جیسے آنسوؤں کا اور رونے کا ازلی ساتھ ہے، اسی طرح ہمارا اور آنسوؤں کا ابدی رشتہ ہے۔ جب ہم پیدا ہوئے تو روتے ہوئے۔ جب دنیا سے جائیں گے تو بھی روتے ہوئے۔ دنیا کی زندگی میں لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے ہمارے آنسو بہت سے مواقع پر نکلتے ہیں۔ مثلا:
خوشی کے آنسو۔
غم کے آنسو۔
شدتِ جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے آنسو۔
کبھی یہ آنسو مسرت سے نکلتے ہیں اور دل شاد ہو جاتا ہے تو کبھی یہ آنسو دکھ سے نکلتے ہیں اور دل ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے۔ کبھی یہ آنسو جدائی کے ترجمان ہوتے ہیں تو کبھی تنہائیوں کے ساتھی۔ آنسو جلوہِ یار کی جھلک کے امین بھی ہیں اور خلوتوں کے بہترین ہمدرد بھی۔ جب ہمارے ساتھ کسی کا ساتھ نہیں ہوتا تب یہ آنسو ہمارے ساتھ ہوتے ہیں۔ ہمیں ملنے والے تمام ساتھ میں سے واحد آنسو ہیں جو کبھی بے وفائی نہیں کرتے اور کسی موقعے پر تنہا نہیں چھوڑتے۔
لیکن! کبھی کبھی یہ آنسو نکلتے ہیں، جب دل اندر تک درد سے کراہتا ہے۔
کبھی آنسو بہتے ہیں، جب زندگی کے سامنے ہم بے بس ہو جاتے ہیں۔
کبھی، آنسو بہتے ہیں جب الفاظ ختم ہو جائیں۔ جب روح تنہائیوں کے خنجر سے چھلنی ہو جائے۔ جب نہ کھونے والے بھی کھو جائیں۔ جب یادوں کی کرچیاں چبھیں۔ جب زندگی ہی زندگی کا ساتھ چھوڑ دے۔ جب ہم خود کو خود کے پیچھے کھو دیں اور ہاں سب سے بڑھ کر کبھی آنسو نکلتے ہیں ”خوفِ خدا“ سے۔
بھرم سے، محبت سے۔
عزیزانِ من!
سب سے قیمتی آنسو وہی ہیں جو خوفِ خدا سے، اس کی محبت میں نکلیں اور اوج ثریا تک پہنچا دیں۔ بہترین ہیں وہ آنسو جو آپ کے لیے کسی کی آنکھ میں ہوں اور بدترین ہیں وہ آنسو جو آپ کی وجہ سے کسی اور کی آنکھوں میں ہوں۔
کبھی سوچا...!
کیا ہیں آنسو..؟
کسے کہتے ہیں آنسو..؟
کہاں ہوتے ہیں آنسو..؟
کیا آنسو بھیگی پلکوں کا نام ہے..؟
کیا آنسو برستی آنکھوں کا نام ہے..؟
کیا آنسو چھلکتے نین کا نام ہے..؟
نہیں! عزیزِ من نہیں!
یہ سب باتیں تو شاعری میں ہی اچھی لگتی ہیں، جہاں شاعر لوگ اپنی شاعری کی رو بڑھانے اور الفاظ میں چمک پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
کیا آنسو سرخ ہوتی آنکھوں کا نام ہے؟
نہیں آنکھیں تو بیماری اور خمار سے بھی سرخ ہو جاتی ہیں۔
آنسو آنکھوں سے گرتے ہوئے پانی کا نام بھی نہیں کیوں کہ، آنکھ سے نکلنے والا ہر پانی کا قطرہ آنسو نہیں ہوتا۔
آنسو بارش کی طرح برسانے کی چیز بھی نہیں۔
آنسو تو بہت قیمتی اور نایاب قسم کی شئے کا نام ہے۔
آنسو نام ہے محبت کا۔
آنسو نام ہے چاہت کا۔
آنسو نام ہے وفا کا۔
آنسو نام ہے عطا کا۔
آنسو نام ہے حسن کا۔
آنسو نام ہے طلب کا، تڑپ کا۔
آنسو نام ہے جمال کا، کمال کا۔
آنسو نام ہے نعمتِ لازوال کا۔
یہ تو خدا کی عطا ہے جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ یہ دولت مقدر والوں کو ملتی ہے۔ یہ تو انھیں نصیب ہوتے ہیں جن کے سینے اخلاص سے پر ہوں۔ جن کے دل عشق سے لبریز ہوں۔ جن کے باطن پر محبت غالب ہو۔ جن کی روح پر چاہت چھائی ہو۔
جس کے پاس خلوص کی نعمت نہ ہو، دولتِ عشق نہ ہو، بلندیِ ظرف نہ ہو، محبت کی مٹھاس نہ ہو؛ لہجے میں گداز نہ ہو، آہ میں سرور نہ ہو، اس کے آنسو بھی کوئی آنسو ہیں بھلا؟ وہ تو پانی کے قطرے ہیں جو ہر شئے سے عاری اور خالی ہیں۔
آنسو تو اتنے قیمتی ہیں کہ بندہ مومن کی آنکھ سے نکلا ایک آنسو کا قطرہ... جی ہاں قطرہ؛ پورا آنسو نہیں، صرف ایک قطرہ... سات جہنموں کی آگ پر بھاری ہوتا ہے۔
یہ آنسو کا ایک قطرہ جنت کے حسن میں اضافے کا سبب ہے۔ یہ ایک قطرہ غضب الہی کو بجھا کر رکھ دیتا ہے۔ یہ ایک قطرہ جو اتنا قیمتی ہے اسے قیمتی ہی رہنے دیجیے۔ یہ ہر کسی کے سامنے اور ہر کسی کے لیے مت بہائیے..! انھیں اس کی قدر کا کیا اندازہ؟
یہ آنسو وہاں بہانے چاہئیں جہاں قیمت لگے اور وہ ایک ہی دربار ہے! جسے اللہ کا دربار کہتے ہیں۔
بس ایک بار چاہت سے، خلوص سے، پیار سے، محبت سے اور عشقِ الہٰی میں تڑپ کر اس کے سامنے آنسو بہا کر تو دیکھیے...!
”وہ انمول نہ کر دے تو کہنا۔“
ختم شد!
مزید پڑھیں




