لائن سہولتیں معطل ہو جائیں، سپر مارکیٹوں کے ادائیگی کے نظام ناکارہ ہو جائیں اور اشیائے خورونوش کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہو جائے۔ ایسی صورت حال میں کسی بم یا میزائل کے استعمال کے بغیر بھی شہری زندگی مفلوج ہو سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج قومی سلامتی کے ماہرین سائبر سکیورٹی کو روایتی دفاعی نظام جتنی اہمیت دے رہے ہیں۔ مستقبل کی جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ڈیجیٹل نیٹ ورکس، مواصلاتی نظام اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی لڑی جا سکتی ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات
اس عالمی تشویش کا ایک اہم پہلو ماحولیاتی تبدیلی بھی ہے۔ غیر معمولی گرمی، طویل خشک سالی، شدید بارشیں، سیلاب، جنگلاتی آگ اور سمندری طوفان دنیا کے مختلف خطوں میں انسانی زندگی اور معیشت کو متاثر کر رہے ہیں۔ قدرتی آفات کے نتیجے میں سڑکیں تباہ ہو سکتی ہیں، بجلی کی فراہمی منقطع ہو سکتی ہے اور خوراک و پانی کی ترسیل کئی روز تک معطل رہ سکتی ہے۔
جاپان اس حوالے سے ایک نمایاں مثال ہے۔ زلزلوں اور سونامی کے خطرات کے باعث وہاں شہریوں کو طویل عرصے سے ہنگامی تیاری کی تربیت دی جاتی ہے۔ بڑے زلزلے کے بعد امدادی اداروں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے، اس لیے گھریلو سطح پر خوراک، پانی اور ضروری سامان کا ذخیرہ انسانی بقا کے لیے اہم بن جاتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس صورت حال کا پیغام
اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کو ان عالمی تبدیلیوں سے کیا سبق حاصل کرنا چاہیے؟ ہمارا ملک بھی توانائی کے مسائل، موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، شدید گرمی، معاشی دباؤ اور ڈیجیٹل نظام کی کمزوریوں جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں بجلی کی بندش، پانی کی قلت یا کسی غیر معمولی موسمی صورت حال کے اثرات لاکھوں افراد کی زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں بھی شہری تحفظ اور ہنگامی تیاری کے حوالے سے ایک منظم قومی حکمت عملی تشکیل دی جائے۔ تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، بلدیاتی اداروں اور مقامی انتظامیہ کو قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت دی جائے۔ ہر خاندان کو کم از کم تین سے سات دن کی بنیادی ضروریات کا مناسب انتظام رکھنے کی ترغیب دی جائے۔ پینے کا پانی، خشک خوراک، ضروری ادویات، ابتدائی طبی امداد، ٹارچ، پاور بینک اور کچھ نقد رقم ایسی چیزیں ہیں جن کی موجودگی مشکل وقت میں بڑی سہولت فراہم کر سکتی ہے۔۔وط بنانے پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
خوف نہیں، شعور اور تیاری کی ضرورت ہے
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ احتیاط اور خوف میں بنیادی فرق ہے۔ شہریوں کو غیر مصدقہ خبروں کی بنیاد پر راشن جمع کرنے، اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت پیدا کرنے یا کسی ممکنہ عالمی جنگ کے بارے میں سنسنی پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے۔ تاہم ہنگامی تیاری کو غیر ضروری سمجھنا بھی دانش مندی نہیں۔
انسانی تاریخ میں کئی ایسے واقعات گزرے ہیں جب بظاہر معمول کے حالات اچانک بڑے بحران میں تبدیل ہو گئے۔ کورونا وبا نے پوری دنیا کو دکھا دیا کہ جدید طبی سہولیات، ترقی یافتہ معیشتیں اور مضبوط ریاستیں بھی غیر متوقع حالات میں کس قدر مشکلات سے دوچار ہو سکتی ہیں۔
آج دنیا کی حکومتوں کا اپنے شہریوں کو تین دن یا ایک ہفتے کی تیاری کا مشورہ دینا دراصل ایک نئے شعور کی علامت ہے۔ یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جدید تہذیب جتنی ترقی یافتہ ہوئی ہے، اتنی ہی پیچیدہ اور باہم مربوط بھی ہو گئی ہے۔ اس کے کسی ایک اہم نظام میں خرابی پوری دنیا کو متاثر کر سکتی ہے۔
شاید آنے والے وقت میں ترقی یافتہ قوموں کی پہچان صرف ان کی بلند عمارتیں، جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط معیشتیں نہیں ہوں گی بلکہ یہ بھی ہوگا کہ وہ کسی غیر متوقع بحران کا مقابلہ کتنی دانش مندی، نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ کرتی ہیں۔
بحران کی پیش گوئی کرنا ضروری نہیں، اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا ضروری ہے۔ یہی آج کی بدلتی ہوئی دنیا کا سب سے اہم سبق ہے۔




