احتجاج، ہمارا قومی مشغلہ،تحریر: انیلہ افضال ایڈووکیٹ
نقطہ نظر
اقوام عالم نے دنیا کے ہر انسان کے لئے کچھ بنیادی حقوق تسلیم کئے ہیں۔ روٹی ، کپڑا اور مکان تو غالباً سب ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں؛ جبکہ پرائیویسی کا حق آج کل ٹاپ آف دی لسٹ قرار پایا ہے؛ لیکن ایک حق ایسا بھی ہے جس پر زیادہ بات تو شاید نہیں ہوتی مگر اس کا استعمال ہر جگہ اور ہر وقت کیا جا سکتا ہے؛ اور وہ ہے: احتجاج کا حق۔ احتجاج انسانی زندگی کا وہ لازمی جزو ہے جس کے بغیر شاید دنیا کی رونقیں بھی پھیکی پڑ جائیں۔ انسان جب سے پیدا ہوا ہے، کسی نہ کسی بات پر ناراض ضرور رہا ہے۔ بچہ دودھ کے لیے روتا ہے، طالب علم چھٹی کے لیے دعائیں کرتا ہے، ملازم تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کرتا ہے اور سیاست دان اقتدار سے باہر ہو تو اسے اچانک عوام کے تمام مسائل یاد آ جاتے ہیں۔ گویا احتجاج انسانی فطرت میں اسی طرح شامل ہے جیسے چائے میں چینی اور پاکستانی سیاست میں وعدے۔
احتجاج کسی ناانصافی، اختلاف یا ناپسندیدہ صورتِ حال کے خلاف آواز اٹھانے کا نام ہے۔ البتہ ہمارے معاشرے میں اس کی تعریف کافی وسیع ہے؛ اور استعمال لامحدود ۔ یہاں کبھی ایک گلاس پانی نہ ملنے پر احتجاج شروع ہوتا ہے اور کبھی پورا ملک کسی ایسے مسئلے پر تقسیم ہو جاتا ہے جس کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے دو منٹ کی تحقیق بھی کافی ہوتی ہے۔
احتجاج کی تاریخ بھی خاصی دلچسپ ہے اور اس صورتحال کافی حیرت انگیز ہے۔ احتجاج کی سب سے عام قسم "گھریلو احتجاج“ ہے۔ گھریلو احتجاج وہ پہلی تربیت ہے جس سے انسان عملی زندگی میں قدم رکھنے سے پہلے ہی گزر جاتا ہے۔ بچپن میں کھلونا نہ ملے تو بچہ رونا شروع کر دیتا ہے۔ اسکول جانےکے وقت پر اسے اچانک بخار، سر درد اور کمر میں درد کی ایسی علامات محسوس ہونے لگتی ہیں جن کا ذکر کسی طبی کتاب میں بھی نہیں ملتا۔ جوانی میں احتجاج کا معیار بدل جاتا ہے۔ اب مطالبہ موبائل فون، موٹر سائیکل یا دوستوں کے ساتھ باہر جانے کی اجازت کا ہوتا ہے۔ شادی کے بعد گھریلو احتجاج مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ گھریلو احتجاج کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں عدالت، تھانے اور اسمبلی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ فیصلہ بھی گھر میں ہوتا ہے اور سزا بھی؛ مزید یہ کہ اپیل کا حق بھی حاصل نہیں ہوتا۔
اس کے بعد شروع ہوتا ہے 'خاموش احتجاج“. خاموش احتجاج میں زبان بند اور چہرہ کھلا ہوتا ہے۔ اس میں نہ بینر کی ضرورت ہے، نہ لاؤڈ اسپیکر کی۔ ایک ابرو کا ذرا سا اٹھنا بعض اوقات مکمل تقریر سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ دفتر میں باس آپ کی محنت کا کریڈٹ خود لے جائے تو آپ خاموش احتجاج کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اس احتجاج کی اصل مہارت گھروں میں نظر آتی ہے۔ کوئی پوچھے، ’’کیا ہوا؟‘‘ جواب ملتا ہے، ’’کچھ نہیں۔‘‘ پھر پوچھا جائے، ’’ناراض ہیں؟‘‘ تو فرمایا جاتا ہے، ’’بالکل نہیں!‘‘
اب سامنے والا بے چارہ سوچتا رہ جاتا ہے کہ اگر کچھ نہیں ہوا تو ماحول ایسا کیوں ہے جیسے گھر میں قومی ایمرجنسی نافذ ہو گئی ہو۔ اوووووپس!!!
