آیت ، ایک غلط دوستی کی قیمت،تحریر: عنثہ اظہر
نقطہ نظر
جب رنگ ہاتھوں پر قوسِ قزح بن کر اترتے ہیں تو خوشیوں کا سویرا ہوتا ہے، مگر کبھی یہی ہاتھوں پر سجی مہندی کسی کی زندگی میں نہ ختم ہونے والی سزا بن جاتی ہے۔
آیت سرخ عروسی لباس میں بیٹھی اپنے ہاتھوں پر لگی مہندی کو دیکھ رہی تھی۔ آنکھوں میں آنسو تھے اور دل میں کئی سوال۔ نکاح خواں کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تو اس کا دل ایک بار پھر ڈوب گیا۔ آج اس کا نکاح ایک ایسے شخص سے ہونے جا رہا تھا جو عمر میں اس سے تقریباً دوگنا تھا۔ وہ شخص پہلے سے دو بچوں کا باپ تھا اور اس کی پہلی بیوی وفات پا چکی تھی۔
آیت نے کبھی اپنی زندگی کے لیے ایسا فیصلہ نہیں کیا تھا، مگر آج اس کی مرضی کی کوئی اہمیت نہ تھی۔
چند ماہ پہلے تک اس کی زندگی بالکل مختلف تھی۔ وہ ایک خوب صورت، سادہ مزاج اور باحیا لڑکی تھی۔ پڑھائی میں اچھی تھی اور اس کے والد نے ہمیشہ اسے تعلیم کے ساتھ اچھی تربیت دینے کی کوشش کی تھی۔ وہ اپنے والد کی اکلوتی بیٹی اور دو بھائیوں کی چھوٹی بہن تھی۔
کالج میں اس کی دوستی مائل سے ہوئی۔ مائل خوب صورت اور فیشن کی شوقین لڑکی تھی۔ اسے بناؤ سنگھار، کھلے بالوں اور دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کا شوق تھا۔ اس کی شخصیت پر اس کی پرورش کا گہرا اثر تھا۔ اس کی ماں نے اسے تنہا پالا تھا، کیونکہ اس کے والد برسوں پہلے انہیں چھوڑ چکے تھے۔ مائل نے بچپن سے اپنی ماں کو دوستوں کی محفلوں اور اپنی مرضی کی زندگی گزارتے دیکھا تھا۔ اس کے نزدیک لڑکوں سے میل جول اور گھومنا پھرنا کوئی غیر معمولی بات نہ تھی۔
ایک دن مائل نے آیت سے کہا:
’’آج میرے ساتھ چلو، مجھے اپنے ایک دوست سے ملنا ہے۔‘‘
آیت نے فوراً انکار کر دیا۔
’’نہیں مائل! اگر گھر میں کسی کو معلوم ہو گیا تو بہت مسئلہ ہو جائے گا۔‘‘
مگر مائل کے اصرار پر وہ اس کے ساتھ چلی گئی۔ دونوں ایک ریستوران پہنچیں جہاں مائل اپنے محبوب کے ساتھ بیٹھ گئی۔ اس کا دوست فرحان بھی وہاں موجود تھا۔ مائل کے محبوب کا دوست فرحان، آیت کو اکیلا دیکھ کر اس کے پاس آ بیٹھا اور باتیں کرنے لگا۔
آیت اس صورتِ حال سے گھبرا گئی۔ اس نے مائل سے واپس چلنے کو کہا، مگر مائل نے اسے زیادہ اہمیت نہ دی۔ واپسی پر اس نے آیت کو سمجھایا:
’’اتنا بھی کیا ڈرنا؟ زندگی میں کبھی خوش بھی ہو لیا کرو۔ تم خوب صورت ہو، کوئی تمہیں تحفہ دے یا تم سے بات کرے تو اس میں برائی کیا ہے؟‘‘
آیت خاموش رہی، مگر مائل کی باتیں اس کے ذہن میں کہیں جگہ بنانے لگی تھیں۔
چند دن بعد فرحان کا پیغام آیت کے فون پر آیا۔ آیت نے حیرت سے پوچھا کہ اسے اس کا نمبر کہاں سے ملا۔ فرحان نے بتایا کہ مائل نے اسے نمبر دیا ہے۔ آیت نے مائل سے شکایت کی تو اس نے ہنستے ہوئے کہا:
’’اس نے مانگا تھا، میں نے دے دیا۔ ویسے بھی وہ تمہیں پسند کرتا ہے۔ تم سے بات کرنا چاہتا ہے۔‘‘
یوں آہستہ آہستہ فرحان اور آیت کے درمیان بات چیت شروع ہو گئی۔ پہلے چند پیغامات، پھر لمبی گفتگو اور پھر رات گئے تک باتیں ہونے لگیں۔ آیت کی پڑھائی متاثر ہونے لگی۔ وہ کتابیں کھول کر بیٹھتی تو اس کی توجہ بار بار فون کی طرف چلی جاتی۔ جس وقت وہ اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے محنت کیا کرتی تھی، اب وہی وقت کسی اور کی باتوں میں گزرنے لگا۔
ایک دن مائل کالج نہ آئی تو فرحان نے آیت سے اکیلے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ آیت نے پہلے انکار کیا، مگر اس کے مسلسل اصرار پر وہ اس سے ملنے چلی گئی۔
بدقسمتی سے وہاں اس کے دونوں بھائیوں نے اسے دیکھ لیا۔ وہ غصے سے بے قابو ہو گئے۔ گھر پہنچتے ہی آیت کو سخت ڈانٹ کا سامنا کرنا پڑا، اس کا فون چھین لیا گیا اور فرحان کو بھی مارا پیٹا گیا۔ اس کے بعد آیت کی تعلیم رکوا دی گئی اور گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی گئی۔
