ایک خیال سے عالمی منصوبے تک، تحریر:پروفیسر عامر زریں
نقطہ نظر
کائنات ہمیشہ سے انسان کے لیے ایک ایسی کتاب رہی ہے جس کے بیشتر صفحات ابھی تک تسخیر نہیں ہوسکے۔ ہم نے ستاروں کو دیکھا، کہکشاؤں کو دریافت کیا، بلیک ہولز کے بارے میں جانا، کششِ ثقل کی لہروں کو محسوس کیا، مگر کائنات کے بعض راز ایسے تھے جن تک عام دُوربینوں کی رسائی ممکن نہیں تھی۔ پھر سائنس نے ایک ایسا راستہ تلاش کیا جس نے کائنات کو دیکھنے کا انداز ہی بدل دیا۔
اس نئے راستے کو دریافت کرنے والوں میں ایک بڑا نام فرانسس ہیلزن ہے۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ انہیں 6 اکتوبر 2026ء کو طبیعیات کا نوبیل انعام دیا گیا، کیونکہ مارچ 2025ء تک 2026ء کے نوبیل انعامات کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ فرانسس ہیلزن کو طبیعیات کا نوبیل انعام نہیں ملا۔ وہ IceCube Neutrino Observatory کے بانی اور اس منصوبے کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں، مگر ان کے لیے نوبیل انعام یا رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی جانب سے کسی اعزاز کا دعویٰ معتبر طور پر ثابت نہیں ہوتا۔
فرانسس ہیلزن 1944ء میں بیلجیم کے شہر Tienen میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن اسی شہر میں گزرا۔ دوسری جنگِ عظیم کا زمانہ ان کے خاندان کے لیے بھی مشکلات سے خالی نہیں تھا۔ امریکی انسٹی ٹیوٹ آف فزکس کے ساتھ اپنی زبانی تاریخ کے انٹرویو میں ہیلزن نے اپنے بچپن اور جنگِ عظیم کے دوران خاندان کو پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کیا ہے۔ ان کے والدین یا خاندان کے پیشوں کے بارے میں غیر مصدقہ روایات کو دہرانے کے بجائے اتنا کہنا زیادہ درست ہے کہ وہ ایک عام بیلجیئم ماحول میں پروان چڑھے اور جنگ کے بعد کی نسل کے ان نوجوانوں میں شامل تھے جنہوں نے علم اور تحقیق کو اپنی زندگی کا راستہ بنایا۔ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ بچپن میں ان کا خواب سائنس دان بننا نہیں بلکہ پروفیشنل سائیکلسٹ بننا تھا۔ انہوں نے خود مذاقاً کہا کہ ”میں بیلجیئن ہوں، میری خواہش تو ٹور ڈی فرانس جیتنے کی تھی۔“
ہیلزن نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم بیلجیم میں حاصل کی اور پھر University of Leuven / KU Leuven میں طبیعیات کی تعلیم حاصل کی۔ دستیاب سوانحی معلومات کے مطابق انہوں نے 1965ء میں طبیعیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور 1969ء میں طبیعیات میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ ان کے ڈاکٹریٹ کے نگران معروف طبیعیات دان Frans Cerulus تھے۔ان کی ابتدائی علمی دلچسپی نظری طبیعیات، کوارک تھیوری، گروپ تھیوری اور ذراتی طبیعیات میں تھی۔ پی ایچ ڈی کے بعد انہوں نے یورپ کے معروف تحقیقی مرکز CERN میں کام کیا۔ بعد میں امریکہ گئے اور 1970ء کی دہائی کے آغاز میں University of Wisconsin–Madison سے وابستہ ہوگئے، جہاں انہوں نے اپنی طویل علمی زندگی گزاری۔
ہیلزن کی نیوٹرینو میں دلچسپی خاص طور پر 1980ء کی دہائی میں بڑھی۔ ان کے ذہن میں یہ سوال تھا کہ کیا نیوٹرینوز کو استعمال کرتے ہوئے ہم کائنات کے انتہائی طاقتور ذرائع کا سراغ لگا سکتے ہیں؟یہ سوال آسان نہیں تھا۔ نیوٹرینوز مادے کے ساتھ اس قدر کم تعامل کرتے ہیں کہ انہیں پکڑنے کے لیے ایک غیر معمولی بڑے ڈیٹیکٹر کی ضرورت تھی۔یہاں ہیلزن نے وہ کام کیا جس کے لیے سائنس میں تخیل، صبر اور خطرہ مول لینے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے سوچا کہ پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ بنانے کے بجائے جنوبی قطب کی قدرتی، شفاف اور مستحکم برف کو ہی ایک عظیم ڈیٹیکٹر کے طور پر استعمال کیا جائے۔IceCube کی تعمیر 2005ء میں شروع ہوئی اور آخری ڈیٹیکٹر دسمبر 2010ء میں نصب کی گیا؛ مکمل آبزرویٹری نے 2011ء میں کام شروع کیا۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ منصوبہ 2011ء تک مکمل اور فعال ہوا، نہ کہ یہ کہ پورا تصور اسی سال عملی شکل میں آیا۔
