پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

آخر مجھے نوکری مل گئی، تحریر: انیم چوہدری

نقطہ نظر

اس وقت دنیا بھر میں واٹس ایپ کے 3 ارب سے زائد فعال صارفین موجود ہیں، اور اس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ یہ دنیا کے مقبول ترین اور تیز ترین مواصلاتی ذرائع میں سے ایک ہے۔ اس عظیم ایپلیکیشن کے موجد جین کوم ہیں۔ جین کوم یوکرین کے ایک غریب یہودی خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کا بچپن انتہائی کسمپرسی میں گزرا؛ ان کے گھر میں نہ بجلی تھی، نہ گیس اور نہ ہی پانی۔ گرمیوں کا موسم تو جیسے تیسے گزر جاتا، لیکن سردیاں ان کے لیے عذابِ بن جاتیں کیونکہ وہ موسمِ سرما اپنے ہمسائے کے فارم ہاؤس میں بھیڑوں کے ساتھ گزارنے اور بھیڑوں سے لپٹ کر سونے پر مجبور تھے۔ غربت کی انتہا یہ تھی کہ ان کے پاس سردیوں میں اوڑھنے کے لیے ایک کمبل تک نہیں تھا۔ اس غربت میں مزید ستم یہ ہوا کہ 1992 میں یوکرین میں یہودیوں پر مشکلات اور ظلم کا آغاز ہوگیا۔ والدین نے نقل مکانی کا فیصلہ کیا، تاہم والد نے جانے سے انکار کر دیا۔ ماں نے بیٹے کا ہاتھ تھاما اور وہ ہجرت کر کے امریکہ چلی گئیں، جہاں کیلیفورنیا ان کا نیا دیس بنا۔

امریکہ پہنچنے کے بعد ان کے پاس نہ چھت تھی، نہ کوئی روزگار اور نہ ہی کھانے پینے کی اشیاء۔ ماں بیٹا اب مکمل طور پر خیرات پر زندگی گزار رہے تھے۔ امریکہ میں فوڈ سٹمپ کے نام سے ایک فلاحی نظام ہے، جس کے تحت حکومت انتہائی غریب افراد کو خوراک خریدنے کے لیے امدادی واؤچر دیتی ہے۔ یہ لوگ اتنی مجبوری کے عالم میں تھے کہ دو وقت کی روٹی اور زندگی بچانے کے لیے انہیں یہ خیرات لینا پڑتی تھی۔

اس غربت کے گرداب سے نکلنے کے لیے جین کوم کے پاس صرف ایک ہی راستہ تھا — تعلیم کا حصول۔ وہ دل لگا کر پڑھنے لگا، لیکن وقت کے ساتھ تعلیم کے اخراجات بڑھتے گئے اور فوڈ سٹمپ پر گزارا مشکل ہو گیا۔ اس مجبوری کے تحت جین کوم نے ایک سٹور پر خاکروب کی نوکری شروع کر دی، جہاں وہ گھنٹوں صفائی کرتا اور باتھ رومز تک صاف کرتا رہا۔ اٹھارہ سال کی عمر میں جین کوم کو کمپیوٹر پروگرامنگ کا جنون سوار ہوا، جو اسے یونیورسٹی لے گیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نے معروف ٹیکنالوجی کمپنی یاہو (Yahoo) میں ملازمت حاصل کر لی اور دو سال تک وہاں کام کیا۔