خاموش احتجاج کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس میں مطالبات واضح نہیں ہوتے۔ احتجاج کرنے والا چاہتا ہے کہ دوسرا خود ہی سب کچھ سمجھ جائے اور دوسرے کی سمجھ میں ککھ نہیں آتا۔
خاموش احتجاج کے بعد سب سے زیادہ زور دار احتجاج، سوشل میڈیا احتجاج کی صورت سامنے آتا ہے۔ ایک ایسا احتجاج اور ایک ایسا انقلاب جو محض انگلیوں کی حرکت سے معرض وجود میں آ جاتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے احتجاج کے لیے سڑکوں کے علاوہ ایک نیا میدان فراہم کیا ہے۔ اب کسی مسئلے پر ناراضی ظاہر کرنے کے لیے گھر سے نکلنا ضروری نہیں۔ ایک موبائل فون، انٹرنیٹ اور غصے سے بھرپور چند جملے کافی ہیں۔ اس احتجاج میں ہیش ٹیگ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ کوئی ہیش ٹیگ مقبول ہو جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انقلاب نے اپنا شناختی کارڈ بنوا لیا ہو اور بس روانگی کی تیاری کر رہا ہو۔ لیکن اگلے دن کوئی نیا موضوع سامنے آ جاتا ہے اور گزشتہ روز کا انقلاب موبائل کی اسکرین میں تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ سوشل میڈیا احتجاج کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مسائل کو نمایاں کرنے اور لوگوں کو منظم کرنے میں مدد دیتا ہے، مگر صرف پوسٹ شیئر کرنے سے ہر مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ورنہ اب تک دنیا کے تمام مسائل لائکس اور کمنٹس کی مدد سے حل ہو چکے ہوتے۔
مسائل کے ذکر سے سیاست ذہن میں آتی ہے۔ سیاست میں وعدے اور نعرے، دونوں ہی بڑے جذباتی ہوتے ہیں۔ اور اگر اس میدان میں کبھی احتجاج کی ضرورت پڑ جائے تو پھر تو بات شغل میلے سے آگے پڑھ جاتی ہے۔ سیاسی احتجاج وہ میدان ہے جہاں الفاظ کی قیمت کبھی بہت بڑھ جاتی ہے اور کبھی اچانک گر جاتی ہے۔ سیاست میں ہر جماعت اپنے احتجاج کو عوامی خدمت اور مخالف جماعت کے احتجاج کو قومی نقصان قرار دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جب کوئی جماعت اقتدار میں ہوتی ہے تو اسے ملک میں استحکام، ترقی اور خوش حالی کا دور دورہ نظر آتا ہے؛ لیکن جیسے ہی وہ اپوزیشن میں آتی ہے، اسے معلوم ہوتا ہے کہ ملک تو کئی برسوں سے سنگین بحرانوں کا شکار تھا۔ عوام بے چارے حیران پریشان!! کہ یہ انکشاف اقتدار کے دوران کیوں نہ ہوا۔
جلسوں میں تقاریر کا جوش دیدنی ہوتا ہے۔ مقرر کی آواز بلند ہوتی ہے، سامعین کے جذبات گرم ہوتے ہیں اور نعروں سے فضا گونج اٹھتی ہے۔ ہر مسئلے کا حل فوری طور پر پیش کیا جاتا ہے، گویا مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی کے بل کسی فائل میں بند ہیں جسے صرف ایک تقریر سے کھولا جا سکتا ہے۔ سیاسی احتجاج میں وعدے بھی اپنی اہمیت رکھتے ہیں۔ کبھی نئے دور کی نوید سنائی جاتی ہے اور کبھی نظام بدلنے کا اعلان ہوتا ہے۔ عوام سوچتے ہیں کہ شاید اس مرتبہ واقعی کچھ بدل جائے گا۔ پھر وہی روزمرہ کے مسائل سامنے آتے ہیں اور امیدیں اگلے جلسے تک محفوظ کر دی جاتی ہیں۔ تاہم سیاسی احتجاج جمہوری معاشرے کا اہم حصہ ہے۔ اس کے ذریعے عوام اپنے مسائل سامنے لاتے اور حکمرانوں سے جواب طلب کرتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ احتجاج کا مقصد عوامی مفاد ہو، نہ کہ محض کرسی کی تبدیلی۔
