روشنیوں کے شہر میں اندھیرے کا مسافر،تحریر: سائرہ علی
نقطہ نظر
شہر صرف بلند و بالا عمارتوں، کشادہ سڑکوں، جگمگاتی روشنیوں، خوب صورت بازاروں اور رنگ برنگی رونقوں کا نام نہیں ہوتا، بلکہ شہر کی اصل پہچان وہاں بسنے والے انسانوں کے کردار، ان کے رویوں، اخلاق، احساسات اور معاشرتی اقدار سے ہوتی ہے۔ بظاہر روشن دکھائی دینے والے شہر ہمیشہ اندر سے روشن نہیں ہوتے۔ بعض اوقات چراغوں کی فراوانی کے باوجود دلوں میں تاریکی بسی ہوتی ہے، چہروں پر مسکراہٹیں سجی ہوتی ہیں مگر روحیں اداسی کا بوجھ اٹھائے پھرتی ہیں، بازار آباد ہوتے ہیں لیکن رشتے ویران ہو جاتے ہیں اور انسانوں کا ہجوم موجود ہوتا ہے مگر انسانیت کہیں تنہا کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ ایسے ہی ماحول میں ایک شخص اپنی ذات، اپنے خوابوں، اپنی محرومیوں اور اپنے سوالات کا بوجھ اٹھائے روشنیوں کے شہر میں اندھیرے کا مسافر بن کر زندگی کا سفر طے کرتا ہے۔
یہ مسافر کون ہے؟ یہ کوئی ایک شخص نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کا وہ ہر فرد ہے جو بظاہر ایک ترقی یافتہ اور روشن دنیا کا حصہ ہونے کے باوجود اندرونی بے سکونی، احساسِ محرومی، تنہائی، ناانصافی اور بے حسی کا شکار ہے۔ وہ روزانہ صبح امیدوں کا چراغ لے کر گھر سے نکلتا ہے، کامیابی کی تلاش میں سڑکوں پر بھٹکتا ہے، لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اپنائیت کو ترستا ہے اور رات کو واپس لوٹتے ہوئے اپنے آپ سے ایک ہی سوال کرتا ہے کہ آخر اتنی روشنیوں کے باوجود زندگی میں اندھیرا کیوں ہے؟
آج کے جدید دور میں انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ بلند و بالا عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں، جدید شاہراہیں بن رہی ہیں، مواصلات کے ذرائع نے فاصلے سمیٹ دیے ہیں اور دنیا ایک چھوٹے سے گاؤں کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ چند لمحوں میں ہزاروں میل دور بیٹھے شخص سے رابطہ ممکن ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سماجی ذرائع ابلاغ نے معلومات کے دروازے کھول دیے ہیں۔ لیکن اس تمام ترقی کے باوجود ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا انسان نے اپنے باطن کو بھی اتنا ہی روشن کیا ہے جتنا اس نے اپنے اردگرد کی دنیا کو روشن کرنے کی کوشش کی ہے؟
افسوس کہ اس سوال کا جواب ہمیشہ اطمینان بخش نہیں ہوتا۔
ہم نے روشنیوں کے شہر تو آباد کر لیے مگر دلوں میں احساس کے چراغ جلانے سے غافل ہو گئے۔ ہم نے مکانات کو خوب صورت بنا لیا مگر گھروں میں محبت اور برداشت کی فضا قائم رکھنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ ہم نے رابطے کے جدید ترین ذرائع حاصل کر لیے، مگر ایک دوسرے کو سننے اور سمجھنے کا حوصلہ کھوتے جا رہے ہیں۔ آج ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد بعض اوقات ایک دوسرے کے جذبات سے ناواقف ہوتے ہیں۔ ہر شخص اپنے موبائل کی اسکرین پر دنیا بھر کی خبریں دیکھتا ہے، مگر اپنے قریب بیٹھے انسان کی خاموشی پڑھنے کی فرصت نہیں رکھتا۔
یہ کیسی ترقی ہے کہ انسان چاند تک پہنچنے کے خواب پورے کر رہا ہے، لیکن اپنے پڑوسی کے دکھ تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہا؟