فرانسس ہیلزن کا سائنسی کام اس لحاظ سے نہایت اہم ہے کہ انہوں نے کائنات کو دیکھنے کے لیے ایک نئی کھڑکی کھولنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ہم نے صدیوں تک کائنات کو روشنی کے ذریعے دیکھا۔ پھر ریڈیو، ایکسرے، گاما شعاعوں اور کششِ ثقل کی لہروں نے ہمارے مشاہدے کا دائرہ وسیع کیا۔ IceCube نے اس فہرست میں نیوٹرینوز کا اضافہ کیا۔
عام قاری کے لیے ”نیوٹرینو“ شاید ایک مشکل سائنسی اصطلاح ہو، لیکن اسے آسان زبان میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ انتہائی کم کمیت رکھنے والا، برقی چارج سے محروم بنیادی ذرّہ ہے جو مادے کے ساتھ انتہائی کم تعامل کرتا ہے۔بے شمار نیوٹرینوز ہر لمحہ ہمارے جسم اور زمین کے آرپار گزر رہے ہوتے ہیں اور ہمیں ان کا احساس تک نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں کبھی کبھی Ghost Particles یعنی ”بھوت ذرات“ کہا جاتا ہے۔ وہ روشنی کی رفتار کے بہت قریب سفر کرتے ہیں اور عام مادے کو تقریباً نظرانداز کرتے ہوئے طویل فاصلے طے کر لیتے ہیں۔لیکن یہی کم تعامل ان کی سب سے بڑی خوبی بھی ہے۔ چونکہ نیوٹرینوز راستے میں مادے اور مقناطیسی میدانوں سے بہت کم متاثر ہوتے ہیں، اس لیے وہ اپنے ماخذ کی خبر نسبتاً صاف انداز میں زمین تک پہنچا سکتے ہیں۔ یوں وہ کائنات کے ایسے پیغام رساں بن جاتے ہیں جنہیں روایتی دُوربینیں براہِ راست نہیں دیکھ سکتیں۔
فرانسس ہیلزن کا عظیم سائنسی کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے جنوبی قطب کی برف کو ایک بہت بڑی ”دوربین“ میں تبدیل کرنے کے تصور کو عملی شکل دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔یہ بظاہر ایک عجیب خیال تھا۔ مگر ہیلزن اور ان کے ساتھیوں نے سوچا کہ اگر نیوٹرینو کسی انتہائی نایاب موقع پر برف کے اندر موجود ایٹمی مرکزے سے ٹکرائے تو اس تعامل سے پیدا ہونے والی انتہائی مدھم روشنی کو حساس آلات کے ذریعے ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔اسی تصور نے آگے چل کر IceCube Neutrino Observatory کو جنم دیا۔
انٹارکٹیکا میں تقریباً ایک مکعب کلومیٹر حجم کی برف کے اندر 5,160 ڈیجیٹل آپٹیکل ماڈیولز نصب کیے گئے ہیں۔ یہ ماڈیولز 86 تاروں پر تقریباً 1,450 سے 2,450 میٹر گہرائی میں موجود ہیں۔ جب کوئی نیوٹرینو برف میں موجود ایٹمی مرکزے سے تعامل کرتا ہے تو پیدا ہونے والے ثانوی چارج شدہ ذرات، خصوصاً میوآن، چیرنکوف روشنی پیدا کرتے ہیں، جسے یہ آلات ریکارڈ کرتے ہیں۔یہ انسانی تاریخ کے ان غیر معمولی تجربات میں سے ایک ہے جس میں ایک پورا برفانی خطہ ایک سائنسی آلے میں تبدیل ہوگیا۔
ہیلزن نے جنوبی قطب میں نیوٹرینو پکڑنے کے تصور کو 1980ء کی دہائی میں پیش کیا اور اسے عملی شکل دینے کے لیے مسلسل کام کیا۔ بعد ازاں یہ خیال ایک بڑے بین الاقوامی منصوبے میں بدل گیا۔IceCube کی تعمیر اور سائنسی سرگرمیوں میں مختلف ممالک کے سینکڑوں سائنس دان، انجینئرز اور تکنیکی ماہرین شریک رہے ہیں۔ IceCube Collaboration کی سرکاری معلومات کے مطابق اس تعاون میں 14 ممالک کے تقریباً 58 ادارے اور 450 سے زیادہ افراد شامل رہے؛ یہ تعداد وقت کے ساتھ بدل سکتی ہے۔یہاں ہیلزن کی شخصیت کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ IceCube کسی ایک فرد کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک وسیع اجتماعی کاوش ہے۔ ہیلزن نے بھی مختلف مواقع پر اس کامیابی میں شریک سائنس دانوں، انجینئرز اور معاون اداروں کے کردار کو نمایاں کیا ہے۔
