ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

زندگی میں معافی مانگ لیجیے، تحریر: سید آزاد گیلانی

نقطہ نظر

آج کا کالم کم اور ایک آپ بیتی کی صورت میں ایک ایسی دردناک حقیقت آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو ہمارے معاشرتی رویوں کا حصہ اور رفتہ رفتہ ہمارا وتیرہ بن چکی ہے۔ شاید یہ تحریر کسی ایک فرد یا خاندان کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں کا آئینہ ہے، جس میں ہم سب اپنا عکس دیکھ سکتے ہیں۔


گزشتہ دنوں میری بڑی ہمشیرہ راہیِ ملکِ عدم ہو گئیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔


جب مرحومہ کی طبیعت ناساز تھی تو میں اپنے نجی کام کے سلسلے میں ہری پور میں موجود تھا۔ اطلاع ملی کہ باجی جان کو ہسپتال لے جایا جا رہا ہے تو میں فوری طور پر وہاں سے راولپنڈی کے لیے روانہ ہو گیا۔ ان کی طبی حالت سے بخوبی واقف تھا اور ایک دھڑکا ہمہ وقت دل میں لگا رہتا تھا۔ دورانِ سفر ان کا خیال دل و دماغ پر اس قدر حاوی تھا کہ اردگرد کی ہر چیز غیر اہم محسوس ہو رہی تھی۔ اسی کیفیت میں نہ جانے کب خیال نے رخ بدلا اور میں اپنی ہمشیرہ کی شخصیت، ان کے مزاج اور ان کے ساتھ گزرے ہوئے زندگی کے مختلف ادوار کے بارے میں سوچنے لگا۔ ماضی کے انگنت واقعات پردۂ فکر سے ٹکراتے رہے، یادوں کے کئی دریچے کھلتے اور بند ہوتے رہے۔


میں نے بہت کچھ سوچا، بہت سے واقعات ذہن میں تازہ ہوئے، مگر حیرت انگیز طور پر کوئی منفی بات، کوئی دل آزاری یا کوئی ایسا پہلو میرے ذہن میں نہیں آیا جسے بنیاد بنا کر میں ان کی شخصیت پر کوئی منفی رائے قائم کرتا۔ تب مجھے شدت سے احساس ہوا کہ شاید ہم اپنے معاشرے میں مثبت پہلوؤں کو دیکھنے اور ان کی قدر کرنے کی صلاحیت ہی کھوتے جا رہے ہیں۔


ہماری کیفیت اس شخص جیسی ہو چکی ہے جو ایک بڑے سفید بورڈ پر بنے چھوٹے سے سیاہ نقطے کو تو فوراً دیکھ لیتا ہے، مگر اس وسیع سفید حصے پر اس کی نظر ہی نہیں جاتی۔ ہم کسی انسان کی برسوں کی محبت، خلوص، قربانیوں اور اچھائیوں کو نظرانداز کرکے اس کی کسی ایک لغزش کو موضوعِ بحث بنا لیتے ہیں۔ پھر اس ایک منفی پہلو کو اس قدر اچھالتے ہیں کہ اس کی تمام خوبیاں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔


یہ رویہ صرف سوچ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ہماری گفتگو، محفلوں اور باہمی تعلقات میں بھی نمایاں ہوتا ہے۔ ہم کسی شخص کو جانے، سمجھے اور اس کے حالات سے واقف ہوئے بغیر اس کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔ اس کی نیت پر سوال اٹھاتے ہیں، کردار کا تجزیہ کرتے ہیں اور پھر اپنی قائم کردہ رائے دوسروں تک اس انداز میں پہنچاتے ہیں جیسے ہمیں حقیقت کا مکمل علم ہو۔ یوں ایک منفی سوچ نہ صرف ہماری اپنی ذہنی تربیت کا حصہ بنتی ہے بلکہ ہم دوسروں کی ذہنی نشوونما بھی اسی طرز پر کرتے ہیں۔


المیہ یہ ہے کہ ہم زندہ لوگوں کے لیے سخت الفاظ، بدگمانیاں، غیبت اور کردار کشی کے دروازے کھلے رکھتے ہیں، مگر جیسے ہی وہ شخص بسترِ مرگ پر پہنچتا ہے یا دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، ہماری زبان پر اس کی خوبیاں، محبتیں اور قربانیاں آ جاتی ہیں۔ پھر اس کے حق میں دعائیں ہوتی ہیں، تعریفی کلمات ادا کیے جاتے ہیں، اس کی یادوں کو عقیدت سے دہرایا جاتا ہے اور بعض اوقات ہم اسی شخص کے بے جان وجود کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی سابقہ تلخیوں اور رویوں کی معافی مانگ رہے ہوتے ہیں۔


میری اس سوچ کو مزید تقویت اس وقت ملی جب مرحومہ ہمشیرہ کے آخری دیدار کے لیے، بحیثیتِ محرم، مجھے بلایا گیا۔ وہاں میں نے بعض لوگوں کو اسی کیفیت سے گزرتے دیکھا۔ کسی کی آنکھوں میں آنسو تھے، کوئی آہیں بھر رہا تھا، کوئی دعائیں مانگ رہا تھا اور کچھ لوگ ان کے پاؤں پکڑ کر اپنی سابقہ کسی دل آزاری پر معافی کے خواستگار تھے۔ ظاہر ہے، ان کی نیتوں اور دلوں کے احوال کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، جو ظاہر و باطن سے خوب واقف ہے۔ میں کسی کی نیت پر سوال نہیں اٹھا رہا، مگر اس منظر نے میرے ذہن میں ایک سوال ضرور پیدا کیا:


کیا معافی مانگنے کے لیے ہمیشہ موت کا انتظار کرنا ضروری ہے؟ کیا جس شخص سے زندگی میں دل آزاری ہوئی ہو، اس کے دنیا سے چلے جانے کے بعد معافی مانگنے سے وہ حق ادا ہو جاتا ہے؟


یہ سوال محض ایک فرد یا ایک واقعے سے متعلق نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی طرزِ عمل سے جڑا ہوا ہے۔ ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد کی اہمیت سے واقف ہیں۔ دوسروں کو ان کی ادائیگی کی تلقین بھی کرتے ہیں، محفلوں میں اخلاقیات کے درس دیتے ہیں اور اپنے علم و فہم کا اظہار بھی کرتے ہیں، لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو ہمارے قول و فعل میں واضح تضاد دکھائی دینے لگتا ہے۔


بقول علامہ محمد اقبالؒ:


’’عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی‘‘


بات صرف علم رکھنے کی نہیں، اس علم کو اپنی زندگی میں اتارنے کی ہے۔ کسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا، اس کی مجبوری کو سمجھنا اور اپنی زبان کو دوسروں کی تذلیل سے محفوظ رکھنا بھی عبادت اور اخلاق کا حصہ ہے۔ محض اچھائی کے وعظ کرنا کافی نہیں، اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ہمیں اپنے رویے کی اصلاح کرنا پڑتی ہے۔


آخر ہم دوسروں کو جج کرنے اور ان کے بارے میں فیصلے صادر کرنے میں اتنے عجلت پسند کیوں ہیں؟ ہمیں کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ ہم کسی کی نیت، خلوص یا کردار کا حتمی فیصلہ سنا دیں؟ کسی کے ظاہر سے اس کے باطن تک پہنچنے کا دعویٰ آخر کس بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟ ہمیں تو اپنی نیت اور اپنے اعمال کی فکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نیتوں کا حقیقی حال اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور ہمارے اعمال کا حساب بھی اسی کے حضور ہونا ہے۔


فرمان نبی کریم ﷺ


اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔


ہمیں دوسروں کی نیتوں کے پیمانے اٹھانے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ اپنے رویوں کا محاسبہ کرنا چاہیے، اپنی زبان کی تلخی کو پہچاننا چاہیے اور اپنے دل سے بدگمانی، حسد اور کدورت کو نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر کسی سے اختلاف ہے تو اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں، اگر کسی سے شکایت ہے تو اسے نفرت میں تبدیل نہ ہونے دیں اور اگر کسی نے آپ کا دل دکھایا ہے تو ممکن ہو تو درگزر کا راستہ اختیار کریں۔


بقول احمد فرازؔ:


’’اس کی وہ جانے اسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھا

تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے‘‘


یہی وہ طرزِ فکر ہے جس کی ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے خلوص، رواداری اور حسنِ سلوک کا مظاہرہ کرنا ہے۔ دوسروں کی اصلاح بھی کرنی ہو تو تہذیب و ادب کے دائرے میں رہ کر، نہ کہ تضحیک، تحقیر اور کردار کشی کے ذریعے۔


سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیاوی معاملات، بالخصوص حقوق العباد کے حوالے سے، اپنی ناراضگیاں اور اختلافات زندگی ہی میں دور کر لینے چاہییں۔ کسی کا حق دبایا ہے تو واپس کیجیے، کسی کا دل دکھایا ہے تو معافی مانگیے، کسی سے زیادتی ہوئی ہے تو اعتراف کیجیے۔ معافی مانگنے سے انسان چھوٹا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا ظرف بڑا ہوتا ہے۔ البتہ یہ بھی یاد رہے کہ معافی صرف الفاظ کا نام نہیں، جہاں کسی کا حق مارا گیا ہو وہاں حق کی واپسی بھی ضروری ہے۔


موت کسی کو مہلت دے کر نہیں آتی۔ آج ہمارے پاس ایک دوسرے سے بات کرنے، ناراضگی دور کرنے، معافی مانگنے اور محبت کا اظہار کرنے کا موقع ہے تو اسے کل پر مت چھوڑیں۔ کیونکہ جب سانسوں کی ڈوری ٹوٹ جاتی ہے تو بہت سے معاملات ہمیشہ کے لیے ہمارے اختیار سے نکل جاتے ہیں۔ پھر ہمارے پاس صرف یادیں، پچھتاوے اور دعائیں رہ جاتی ہیں۔


اس لیے کسی کے جانے کا انتظار مت کیجیے۔ جس سے معافی مانگنی ہے، زندگی میں مانگ لیجیے، جسے معاف کرنا ہے، زندگی میں کر دیجیے اور جس سے محبت ہے، اسے اس کے جیتے جی احساس دلا دیجیے۔ کیونکہ موت کے بعد پڑھے جانے والے قصیدوں سے بہتر ہے کہ زندگی میں دو بول محبت کے کہہ دیے جائیں۔