پہلے بزرگ کہا کرتے تھے کہ دنیا میں دو چیزیں مفت ہیں: ہوا اور قبر۔ ہوا آج بھی مفت ہے، مگر قبر مہنگی ہو گئی ہے۔ اب جینا تو مہنگا تھا ہی، مرنا بھی مہنگا ہو گیا ہے۔
میرے محلے میں ایک بزرگ فوت ہوئے۔ ان کے بیٹے نے قبرستان فون کیا اور پوچھا کہ قبر کی جگہ ہے؟ آگے سے جواب آیا کہ ہے، چالیس ہزار لاؤ۔ بیٹا حیران ہو کر بولا کہ ابا ساری زندگی کرائے کے مکان میں رہے، کیا قبر بھی کرائے پر ملے گی؟ گورکن نے جواب دیا کہ بھائی، اب دور ہی کرائے کا ہے۔ یہ کوئی لطیفہ نہیں، یہ آج کے پاکستان کی تلخ حقیقت ہے۔
اعداد و شمار اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔ دی فرائیڈے ٹائمز کی 2024ء کی رپورٹ کے مطابق، کراچی میں صرف ایک سال کے دوران قبر کی قیمت 15 ہزار سے بڑھ کر 35 ہزار روپے ہو گئی ہے۔ ٹائمز آف کراچی کی تفصیلی رپورٹ بتاتی ہے کہ کراچی کے مضافات میں ایک غریب آدمی کو 40 سے 50 ہزار، درمیانے طبقے کو 65 سے 80 ہزار اور پوش علاقوں میں ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک دینا پڑتے ہیں۔ اگر کسی کو اپنی پسند کی جگہ چاہیے تو اس پر مزید 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے اضافی وصول کیے جاتے ہیں۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے 10 جنوری کو سرکاری طور پر قبر کا ریٹ 14 ہزار 300 روپے مقرر کیا ہے، جس میں زمین، کھدائی، بلاک اور سلیب شامل ہے۔ مگر عملی طور پر یہ ریٹ کہیں نظر نہیں آتا۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق، کراچی میں 200 سے زیادہ قبرستان ہیں، جن میں سے 39 کے ایم سی کے زیرِ انتظام ہیں اور ان 39 میں سے 6 قبرستان باقاعدہ طور پر بند ہو چکے ہیں۔ ان میں یاسین آباد، پاپوش نگر، سوسائٹی، ماڈل کالونی، کورنگی اور محمود آباد شامل ہیں، کیونکہ وہاں جگہ ختم ہو چکی ہے۔ لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں، جو 150 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے اور برصغیر کے قدیم ترین قبرستانوں میں سے ہے، ایک قبر کی قیمت 30 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ لاہور میں ہی حکومت نے "شہرِ خموشاں" کے نام سے ایک ماڈل قبرستان بنایا ہے، جو 89 کنال پر محیط ہے اور 8 ہزار قبروں کی گنجائش رکھتا ہے۔ اس پر 15 کروڑ 50 لاکھ روپے لاگت آئی، یعنی فی قبر بنیادی خرچہ 19 ہزار 375 روپے۔ اسلام آباد میں 20 ہزار اور راولپنڈی میں 35 ہزار روپے تک ریٹ پہنچ چکا ہے۔ سندھ حکومت نے 2500 ایکڑ زمین نئے قبرستانوں کے لیے مختص کرنے کا اعلان کیا تھا، مگر وہ اعلان آج تک فائل سے باہر نہیں نکلا۔
اسلام نے موت کو سب سے بڑا مساوات کا درس قرار دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قبروں کو پختہ نہ بناؤ۔ صحیح مسلم کی مستند حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر کو پختہ بنانے، اس پر عمارت بنانے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ اس کی حکمت یہ تھی کہ قبر سادہ رہے، سب کے لیے برابر رہے، اور غریب و امیر میں کوئی فرق نہ رہے۔ افلاطون نے کہا تھا کہ کسی شہر کے انصاف کا اندازہ اس کے قبرستان سے لگاؤ؛ اگر وہاں بھی امیر اور غریب کی قبریں الگ الگ ہیں تو سمجھو کہ اس شہر میں انصاف نہیں۔