IceCube کی ایک بڑی کامیابی اس وقت سامنے آئی جب سائنس دانوں نے ایسے انتہائی بلند توانائی والے نیوٹرینوز دریافت کیے جو زمین کے ماحول میں پیدا ہونے والے عام نیوٹرینوز سے کہیں زیادہ توانائی رکھتے تھے اور غالباً کائناتی ماخذ رکھتے تھے۔2013ء میں شائع ہونے والے نتائج میں IceCube نے دو انتہائی بلند توانائی والے واقعات، جنہیں غیر رسمی طور پر Bert اور Ernie کہا گیا، سمیت ایسے واقعات کی اطلاع دی۔ بعد کے تجزیوں نے اس نمونے کو مضبوط کیا اور نیوٹرینو فلکیات کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی۔ تاہم 2013ء کی دریافت میں ان نیوٹرینوز کو کسی ایک مخصوص فلکیاتی ماخذ سے قطعی طور پر منسوب نہیں کیا گیا تھا۔
2017ء میں IceCube نے واقعہ IceCube-170922A کا سراغ لگایا اور اس کی سمت ایک فعال کہکشانی مرکز، TXS 0506+056، سے مطابقت رکھتی پائی۔ اس نیوٹرینو کے ساتھ گاما شعاعوں کا مشاہدہ بھی ہوا، جس نے پہلی بار ایک بلند توانائی نیوٹرینو کو کسی ممکنہ فلکیاتی ماخذ سے جوڑنے کا مضبوط ثبوت فراہم کیا۔ اسے قطعی اور واحد ماخذ کی حتمی شناخت کے بجائے ایک اہم کثیرپیغامی فلکیاتی ثبوت کہنا زیادہ درست ہے۔یوں نیوٹرینو صرف ایک ذرے کا نام نہیں رہا بلکہ کائنات کے انتہائی طاقتور واقعات کا پیغام رساں بن گیا۔
اب سائنس دان یہ جاننے کے قریب پہنچ سکتے ہیں کہ کائنات کی سب سے طاقتور توانائی کہاں پیدا ہوتی ہے، بلیک ہولز کے گرد کیا واقعات رونما ہوتے ہیں، انتہائی بلند توانائی والے کائناتی ذرات کہاں سے آتے ہیں اور کہکشاؤں کے فعال مراکز کس طرح کام کرتے ہیں۔IceCube نے نیوٹرینو فلکیات کو ایک باقاعدہ مشاہداتی میدان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، مگر اس کے نتائج کو ہیلزن کے لیے نوبیل انعام یا کسی نوبیل کمیٹی کے اعزاز سے جوڑنا درست نہیں۔
فرانسس ہیلزن کی کہانی ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ بڑی سائنسی دریافتیں ہمیشہ ایک دن میں نہیں ہوتیں۔ ایک خیال کو حقیقت بننے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ہیلزن نے 1980ء کی دہائی میں ایک مشکل خیال پیش کیا، اسے تجرباتی شکل دینے کے لیے برسوں محنت کی، برفانی قطب کے انتہائی سخت ماحول میں ایک عظیم سائنسی منصوبہ کھڑا کیا اور بالآخر ایسی دریافتیں ممکن بنائیں جنہوں نے فلکیات کی ایک نئی شاخ کو جنم دیا۔IceCube کو مزید وسعت دینے کے لیے IceCube-Gen2 کا منصوبہ تیاری کے مراحل میں ہے۔ اس کا مقصد موجودہ آبزرویٹری کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ حساسیت اور وسیع تر سائنسی صلاحیت حاصل کرنا ہے، لیکن اسے مکمل شدہ منصوبہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
فرانسس ہیلزن کا سائنسی ورثہ دراصل ایک ایسے سائنس دان کا ورثہ ہے جس نے ہمیں یہ سکھایا کہ کائنات کو سمجھنے کے لیے کبھی کبھی آسمان کی طرف دیکھنا کافی نہیں ہوتا؛ زمین کے نیچے برف کی خاموش تہوں میں بھی کائنات کے پیغامات چھپے ہوسکتے ہیں۔اور شاید یہی سائنس کی سب سے خوب صورت بات ہے: ایک عام سا سوال، ایک غیر معمولی خیال اور برسوں کی مسلسل محنت مل کر انسان کو کائنات کے ایک نئے راز تک پہنچا سکتی ہے۔





