بدھ، 21 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

عدم برداشت کا عذاب،تحریر: راؤ شہزاد امین

نقطہ نظر

کسی معاشرے کی تباہی ہمیشہ جنگوں، معاشی بحرانوں یا بڑے جرائم سے نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی انسان کے اندر سے احساس، برداشت اور انسانیت کا ختم ہو جانا بھی پورے معاشرے کو بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کرتا ہے۔ جب معمولی اختلاف انا کا مسئلہ بن جائے، غصہ عقل پر غالب آ جائے اور کسی دوسرے انسان کی زندگی چند لمحوں کی ضد کے سامنے بے وقعت محسوس ہونے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم ترقی نہیں، بلکہ اخلاقی زوال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

ملتان میں پیش آنے والا ایک افسوس ناک واقعہ ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، پندرہ سالہ وسیم عباس، جو مبینہ طور پر ایک یتیم خانے میں رہتا تھا اور الیکٹریشن کا کام سیکھ رہا تھا، ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں گاڑی کی ٹکر سے جان کی بازی ہار گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، لڑکا کام کی جگہ سے بھاگتا ہوا دکھائی دیا، جبکہ ایک گاڑی اس کا تعاقب کرتی نظر آئی۔ واقعے کے بعد ٹھیکیدار توقیر نذیر کی گرفتاری اور قتل کا مقدمہ درج کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ملزم سے منسوب بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ بچے کو روکنا چاہتا تھا، تاہم گاڑی بے قابو ہو گئی۔ واقعے کی اصل حقیقت اور ذمہ داری کا حتمی تعین تحقیقات اور عدالتی کارروائی ہی سے ممکن ہے۔

اس واقعے نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایک پندرہ سالہ بچے کی زندگی ابھی شروع ہی ہوئی تھی۔ اس نے مستقبل میں اپنے لیے کوئی مقام بنانا تھا، اس کی آنکھوں میں بھی خواب ہوں گے، مگر وہ آج ہم میں موجود نہیں۔ اگر کسی اختلاف، نافرمانی، کام چھوڑ کر چلے جانے یا کسی غلطی پر غصہ آیا بھی تھا تو کیا اس کا جواب کسی بچے کی جان خطرے میں ڈالنا تھا؟ کیا ہم اتنے بے صبر اور بے حس ہو چکے ہیں کہ کسی کم عمر انسان کی غلطی کو برداشت کرنے کے بجائے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں؟

ذرا اس بچے کی محرومیوں کا تصور کیجیے۔ ایک ایسی عمر میں، جب بچوں کو تعلیم، تحفظ، شفقت اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہنر سیکھ کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے دل میں بھی بہتر زندگی کے خواب ہوں گے۔ اس کی موت صرف ایک فرد کی زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ ان امیدوں کا ٹوٹ جانا بھی ہے جو اس کے مستقبل سے وابستہ تھیں۔ ایسے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ معاشرے کے کمزور افراد، بالخصوص بچے، ہماری خصوصی توجہ، شفقت اور تحفظ کے مستحق ہیں۔

یہ صرف ملتان کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں کا آئینہ ہے۔ روزمرہ زندگی پر نظر ڈالیں تو سڑکوں پر معمولی باتوں پر جھگڑے، راستہ نہ دینے پر گالم گلوچ، دکانوں اور دفاتر میں تلخ کلامی، لین دین کے معاملات میں دھمکیاں اور اختلافِ رائے پر ایک دوسرے کی تذلیل عام ہوتی جا رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ہماری عزت کریں، لیکن خود دوسروں کی عزت کرنا بھول جاتے ہیں۔ ہم اپنے لیے رعایت چاہتے ہیں، مگر دوسروں کی غلطیاں معاف کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ ہماری انا ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ ہر حال میں ہماری بات درست ہے اور دوسروں کو ہماری مرضی کے مطابق چلنا چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ آخر ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ کیا ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں جہاں طاقت ور اپنی طاقت کے بل پر کمزور کو دبائے، جہاں غصے میں کیا گیا ایک فیصلہ کسی کی زندگی چھین لے اور جہاں بعد میں پچھتاوا تو ہو، مگر اس کی تلافی ممکن نہ ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ ایک لمحے کا غصہ عمر بھر کے پچھتاوے میں بدل سکتا ہے۔ چند سیکنڈ کی بے احتیاطی کسی خاندان کی پوری دنیا اجاڑ سکتی ہے۔

اس صورتِ حال کا ذمہ دار صرف قانون یا حکومت کو قرار دے کر ہم اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ ہماری گھریلو تربیت، تعلیمی نظام، سماجی رویے اور اخلاقی اقدار بھی اس مسئلے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ اگر بچے اپنے بڑوں کو غصے میں بدزبانی کرتے، دوسروں کو دھمکاتے اور اختلاف کی صورت میں تشدد پر اترتے دیکھیں گے تو وہ بھی یہی رویے سیکھیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین اپنے عمل سے برداشت کا سبق دیں اور تعلیمی ادارے بچوں کو کتابی علم کے ساتھ ضبطِ نفس، احترامِ انسانیت اور اختلافات کو مہذب انداز میں حل کرنے کی تربیت بھی دیں۔

اسلام ہمیں غصے پر قابو پانے، معاف کرنے اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں غصہ پی جانے اور لوگوں کو معاف کرنے والوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے (آلِ عمران: 134)۔ یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی طاقت کسی کو ڈرانے، دبانے یا اپنی بات منوانے میں نہیں، بلکہ اس وقت خود پر قابو رکھنے میں ہے جب غصہ ہمیں غلط قدم اٹھانے پر اکسا رہا ہو۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، قانون کی بالادستی قائم ہو، تشدد کے واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو۔ کسی بھی بچے کے ساتھ ظلم، استحصال یا تشدد کو معمولی معاملہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں بھی یہ عہد کرنا ہوگا کہ اختلاف کی صورت میں تشدد کا راستہ اختیار نہیں کریں گے، غصے میں فیصلے نہیں کریں گے اور کسی انسان کی جان کو اپنی انا سے کم تر نہیں سمجھیں گے۔

یاد رکھیے! معاشرے کی اصل ترقی بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور جدید گاڑیوں سے نہیں، بلکہ انسان کے کردار، احساس اور رویوں سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر ہمارے پاس طاقت تو ہو مگر رحم نہ ہو، علم تو ہو مگر شعور نہ ہو، زبان تو ہو مگر شائستگی نہ ہو، تو ہماری ترقی محض ظاہری ترقی ہے۔ ہم دوسروں کے لیے خطرہ بنتے بنتے ایک دن خود اپنے لیے وبالِ جان بن جاتے ہیں۔

آئیے، دوسروں کو بدلنے کا مطالبہ کرنے سے پہلے اپنے رویوں کا جائزہ لیں۔ اپنے بچوں کو برداشت سکھائیں، اپنے غصے پر قابو پائیں، دوسروں کی عزت کریں اور انسانی جان کی حرمت کو ہر اختلاف پر مقدم رکھیں۔ کیونکہ ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں کوئی غلطی نہ کرے، بلکہ وہ ہے جہاں غلطی کا جواب تشدد سے نہیں، بلکہ قانون، حکمت اور انسانیت سے دیا جائے۔

یاد رکھیے! کسی کی جان کا ضیاع صرف ایک زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ کئی خوابوں، امیدوں اور رشتوں کا بکھر جانا بھی ہے۔ جس معاشرے میں انسان، انسان کے لیے محفوظ نہ رہے، وہاں سب سے بڑا بحران قانون کا نہیں، احساسِ انسانیت کا ہوتا ہے۔