روشنیوں کے اس شہر میں اندھیرے کا ایک بڑا سبب معاشرتی ناہمواری بھی ہے۔ ایک طرف دولت کے انبار ہیں، پرتعیش گاڑیاں ہیں، شاندار رہائش گاہیں ہیں اور زندگی کی تمام آسائشیں میسر ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے خاندان بھی موجود ہیں جن کے لیے بچوں کی تعلیم، علاج اور دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا ایک دشوار مرحلہ بن چکا ہے۔ ایک ہی شہر میں کوئی شخص اپنی غیر ضروری خواہشات پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتا ہے اور کوئی باپ اپنے بچے کی معمولی سی فرمائش پوری کرنے کے لیے اپنی ضروریات قربان کرتا رہتا ہے۔
یہ تضاد محض معاشی فرق نہیں بلکہ ایک اہم معاشرتی سوال ہے۔ کیا کسی شہر کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب وہاں چند افراد کے پاس دولت کے پہاڑ ہوں اور بڑی تعداد بنیادی ضروریات کے لیے پریشان ہو؟ یقیناً نہیں۔ ترقی کا اصل معیار یہ ہے کہ معاشرے کے کمزور ترین فرد کو بھی عزت، تحفظ، تعلیم، علاج اور باعزت روزگار کے مواقع میسر ہوں۔
اسی طرح تعلیم کی کمی بھی معاشرتی اندھیروں کو بڑھانے کا ایک اہم سبب ہے۔ تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے یا ملازمت کے حصول کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ انسان کو سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے، درست اور غلط میں تمیز کرنے اور اپنے حقوق و فرائض پہچاننے کا شعور عطا کرتی ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے تعلیم کو اکثر محض ملازمت حاصل کرنے کا وسیلہ سمجھ لیا ہے۔ نتیجتاً ڈگریاں تو بڑھ رہی ہیں، لیکن کردار سازی، برداشت، اخلاقیات اور عملی شعور پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جا رہی۔
ایک تعلیم یافتہ انسان اگر دوسروں کے حقوق پامال کرتا ہے، کمزور کو حقیر سمجھتا ہے۔ جھوٹ اور دھوکے کو کامیابی کا راستہ تصور کرتا ہے اور اپنے مفاد کے لیے اصولوں کو قربان کر دیتا ہے تو اس کی تعلیم معاشرے کے لیے کس قدر مفید ثابت ہو سکتی ہے؟ اصل تعلیم وہ ہے جو انسان کو انسان بنائے، اسے ذمہ داری کا احساس دلائے اور اس کے کردار میں شرافت، دیانت داری اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرے۔ اس شہر کا ایک اور اندھیرا اخلاقی اقدار کا زوال ہے۔ کبھی ہمارے معاشرے میں بزرگوں کا احترام، چھوٹوں سے شفقت، پڑوسیوں کا خیال، مہمان نوازی، سچائی اور وعدے کی پاسداری نمایاں خوبیاں سمجھی جاتی تھیں۔ آج بھی یہ خوبیاں موجود ہیں، مگر بعض مقامات پر مادہ پرستی اور خود غرضی نے انہیں کمزور ضرور کیا ہے۔ ہم کامیابی کو دولت، شہرت، عہدے اور ظاہری نمود و نمائش سے ناپنے لگے ہیں۔ کسی شخص کی قابلیت سے زیادہ اس کے لباس، گاڑی اور سماجی حیثیت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس دوڑ میں انسان اپنی اصل شناخت کھونے لگتا ہے۔ حالانکہ انسان کی عظمت اس کے لباس کی قیمت سے نہیں، اس کے کردار کی خوب صورتی سے پہچانی جاتی ہے۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، کسی پریشان حال کی بات سننا، کسی ضرورت مند کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر مدد کرنا اور کسی مظلوم کے حق میں آواز بلند کرنا وہ روشن اعمال ہیں جو معاشرے کے حقیقی اندھیروں کو ختم کرتے ہیں۔