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ سیاست صرف سڑکوں اور ایوانوں میں ہی نہیں ہوتی، دفاتر بھی اس سے محفوظ نہیں۔ جہاں سیاست ہے وہاں احتجاج بھی لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتا ہے۔ دفتری زندگی میں احتجاج کا بنیادی مرکز عموماً تنخواہ، اوقاتِ کار، چھٹیاں اور ترقی کے امکانات ہوتے ہیں۔ ملازم سمجھتا ہے کہ وہ ادارے کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جبکہ ادارے کو لگتا ہے کہ وہ خود ایک بنیادی ڈھانچہ ہے۔ اکثر جب تنخواہ میں اضافہ نہ ہو تو ملازمین چائے کے وقفے میں ایک غیر رسمی اجلاس منعقد کرتے ہیں۔ سب اس بات پر متفق ہوتے ہیں کہ اب خاموش رہنا ممکن نہیں۔ پھر ایک تجربہ کار ملازم مشورہ دیتا ہے کہ پہلے باس کا مزاج دیکھ لیا جائے۔ یوں انقلابی تحریک کا پہلا مرحلہ چائے کے دوسرے کپ تک ملتوی ہو جاتا ہے۔
دفتری احتجاج کی ایک قسم اضافی کام کے خلاف شکایت ہے۔ ملازم کہتا ہے، ’’سر، یہ کام میرے فرائض میں شامل نہیں۔‘‘ باس مسکرا کر جواب دیتا ہے، ’’آپ ہماری ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔‘‘ ملازم فوراً سمجھ جاتا ہے کہ اسے اہمیت دینے کا اصل مقصد ایک اور کام سونپنا ہے۔ اس احتجاج کی دلچسپ بات یہ ہے کہ ملازمین اپنے حقوق سے واقف ہوتے ہیں، لیکن ملازمت جانے کا خیال انہیں محتاط رکھتا ہے۔ چنانچہ وہ کبھی اجتماعی درخواست دیتے ہیں، کبھی انتظامیہ سے مذاکرات کرتے ہیں اور کبھی گھر آ کر اہلِ خانہ کے سامنے ایسی تقریر کرتے ہیں جیسے دفتر کی پوری انتظامیہ سامعین میں بیٹھی ہو۔
تنخواہوں میں اضافے کی خواہش کے پیچھے جو طاقت کار فرما ہوتی ہے اسے مہنگائی کا نام دیا جاتا ہے۔ مہنگائی ایسا مسئلہ ہے جس کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے کسی سیاسی جماعت کی رکنیت ضروری نہیں۔ اس کے لیے صرف بازار کا ایک چکر کافی ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ گھر کا سربراہ بازار سے واپس آ کر بتاتا تھا کہ کتنی چیزیں خرید کر لایا ہے۔ اب واپسی پر زیادہ اہم خبر یہ ہوتی ہے کہ کتنی چیزیں خریدنے کا ارادہ ترک کرنا پڑا۔
دکاندار سے قیمت پوچھی جائے تو پہلے حیرت ہوتی ہے، پھر خاموشی اور آخر میں ایک مختصر سا جملہ نکلتا ہے، ’’اچھا، رہنے دیں!‘‘ بعض اوقات خریدار چیز خریدنے کے بجائے صرف اس کی قیمت معلوم کر کے گھر والوں کو رپورٹ پیش کرنے پر اکتفا کرتا ہے۔