اس دوران 2004 میں فیس بک کا آغاز ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ دنیا کی مقبول ترین سوشل سائیٹ بن گئی۔ 2007 میں جین کوم نے فیس بک میں نوکری کے لیے درخواست دی، لیکن فیس بک انتظامیہ نے اسے مسترد  کر دیا کیونکہ انہیں جین کوم میں کوئی خاص مہارت یا صلاحیت نظر نہیں آئی۔ وہ مزید دو سال یاہو میں کام کرتا رہا۔ اس کی غربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ایک آئی فون خریدنا چاہتا تھا لیکن اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔ آئی فون خریدنے کے لیے اس نے دوپہر کا کھانا بند کر کے پیسے بچانا شروع کیے، اور بالاخر کچھ عرصے بعد اس نے آئی فون خرید  لیا — یہی آئی فون آگے چل کر اس کے لیے سونے کی کان ثابت ہوا۔ فون استعمال کرتے کرتے جین کوم کے ذہن میں ایک انوکھا خیال آیا کہ کیوں نہ ایک ایسی ایپلیکیشن بنائی جائے جو روایتی ایس ایم ایس کا بہترین متبادل ہو، جس کے ذریعے پیغامات کے ساتھ ساتھ تصاویر اور فائلیں بھی باسانی محفوظ طریقے سے منتقل کی جا سکیں اور جو مکمل طور پر ہیک پروف ہو۔اس نے اپنے اس ارادے کا ذکر اپنے دوست برین اوکٹین  سے کیا، جس نے خوشی سے ہاں کر دی۔ دونوں دوستوں نے اس منصوبے پر دن رات دو سال تک محنت کی۔ابتدائی دن آسان نہیں تھے۔ ایپ میں تکنیکی مسائل پیدا ہوتے تھے، صارفین کی تعداد محدود تھی اور کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔ ایک موقع پر جین کوم نے یہ منصوبہ چھوڑنے کے بارے میں بھی سوچا۔ لیکن برائن ایکٹن نے اس کا ساتھ دیا۔ دونوں نے اپنی غلطیوں سے سیکھا، ایپ کو بہتر بنایا اور اسے لوگوں کی حقیقی ضرورت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش جاری رکھی۔ ان کی یہ دو سالہ محنت رنگ لائی اور وہ ایک جادوئی ایپ بنانے میں کامیاب ہو گئے، جو فروری 2009 میں لانچ ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے لگی۔ واٹس ایپ کی اس بے مثال کامیابی کے بعد دنیا بھر کی بڑی کمپنیاں اسے خریدنے کی دوڑ میں شامل ہو گئیں، لیکن جین کوم ہر بار انکار کرتا رہا۔ فروری 2014 میں جب فیس بک نے واٹس ایپ کو خریدنے کی پیشکش کی اور اس کے بانی سے رابطہ کیا، تو جین کوم کی ہنسی نکل گئی۔ اس نے قہقہے لگاتے ہوئے کہا: "یہ وہی ادارہ ہے جس نے 2007 میں مجھے نوکری دینے سے انکار کر دیا تھا" اسی ہنسی کے دوران اس نے فیس بک کی تاریخی پیشکش قبول کر لی۔ فروری 2014 کو فیس بک نے واٹس ایپ کو خریدنے کے معاہدے کا اعلان کیا۔ معاہدے کی بنیادی قیمت تقریباً 16 ارب ڈالر تھی، جس میں نقد رقم اور فیس بک کے حصص شامل تھے۔ مزید تین ارب ڈالر کے محدود اسٹاک یونٹس بھی معاہدے کا حصہ تھے، یوں مجموعی معروف قیمت تقریباً 19 ارب ڈالر بنتی تھی۔ جب اکتوبر 2014 میں یہ حصول مکمل ہوا تو فیس بک کے حصص کی قیمت میں اضافے کے باعث اس کی مالیت تقریباً 21.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس بڑی رقم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت پاکستان کے کل زرمبادلہ کے ذخائر 26.79 بلین ڈالر ہیں، جبکہ جین کوم نے اکیلی ایک ایپ اتنی بڑی قیمت میں فروخت کی تھی۔ جین کوم نے فیس بک کے ساتھ ڈیل میں ایک شرط رکھی کہ وہ اس معاہدے پر فیس بک کے دفاتر میں نہیں بلکہ اسی خیراتی ادارے کے ویٹنگ روم میں بیٹھ کر دستخط کرے گا جہاں وہ بچپن میں فوڈ سٹمپ کے لیے لائنوں میں لگتے تھے۔ فیس بک انتظامیہ کے لیے یہ ایک عجیب اور غیر معمولی شرط تھی اور وہ مہینے بھر اسے قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن جین کوم اپنے فیصلے پر چٹان کی طرح ڈاٹا رہا۔ بالآخر فیس بک کو اس کی شرط ماننا پڑی۔ مقررہ تاریخ اور وقت پر فیس بک کی اعلیٰ انتظامیہ فوڈ سٹمپ دینے والے اس فلاحی مرکز کے ویٹنگ روم میں پہنچی۔ وہاں جین کوم ویٹنگ روم کے آخری کونے کی آخری سیڑھی پر بیٹھا زار و قطار رو رہا تھا۔اس کی یہ کیفیت دیکھ کر سب حیران تھے؛ دراصل یہ وہی کونہ تھا جہاں وہ اور اس کی ماں گھنٹوں فوڈ سٹمپ کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اس ویٹنگ روم میں بیٹھنا جتنا تکلیف دہ تھا، اس سے بھی زیادہ اذیت ناک وہ خاتون تھی جو کھڑکی پر بیٹھ کر ہر بار ان کی طرف نفرت سے دیکھتی، طنزیہ مسکراتی اور کہتی:  "تم لوگ کب تک خیرات لیتے رہو گے؟ کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟" یہ طعنے ماں اور بیٹے کے دل پر تیر کی طرح پیوست ہوتے تھے، مگر وہ خاموشی کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ آج کامیابی کی منزل پر پہنچ کر جین کوم نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی کا جشن اسی مقام پر منانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے 19 ارب ڈالر کی ڈیل کے کاغذات پر وہیں، فوڈ سٹمپ کے انتظار میں بیٹھے غریب لوگوں کے درمیان بیٹھ کر دستخط کیے۔ اس کے بعد وہ اٹھا، سیدھا کاؤنٹر پر گیا جہاں وہی خاتون بیٹھی تھی۔ جین کوم نے 19 ارب ڈالر کا چیک اس کے سامنے رکھا، مسکرا کر کہا:

"آخر مجھے نوکری مل گئی"

اور پھر اپنی آنکھیں صاف کرتا ہوا فخر کے ساتھ اس سینٹر سے باہر نکل گیا۔