روشنیوں کے شہر کا مسافر صرف معاشی اور معاشرتی مسائل سے ہی نہیں گزرتا، بلکہ ذہنی اور جذباتی تنہائی بھی اس کے سفر کو دشوار بناتی ہے۔ آج ذہنی دباؤ، بے چینی، مستقبل کے خوف اور ناکامی کے احساس نے بہت سے لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر رکھا ہے۔ روزگار کی غیر یقینی صورت حال، مہنگائی، خاندانی مسائل، سماجی مقابلہ بازی اور دوسروں سے خود کا موازنہ کرنے کی عادت انسان کے سکون کو متاثر کرتی ہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ نے اس کیفیت میں ایک نیا پہلو بھی شامل کر دیا ہے۔ لوگ اپنی زندگی کے صرف خوب صورت لمحات دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ مہنگے لباس، تفریحی مقامات، خوش گوار تقریبات اور کامیابیوں کی تصاویر دیکھ کر بعض افراد اپنی زندگی کو دوسروں سے کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر مسکراتے چہرے کے پیچھے ایک مکمل اور بے عیب زندگی نہیں ہوتی۔ ہر کامیاب دکھائی دینے والے شخص کی اپنی مشکلات اور آزمائشیں ہوتی ہیں۔ ہمیں دوسروں کی زندگی کے ظاہری مناظر سے اپنی زندگی کا موازنہ کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں، حالات اور مقاصد پر توجہ دینی چاہیے۔
یہاں ایک اہم حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اندھیرا ہمیشہ حالات کا نام نہیں ہوتا، بعض اوقات یہ ہماری سوچ اور رویوں میں بھی موجود ہوتا ہے۔ اگر انسان مایوسی کو اپنا مقدر سمجھ لے، محنت سے منہ موڑ لے اور ہر مسئلے کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دینے لگے تو اس کے لیے روشنی کی طرف سفر مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس امید، محنت، صبر اور خود احتسابی انسان کو مشکل ترین حالات میں بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ عطا کرتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ معاشرتی ناانصافیوں اور بنیادی مسائل کو نظر انداز کر دیا جائے۔ بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی انفرادی ذمہ داریوں کے ساتھ اجتماعی مسائل کے حل کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو بنیادی سہولیات، معیاری تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرے۔ اداروں کو شفافیت اور میرٹ کو فروغ دینا چاہیے۔ تعلیمی نظام میں کردار سازی اور عملی تربیت کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ ذرائع ابلاغ کو سنسنی خیزی کے بجائے مثبت شعور اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینا چاہیے۔ تاہم معاشرے کی اصلاح صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری پہچاننا ہوگی۔ ایک استاد اگر اپنے شاگردوں میں علم کے ساتھ اخلاق بھی پیدا کرے، ایک تاجر اگر دیانت داری سے کاروبار کرے، ایک سرکاری ملازم اگر اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کرے، والدین اپنے بچوں کی تربیت میں محبت اور انصاف کو مقدم رکھیں اور ایک نوجوان اپنی صلاحیتوں کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کرے تو معاشرے میں تبدیلی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ نوجوان نسل اگر اپنی توانائیاں محض شہرت، نمود و نمائش اور وقتی کامیابیوں کے حصول میں صرف کرنے کے بجائے علم، تحقیق، ہنر، کردار اور قومی تعمیر کے لیے وقف کر دے تو وہ معاشرے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ انہیں چاہیے کہ مشکلات سے گھبرانے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، وقت کی قدر کریں، مطالعے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اپنی کامیابی کو دوسروں کی بھلائی سے جوڑیں۔ اسی طرح ہمیں اپنی عبادات اور اخلاقی تعلیمات کے حقیقی تقاضوں کو بھی سمجھنا ہوگا۔ عبادت انسان کے اندر عاجزی، شکرگزاری، صبر، رحم اور دوسروں کے حقوق کا احترام پیدا کرتی ہے۔ اگر ہمارے اعمال میں انصاف، معاملات میں دیانت داری اور رویوں میں انسان دوستی موجود نہیں تو ہمیں اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ مذہبی تعلیمات کا حقیقی حسن بھی یہی ہے کہ انسان اپنے خالق کے حقوق کے ساتھ مخلوق کے حقوق کی ادائیگی کو بھی اہمیت دے۔ ذرا تصور کیجیے کہ اگر ایک شہر میں ہر شخص اپنی ذمہ داری پوری کرنے لگے، کوئی ملاوٹ نہ کرے، کوئی رشوت نہ لے، کوئی جھوٹ نہ بولے، کوئی کمزور کا حق نہ مارے، کوئی کسی کی عزت مجروح نہ کرے اور ہر صاحبِ حیثیت ضرورت مند کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرے تو کیا اس شہر کی روشنیاں محض بجلی کے قمقموں تک محدود رہیں گی؟ یقیناً نہیں! وہاں انسانوں کے دل بھی روشن ہوں گے، گھروں میں سکون ہوگا، معاشرے میں اعتماد پیدا ہوگا اور زندگی کی اصل خوب صورتی نمایاں ہونے لگے گی۔ روشنیوں کے شہر میں اندھیرے کا مسافر دراصل ہم سب کے اندر موجود اس انسان کی علامت ہے جو بہتر زندگی، باوقار معاشرے، سچے رشتوں اور پُرسکون ماحول کی تلاش میں ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے اس کی محنت کا صلہ ملے، اس کے ساتھ انصاف ہو، اس کی عزتِ نفس محفوظ رہے اور اس کے بچوں کو ایک ایسا مستقبل میسر آئے جہاں انہیں اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے ناانصافی اور محرومیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس مسافر کے سفر کا اختتام صرف اس وقت ممکن ہے جب ہم اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کریں کہ ہمیں محض روشن شہر نہیں بلکہ روشن ذہن، روشن کردار اور روشن معاشرہ بھی تعمیر کرنا ہے۔ ہمیں دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے، نفرت کے بجائے محبت بانٹنے، مایوسی کے بجائے امید جگانے اور خود غرضی کے بجائے خدمت کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔
آخر میں یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ روشنی کا تعلق صرف سورج، چاند یا بجلی کے قمقموں سے نہیں ہوتا، اصل روشنی انسان کے ضمیر، کردار، علم اور احساس میں ہوتی ہے۔ جس شہر میں عمارتیں تو آسمان سے باتیں کریں لیکن انسان ایک دوسرے کے دکھ سے بے خبر رہیں، وہاں ترقی کے باوجود بہت کچھ نامکمل رہتا ہے۔ حقیقی ترقی وہ ہے جہاں کسی غریب کی آنکھ میں بے بسی کے آنسو نہ ہوں، کسی بچے کا مستقبل غربت کی نذر نہ ہو، کسی محنت کش کو اس کی محنت کا جائز معاوضہ ملے اور کسی انسان کو محض اس کی حیثیت کی بنیاد پر کمتر نہ سمجھا جائے۔ آئیے! ہم سب اپنے حصے کا ایک چراغ روشن کریں۔ کسی کے لیے امید بنیں، کسی کے لیے آسانی پیدا کریں، کسی کے دکھ میں شریک ہوں اور اپنے کردار کو اپنی پہچان بنائیں۔ کیونکہ اندھیروں کو کوسنے سے روشنی نہیں پھیلتی، اس کے لیے چراغ جلانا پڑتا ہے اور شاید یہی اس کشمکش کا سب سے بڑا سبق ہے کہ روشنیوں کے شہر میں اندھیرے کا مسافر بن کر زندگی گزارنے کے بجائے ہمیں خود وہ روشنی بننا چاہیے جس کی تلاش میں ہم مدتوں سے سرگرداں ہیں۔