مہنگائی کے خلاف گھریلو بجٹ ایک دلچسپ دستاویز بن جاتا ہے۔ اس میں خواہشات کی فہرست طویل اور آمدنی کا خانہ مختصر ہوتا ہے۔ گھر والے مشورہ دیتے ہیں کہ غیر ضروری اخراجات کم کیے جائیں، مگر بجلی کا بل، بچوں کی فیس اور روزمرہ کی ضروریات اس مشورے کو سن کر بھی اپنی جگہ قائم رہتی ہیں۔
اس احتجاج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہر شہری اس مسئلے سے متاثر ہوتا ہے، مگر اس کے حل کے لیے اجتماعی کوشش اور مؤثر معاشی اقدامات درکار ہوتے ہیں۔ صرف بازار میں قیمتیں سن کر افسوس کرنے سے دال سستی نہیں ہوتی، البتہ افسوس کی مقدار روز بروز بڑھتی رہتی ہے۔
اور اس سب کے بعد ایک ہی صورت بچتی ہے اور وہ ہے علامتی احتجاج: یہ احتجاج عموماً کسی مسئلے کی طرف توجہ دلانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس میں شمعیں روشن کی جاتی ہیں، سیاہ پٹیاں باندھی جاتی ہیں؛ یا کسی خاص دن خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس کی ایک دلچسپ شکل تقریبات کے دوران نظر آتی ہے۔ ماحول کی صفائی کے لیے مہم منعقد ہوتی ہے، تقاریر کی جاتی ہیں، تصاویر بنائی جاتی ہیں اور شرکا کو صفائی کی اہمیت سمجھائی جاتی ہے۔ تقریب ختم ہونے پر جگہ پر پلاسٹک کے کپ اور کاغذ بکھرے رہ جاتے ہیں۔ درخت لگانے کی تقریب میں پودا لگانے کے بعد تصویر ضرور بن جاتی ہے، لیکن اس کے بعد پانی دینے کی ذمہ داری کس کی ہے، اس پر اکثر کوئی اجلاس نہیں ہوتا۔ چند ہفتے بعد پودا چاہے خشک ہو جائے، تصویر البتہ محفوظ رہتی ہے۔
اس سے اہم اور سب سے کم منعقد کیا جانے والا احتجاج، اخلاقی احتجاج ہے۔ یہ اس وقت سامنے آتا ہے جب کوئی شخص ناانصافی، بدعنوانی، جھوٹ یا کسی غلط عمل کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ یہ احتجاج معاشرتی اصلاح کے لیے اہم ہے، کیونکہ بہت سی غلطیاں اس وقت تک جاری رہتی ہیں جب تک کوئی انہیں غلط کہنے کی ہمت نہیں کرتا؛ تاہم ہمارے ہاں ایک مسئلہ یہ ہے کہ دوسروں کی غلطی فوراً دکھائی دیتی ہے، اپنی غلطی کے لیے دلیل تلاش کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ کوئی شخص قطار توڑ دے تو ہم اسے قانون اور تہذیب کا سبق پڑھاتے ہیں، لیکن ہمیں جلدی ہو تو یہی قطار اچانک غیر ضروری محسوس ہونے لگتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ٹریفک قوانین کی پابندی کریں، مگر خود سرخ بتی پر رکنے سے پہلے اردگرد کا جائزہ ضرور لیتے ہیں۔
اخلاقی احتجاج کی اصل طاقت یہ ہے کہ احتجاج کرنے والا خود بھی ان اصولوں پر عمل کرے جن کا مطالبہ وہ دوسروں سے کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسے گریبان میں جھانکنا کہتے ہیں۔
آخر میں یہی کہیں گے کہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ احتجاج کا مقصد صرف ناراضی کا اظہار نہیں بلکہ بہتری کی راہ ہموار کرنا بھی ہے۔ اگر ہم اپنی توانائی کا کچھ حصہ مسئلے کی نشاندہی کے ساتھ اس کے حل پر بھی صرف کریں تو شاید کئی مسائل احتجاج کی نوبت آنے سے پہلے ہی حل ہو جائیں۔




