امن عہدہ نہیں بلکہ ہماری ذمہ داری،تحریر: کاشف خان
نقطہ نظر
امن ایک ایسا خوبصورت خواب ہے جس کی تعبیر ہر انسان دیکھنا چاہتا ہے۔ ہر معاشرہ سکون، محبت، انصاف اور بھائی چارے کی فضا میں سانس لینے کا خواہش مند ہوتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امن صرف تقریروں، نعروں، عہدوں اور القابات سے قائم ہو سکتا ہے؟ یقیناً نہیں! امن ایک ایسا عملی جذبہ ہے جس کے لیے کردار، قربانی، برداشت اور انسانیت سے محبت ضروری ہے۔ امن کا دعویٰ کرنا آسان، مگر اس کی ذمہ داری نبھانا ایک بڑا امتحان ہے۔
آج دنیا کو جنگوں، نفرتوں، مذہبی تعصبات، معاشی ناہمواریوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ کہیں معصوم بچے جنگ کی آگ میں اپنا بچپن کھو رہے ہیں، کہیں مائیں اپنے پیاروں کی جدائی میں آنسو بہا رہی ہیں اور کہیں غربت و ناانصافی نے انسانوں سے جینے کی امید چھین لی ہے۔ ایسے حالات میں امن کی بات کرنا ضروری ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کریں۔
امن کسی تنظیم کا عہدہ نہیں، کسی شخصیت کا تعارف نہیں اور نہ ہی کسی کارڈ پر لکھا ہوا ایک خوبصورت لقب ہے۔ امن ایک ذمہ داری ہے جو ہر اس شخص پر عائد ہوتی ہے جو انسانیت کی بہتری کا خواہش مند ہے۔ اگر کوئی شخص خود نفرت پھیلائے، دوسروں کی تذلیل کرے، اختلافِ رائے برداشت نہ کرے اور کمزوروں کے حقوق کو نظرانداز کرے تو اس کے امن کے دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ حقیقی امن کا علمبردار وہی ہے جس کے قول و فعل میں یکسانیت ہو۔
معاشرے میں امن قائم کرنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔ اختلافات زندگی کا حصہ ہیں، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا ہماری اجتماعی کمزوری ہے۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ دوسروں کی بات سننا، ان کے نظریات کا احترام کرنا اور مسائل کو مکالمے کے ذریعے حل کرنا ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔ نفرت کا جواب نفرت سے دینے کے بجائے برداشت اور دلیل کا راستہ اختیار کرنا ہی پائیدار امن کی بنیاد ہے۔
انصاف کے بغیر امن کا تصور بھی ادھورا ہے۔ جہاں غریب کو انصاف کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے، جہاں طاقتور قانون سے بالاتر سمجھا جائے اور جہاں کسی انسان کے ساتھ مذہب، زبان، رنگ یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر امتیاز برتا جائے، وہاں حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا۔ امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ ہر انسان کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہو، قانون سب کے لیے یکساں ہو اور مظلوم کی آواز کو سنجیدگی سے سنا جائے۔
تعلیمی ادارے، صحافی، سماجی کارکن اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ صحافت کا فرض ہے کہ وہ معاشرتی مسائل کو اجاگر کرے، مظلوموں کی آواز بنے اور ذمہ دارانہ انداز میں سچائی کو عوام تک پہنچائے۔ اسی طرح امن کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اپنے مقاصد کو عملی سرگرمیوں، عوامی آگاہی، فلاحی اقدامات اور بین المذاہب ہم آہنگی کے ذریعے ثابت کریں۔ عہدوں کی اہمیت اسی وقت ہوتی ہے جب ان کے ساتھ خدمت، جواب دہی اور عملی جدوجہد بھی موجود ہو۔
بین الاقوامی سطح پر بھی امن صرف معاہدوں اور بیانات سے حاصل نہیں ہوگا۔ مختلف ممالک کو باہمی احترام، سفارت کاری اور تعاون کے ذریعے تنازعات حل کرنے چاہییں۔ جنگوں کے بجائے مذاکرات، اسلحے کی دوڑ کے بجائے انسانی ترقی اور نفرت کے بجائے باہمی اعتماد کو ترجیح دینا ہوگی۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ میں کسی ایک فریق کی تباہی دراصل پوری انسانیت کا نقصان ہے۔
ہم میں سے ہر شخص اپنے حصے کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، کسی مظلوم کے لیے آواز اٹھانا، نفرت انگیز گفتگو سے گریز کرنا اور دوسروں کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا امن کی عملی شکلیں ہیں۔ ہمیں امن کو محض ایک نعرہ بنانے کے بجائے اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
آخر میں میرا پیغام یہی ہے کہ امن کے نام پر عہدے حاصل کرنا مقصد نہیں، بلکہ ان عہدوں کی ذمہ داریاں پوری کرنا اصل کامیابی ہے۔ دنیا کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو امن کی بات صرف زبان سے نہ کریں بلکہ اپنے کردار سے اس کا ثبوت بھی دیں۔
یاد رکھیے! امن کوئی عہدہ نہیں بلکہ ہماری ذمہ داری ہے۔ جب ہم انصاف کو اپنا اصول، انسانیت کو اپنا مذہبِ خدمت اور محبت کو اپنا طرزِ عمل بنا لیں گے، تب ہی ایک پُرامن، منصفانہ اور روشن دنیا کی بنیاد رکھ سکیں گے۔
مزید پڑھیں

ٹرانس جینڈر مرد اور اہلیہ پہلے بچے کی آمد کے منتظر


سحر کامران کا بیگم نصرت بھٹو کو خراجِ عقیدت