آیت کے والد نے بیٹوں کو سمجھانے کی کوشش کی، مگر گھر کا اختیار ان کے دونوں بیٹوں کے ہاتھ میں تھا۔ وہ اچھا کاروبار کرتے تھے اور گھر کے تمام اخراجات اٹھاتے تھے۔ ان کی بیویاں بھی آیت کو پسند نہیں کرتی تھیں۔ وہ اکثر اسے گھر پر بوجھ قرار دیتیں اور اس کی شادی کی بات کرتی رہتیں۔
جب آیت کے والد نے بیٹوں کے فیصلے کی مخالفت کی تو انہوں نے صاف کہہ دیا:
’’اگر آپ آیت کا ساتھ دیں گے تو پھر اپنا اور اس کا خرچ خود اٹھائیے اور اپنے پرانے گھر میں منتقل ہو جائیے۔ یہ گھر ہمارا ہے۔‘‘
بیٹوں کے ان الفاظ نے بوڑھے باپ کو اندر سے توڑ دیا۔ وہ اپنی بیٹی کو بچانا چاہتے تھے، مگر حالات کے سامنے بے بس ہو چکے تھے۔ بالآخر انہیں گھر چھوڑنا پڑا اور آیت کو اس کی مرضی کے خلاف ایک ایسے شخص کے نکاح میں دے دیا گیا جو ان کے کاروبار میں ملازم تھا، عمر میں اس سے تقریباً دوگنا تھا اور دو بچوں کا باپ تھا۔
نکاح کے بعد جب آیت اپنے شوہر کے گھر پہنچی اور ان دو بچوں کو دیکھا جن کی ماں دنیا سے جا چکی تھی تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے کبھی ایسی زندگی کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ وہ خود ابھی زندگی کے کئی سبق سیکھنے کی عمر میں تھی، مگر اس پر ایک گھر اور دو بچوں کی ذمہ داری ڈال دی گئی تھی۔
اس کا شوہر اسے سمجھنے کے بجائے ہر بات پر ذلیل کرتا۔ گھر کے کاموں کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے کبھی کھانا خراب ہو جاتا یا کوئی کام ٹھیک نہ ہوتا تو اسے مارا پیٹا جاتا۔
’’تجھے تو میں نے رکھ لیا، ورنہ تیرے جیسی لڑکی کو کون قبول کرتا؟ لڑکوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کا شوق تھا نا؟ اب بھگت اپنی زندگی!‘‘
وہ خاموشی سے آنسو بہاتی رہتی۔ اسے اپنی کتابیں، اپنی تعلیم اور وہ خواب یاد آتے جو کبھی اس کی آنکھوں میں سجے تھے۔ وہ اکثر سوچتی کہ اگر اس دن مائل کے ساتھ نہ جاتی، فرحان سے بات نہ کرتی اور اپنے فیصلوں میں مضبوط رہتی تو شاید آج اس کی زندگی مختلف ہوتی۔
دوسری طرف مائل اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے تھی۔ وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ رہی تھی، جیسے آیت کی زندگی میں آنے والے طوفان سے اسے کوئی واسطہ ہی نہ ہو۔ جب اسے آیت کی شادی کا معلوم ہوا تو اس نے بس اتنا کہا:
’’اچھا ہوا، جان چھوٹی۔ اب اپنی زندگی خود سنبھالو۔‘‘
آیت کے لیے یہ الفاظ کسی زخم سے کم نہ تھے۔ جس دوستی پر اس نے بھروسا کیا تھا، وہی دوستی اس کے دکھ میں اس کے ساتھ کھڑی نہ ہو سکی۔
مگر آیت کی زندگی کا المیہ صرف ایک غلط دوستی نہ تھی۔ اس کی اپنی نادانیوں کے ساتھ ساتھ اس کے گھر والوں کے سخت فیصلوں، اس کی مرضی کو نظر انداز کرنے اور شوہر کے ظلم نے بھی اس کے خواب چھین لیے تھے۔ اس کی غلطیوں کا مطلب یہ ہرگز نہ تھا کہ اسے اپنی مرضی کے خلاف زندگی گزارنے یا تشدد سہنے پر مجبور کیا جائے۔
کاش اس کے بھائی اسے سزا دینے کے بجائے سمجھتے، کاش اس کے والد کے پاس اپنی بیٹی کے حق میں فیصلہ کرنے کی طاقت ہوتی اور کاش آیت اپنی تعلیم اور خوابوں کا دامن نہ چھوڑتی۔
زندگی میں دوستوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے، کیونکہ ہر ساتھ دینے والا مخلص نہیں ہوتا۔ لیکن کسی کی غلطی کو اس پر ظلم کرنے کا جواز بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ بیٹیوں کی تربیت ضروری ہے، مگر ان کی تعلیم، عزت، مرضی اور خوابوں کی حفاظت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
کیونکہ ایک غلط فیصلہ زندگی کا رخ بدل سکتا ہے، مگر کسی کی غلطی اسے ظلم سہنے کا حق دار نہیں بنا دیتی۔
مزید پڑھیں