مرزا غالب نے اس بے ثباتی کو یوں بیان کیا:
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن،
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک۔
علامہ اقبال نے انسان کی حقیقت کو آئینے سے تشبیہ دی:
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ،
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے، نگاہِ آئینہ ساز میں۔
یہ اشعار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ خاک ہونا ہی انسان کا آخری مقدر ہے، مگر آج اس خاک کے لیے بھی قیمت چکانی پڑتی ہے۔
خرابی تین جگہ پر ہے۔ پہلی، آبادی بڑھی، شہر بڑھے، مگر قبرستان نہیں بڑھے۔ دوسری، زمین مافیا نے قبرستانوں کی زمین پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ سرکاری زمین پر نجی قبرستان بنا کر مہنگے داموں بیچی جا رہی ہے۔ تیسری، ہم نے خود قبر کو نمائش بنا دیا ہے۔ سادہ مٹی کی قبر 5 ہزار میں بن جاتی ہے، مگر ماربل، ٹائل اور گرینائٹ والی قبر 50 ہزار سے ایک لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔ میں نے ایک گورکن سے پوچھا کہ چاچا، قبر مہنگی کیوں ہو گئی ہے؟ وہ مسکرا کر بولا کہ باجی، زندوں نے زمین کھا لی ہے، مردوں کے لیے جگہ ہی نہیں بچی۔ ایک ماں اپنے جوان بیٹے کو دفنانے آئی۔ اس کے پاس پانچ ہزار تھے، مگر اس سے پچاس ہزار مانگے گئے۔ وہ قبرستان کی دیوار کے ساتھ بیٹھ کر رونے لگی۔ اس کے آنسو اس مٹی سے زیادہ قیمتی تھے، جس میں اس کا بیٹا دفن ہونا تھا۔
حل مشکل نہیں، اگر نیت ہو۔ پہلا حل یہ ہے کہ ہر بڑے شہر میں ماڈل قبرستان بنائے جائیں، جیسے لاہور میں شہرِ خموشاں بنایا گیا ہے۔ وہاں ایک ریٹ ہو، ایک نظام ہو، رسید ملے اور کوئی اضافی رقم نہ لی جائے۔ کراچی کے لیے اعلان کردہ 2500 ایکڑ زمین پر فوری عمل درآمد ہو۔ دوسرا حل یہ ہے کہ ہر نئی ہاؤسنگ سوسائٹی کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنی کل زمین کا ایک فیصد قبرستان کے لیے وقف کرے۔ پہلے زمانے میں لوگ زمین، کنواں اور مسجد وقف کرتے تھے، آج اسی روایت کو قانون بنانا ہو گا۔ تیسرا حل یہ ہے کہ قبر کو سادہ رکھا جائے۔ علماء کرام جمعے کے خطبے میں بتائیں کہ سادہ قبر سنت ہے، اس میں ثواب زیادہ ہے اور خرچہ کم ہے۔ اگر قبر سادہ ہو گی تو جگہ بھی کم لگے گی اور قیمت بھی کم ہو گی۔ چوتھا حل یہ ہے کہ وقف کا نظام بحال کیا جائے۔ مخیر حضرات اور صاحبِ ثروت لوگ زمین قبرستان کے لیے وقف کریں۔ یہ صدقہ جاریہ ہے، جو قیامت تک ثواب دیتا رہے گا۔
سعادت حسن منٹو نے کہا تھا کہ موت سب سے بڑی برابری ہے۔ ہم نے جینے میں تو برابری ختم کر دی، کم از کم مرنے میں برابری رہنے دیں۔ آخر میں اتنا کہوں گی کہ غریب آدمی ساری زندگی اپنے بچوں کے لیے چھت بنانے کی فکر میں رہتا ہے۔ کم از کم مرنے کے بعد اسے دو گز زمین سکون سے ملنی چاہیے، بغیر قیمت کے اور بغیر سفارش کے۔ کیونکہ قبر کسی کی جاگیر نہیں، یہ ہر انسان کا آخری گھر ہے۔
مزید پڑھیں





